سندھی ، بلوچی، پنجابی کے فرق کو مٹا کر متحد ہو کر پاکستان کوایک اپنا ملک اور اپنا قوم کی حیثیت سے منوانہ ہے
سینٹر فار سوک ایجوکیشن اور فورم آف فیڈریشنز کے تعاون سے ویمن میڈیا سینٹر نے ’’وفاق کو سمجھنے کی

فوزیہ شاھین شرکاءسے اظہار کرتے ہوہے
کوششیں‘‘ کے موضوع پر ایک سمینار کا انعقاد کیا ۔ اس سیمینار میں صحافت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے شرکت کی ۔ شیر محمد کھیاڑو، ذوالفقار روہوچو، عظمیٰ بلوچ وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ سینئر صحافی جی این مغل نے اس تقریب کے مہمان خصوصی کے فرائض انجام دیئے۔ سینئر صحافی نذیر لغاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی نظام پر یاست کی اولیں ضرورت ہے اور یہ وفاق کا نظام اس رہاست کی ضرورت کے مطابق طے کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کا وجود 14 اگست 1947 کو دنیاکے نقشے میں مختلف قومی وحدتوں کو ملا کر اُبھارا گیا تھا۔ اس وقت نے اب تک سول اور ملٹری بیوروکریسی نے مل کر ملک کے نظام کو عوام دوست بنانے کے بجائے بیرونی قوتوں کے مفادات کا محافظ بنا دیا ہے جس کی وجہ سے اب تک پاکستان کی عوام کے مسائل حل نہیں ہو پاتے ہیں۔ یہاں آنے والے ہر حکمراں نے وفاقی نظام کو جبر کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے ‘‘۔
انہوںنے کہا کہ ’’پاکستان میں صوبوں ، ان کے اختیارات زبانوں کافی تنازعات ہیں ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے پاس وسائل اور سوسائٹی کو لے کر کوئلے اور گیس جیسے قدرتی وسائل ہیں پاکستان کے صوبوں کے درمیان ان کو اکائیوں کے درمیان اگر ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو پاکستان کے بیشتر مسائل حل کئے جا سکتے ہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں سندھی ، بلوچی، پنجابی کے فرق کو مٹا کر متحد ہو کر پاکستان کوایک اپنا ملک اور اپنا قوم کی حیثیت سے منوانہ ہے اور یہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب صوبوں کے درمیان امتیازات کو طلائے طاق رکھ کر فرائض اور اختیارات کی تقسیم منصفانہ انداز میں کی جائے‘‘
آخر میں فوزیہ شاھین نے تمام شرکاء کو اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور موضوع سے متعلق سوال و جواب کا سلسلے کی دعوت دی۔ جس میں تمام صحافیوں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ تقریب کے اختتام پر فوزیہ شاھین نے مہمان خصوصی اور صحافیوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔