Find us on Facebook
Problems Faced by Women Voters during casting their votes.
Polling Staff without Polling Material
Gallery
ddd_8595 ddd_8592 ddd_8577 ddd_8571 ddd_8568 ddd_8565

دہشت گردی کا پاکستان ساختہ حل…گریبان

برادر عزیز حامد میر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ”پاکستان ساختہ“ حل پیش کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا

دہشت گردی کا پاکستان ساختہ حل...گریبان

دہشت گردی کا پاکستان ساختہ حل...گریبان

ہے کہ وطن عزیز میں مذہبی انتہاپسندی کے مقابلے میں لبرل انتہاپسندی میدان عمل میں آتی دکھائی دیتی ہے اور یہ دونوں ایک جیسی خرابیاں ہیں ۔ بلاشبہ انتہاپسندی دائیں بازو کی ہو یا بائیں بازو کی مذہبی ہو یا لبرل انتہاپسندی ہی ہوتی ہے اور انتہاپسندی میں توازن، جواز، دلیل، برداشت اور انصاف کی گنجائش نہیں ہوتی مگرحامد میر نے اپنے تجزیئے میں دہشت پسندی کے خلاف جنگ کا جو ”پاکستان ساختہ“ حل پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہ ہماری ناقص سمجھ میں نہیں آسکا یا اسے تلاش کرنے میں مشکل پیش آئی ہے۔ صرف یہ اندازہ ہوسکا کہ بانی ٴ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات پر عمل کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو مولانا فضل الرحمن کا طرز ِ عمل اپنانا چاہئے اور آزادی ٴ اظہار اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کے تمام فرائض انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے کردینے چاہئیں۔ یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ”پاکستان ساختہ “ حل وہی ہے جو پہلے جنرل ضیاء الحق اور پھر جنرل پرویز مشرف نے اپنایا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کی بجائے دہشت گردی کو حل کیا جائے جیسے چائے اور دودھ میں چینی حل کی جاتی ہے اور یوں انتہاپسندی سے خوگر ہونے کے بعدانتہاپسندی خودبخود غائب ہو جاتی ہے جیسے شاعر نے کہا تھا:
رنج سے خوگر ہو گر انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مگر بہت سے لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو لاہور ہائی کورٹ میں احمد رضا قصوری کے والد صاحب کے قتل کی سازش قبول کرلیتے تو مولوی مشتاق انہیں باعزت طور پر بری کردیتے بلکہ یہ بھی قرین قیاس نہیں ہے کہ اس طریقے سے پاکستان کی قومی تاریخ لیاقت علی خان سے بینظیر بھٹو تک کے خون سے لہولہان ہونے سے بچ گئی ہوتی۔ اسی طرح ہمارے پیارے دوست پروفیسر وارث میر اگر عورت کی آدھی گواہی کے خلاف احتجاج صرف عاصمہ جہانگیر کے حوالے کرکے خاموشی اختیارکرتے تو مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے ان کے بچوں کی جان کے دشمن نہ بن گئے ہوتے۔
دہشت گردی اور بنیاد پرستی کوختم کرنے کے لئے دہشت گردوں اور بنیاد پرستوں کے ساتھ حل ہو جانے کی پالیسی اگر ہمارے پڑوسی ممالک بھی اپنا لیتے تو ماؤزے تنگ اور چو این لائی کا کوئی وجود نہ ہوتا اور ہندوستان صرف ارون دھتی رائے سے ہی نہیں موہن داس کرم چند گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو اور سبھاش چندر بوس سے بھی محروم رہتا۔ یہ پالیسی شاید قیام پاکستان کی وجہ بھی نہیں بن سکتی تھی اور 1947 کے فسادات میں لاکھوں انسانی زندگیاں ضائع ہونے سے بچ سکتی تھیں۔
ایک اورخبرکے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ فی زمانہ مذکورہ بالا سیاست ”گندی سیاست“ کہلانے لگی ہے اور گندی سیاست کا زمانہ گزر چکا ہے۔ یہ صاف ستھری، شفاف اور آرپار دکھائی دینے والی سیاست کا زمانہ ہے اور صاف ستھری سیاست میں یہ طے پایا ہے کہ عام انتخابات کے ذریعے حکمران منتخب ہونے والوں کاایجنڈا اپوزیشن والے تیار کرکے دیں گے جس کو قبول کرنا حکمرانوں کا فرض اولین ہوگا۔ اس کے عوض اگر اپوزیشن کو ”دوستانہ اپوزیشن“ کہا جائے گا تو وہ اسے ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں قبول کرلے گی۔
یہی پالیسی گر دہشت گردوں اورانتہاپسندوں کے خلاف جنگ کے ”پاکستان سٹائل“ میں استعمال کی جائے گی تو مذہبی انتہاپسندوں کا یہ کام ہوگا کہ وہ لبرل انتہاپسندوں کے لئے دس یا گیارہ نکات پرمشتمل ایجنڈا تیار کریں اور اس پر عملدرآمد کے لئے چالیس پچاس دنوں کا الٹی میٹم دیں اور لبرل انتہاپسندوں کو ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں ان نکات کو قبول کرنا پڑے گا جس کے بعد دائیں اور بائیں، مذہبی اورلبرل انتہاپسندی کی تفریق ختم ہوجائے گی بلکہ دہشت گردی بھی دہشت گردی نہیں رہے گی۔ اُسامہ بن لادن بارک اوبامہ ہوجائیں گے اور بارک اوبامہ اُسامہ بن لادن ہو جائیں گے۔
حیرت ہوتی ہے کہ اپنی قومی زندگی کے 63 سالوں میں ”بنیادی جمہوریت“ سے ”لبرل روشن خیالی“ تک بے شمار تجاویز کو برداشت کرنے والے پاکستان میں یہ تجویز پہلے کسی ذہن میں کیوں نہیں آئی۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ سوچا ہو مگراس کو بیان کرنا مناسب اور موزوں نہ سمجھا ہو کیونکہ بعض شاندار تجاویز کو منظر عام پر لانے کے لئے بھی ہمت اور جرأت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کی عدم موجودگی میں ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں بہت ساری تجاویز اپنی موت آپ ہی مرجاتی ہیں۔ اگر یہ تجویز پہلے سامنے آگئی ہوتی تو بہت سارا خون ناحق رزق خاک بننے سے بچ جاتا اورپوپ بینڈکٹ کو بھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

Leave a Reply