ہرچوتھاپاکستانی خط غربت سےنیچے
پاکستان میں اعدادوشمار پر نظر رکھنے اور مختلف اعشاریوں کی ترقی وتنزلی کے نگران ادارے وفاقی ادارہ

ہرچوتھاپاکستانی خط غربت سےنیچے
شماریات کے مطابق پاکستان میں 2008-09 کے دوران بیروزگاری کی شرح 5.5فیصد اور بیروزگار افراد کی تعداد29 لاکھ تھی جب کہ ملک میں ہر چوتھا شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذار رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈنیشن ڈویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے جاری کردہ2009 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 22.6فیصد آبادی یو میہ 1.25ڈالر سے کم آمدن پر زندگی بسرکر رہی ہے۔
مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی رپورٹس کے مطابق 2010 تک پاکستان کے 13 فیصد نوجوان بیروزگار تھے جبکہ ایک سال میں ملک کے 28 فیصد گھرانوں کے معاشی حالات بدتر ہوئے ہیں۔
عالمی اداروں کی مختلف رپورٹس کے مطابق بھارت میں صورتحال اس سے ذیادہ ابتر ہے جہاں41 فیصد آبادی 1.25 ڈالر سے کم آمدن پر گذربسر کررہی ہے ۔
دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں یہ تناسب بنگلہ دیش میں 50فیصد ، سری لنکا میں 14 فیصد، نیپال میں 55 فیصد اور بھوٹان میں 26 فیصد ہے۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک میں غربت کے حوالے سے 5 ویں اور دنیا میں101 ویں نمبر پر ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کےدو برس قبل کئےگئے سروے”پورٹل اسٹرکچرمارک اپ لینگویج” میں شامل 28.3فیصد گھرانوں کی 2010 میں معاشی حالت گذشتہ برسوں کی نسبت خراب ہوئی جبکہ 4.7گھرانوں کی معاشی حالات بدترین ہوگئے۔
مزدوروں کے عالمی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں انفارمل سیکٹر سے وابستہ ڈیڑھ ارب مزدور معاشی حالات اور ملازمت کے تحفظ کے اعتبارسے غیر یقینی کا شکار ہیں جبکہ 2009 تک دنیا میں بیروزگاری کی شرح 6.6 فیصد تک پہنچ چکی تھی جبکہ 2009 تک پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 13.4ہوگئی تھی۔
ورلڈ بینک کے مطابق دنیا میں ایک ارب 40 کروڑ انسان روزانہ سوا ڈالر کی آمدنی پہ جی رہے ہیں، کم آمدنی والے لوگوں کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ غربت کے مارے 59 کروڑ 40 لاکھ افراد جنوبی ایشیا میں ہیں جبکہ ایسے افراد کا دوسرا بڑا مسکن افریقہ ہے جہاں 39 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گذار رہے ہیں ۔