ایتھوپیا نے وفاقیت کے ذریعے متنازع مسائل پر قابو پایا

پروفیسر ڈاکٹر وجے کیلکر ’’فورم آف فیڈریشنز‘‘ کے بورڈ میں چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں۔ جنوری 2010ء تک بھارت فنانس کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ ڈاکٹر کیلکر بھارت کے سرکاری اور نجی شعبوں میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ مختلف ادوار میں مشیر وزارت فنانس، سیکریٹری فنانس، چیئرمین ٹیرف کمیشن، سیکریٹری وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ جبکہ بین الاقوامی سطح پر عالمی مالیاتی فنڈکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (برائے بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان) اور اقوام متحدہ کے عالمی تجارتی ڈویژن برائے (جنیوا، سوئٹزر لینڈ) میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔
gاس تین روزہ کانفرنس پر آپ کیا اظہار خیال کریں گے ؟
٭یہ کانفرنس اس لحاظ سے بہت منفرد تھی کہ یہ افریقہ میں منعقد ہوئی ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایتھوپیا نے وفاقیت کے ذریعے اختلافی مسائل پر بہت کامیابی سے قابو پالیا ہے اور جب ہم یہاں ترقی کی رفتاردیکھتے ہیںتو یہ خیال اور بھی پختہ ہو جاتا ہے میرا مطلب یہ ہے کہ معیشت مضبوط ہورہی ہے ، لوگ ایک دوسرے کے تفرقات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں ، اور یہ پورے افریقہ کے لیئے بہتر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں یہاں ہوں۔ اُمید ہے کہ کانفرنس کے ذریعے یہ پیغام پورے افریقہ میں بھی جائے گااور دیگر ممالک میں بھی۔ صرف ایک ہی سوچ اور فکر بہتری لا سکتی ہے ، معیشت کو بہتر کر سکتی ہے دراصل یہ ایک مثبت پیغام ہے، افریقہ کے لئے، ایشیا کے لئے ، اور دنیا کے تمام حصوں کے لئے ۔
g کیا آپ سمجھتے ہیں کہ افریقہ میں ترقیاتی کاموں کے لیئے فنڈز کی فراہمی کے لئے یہ کانفرنس پوری دنیا کی توجہ افریقہ کی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہو پائے گی؟
٭مجھے لگتا ہے کہ یہ تو دنیا کو دکھانا ہی ہو گا ، افریقہ بھی بہت اہم سیاسی تبدیلیوں سے گزررہا ہے ، سیاسی اصلاحات ہو رہی ہیں ، اداروں میں فکری پختگی بڑھ رہی ہے اور جہاں فکری پختگی ہو وہاں بہت مثبت پیغام ہوتا ہے اسلئے مجھے یقین ہے کہ عالمی برادری ضرور اس کا نوٹس لے گی اور اس سے افریقہ جاگ اُٹھے گا۔
g کانفرنس کے انعقاد میں آپ کو کیا چیلنجز پیش آئے ؟
٭ایک چیلنج توسینکڑوں مندوبین کے قیا م و طعام کے بندوبست کا تھا ۔ تمام مواد کو وقت پر تیار کرنا، بہتر پیپر کا بر وقت حصول، مختلف مندوبین تک رسائی، متعلقہ موضوع کے لئے اعلی ماغ جو ایک تھیم تیار کر سکے اور دنیا کے مختلف حصوں سے مثالی کیس اسٹڈیز حاصل کر سکے۔ان تمام چیزوں کو یکجا کرنے کے ساتھ بہترین مقررین کی دستیابی بھی مشکل ترین مرحلہ تھا کیونکہ یہ سب مصروف لوگ ہوتے ہیں اور ان سے پیشگی وقت لینا پڑتا ہے اسلئے میرے خیال میں فکری مواد کا بروقت حصول اورتمام کاموں میں ردھم پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔
g تو کیا کانفرنس ان چیلنجوں سے نبرد آزما ہو سکی ؟
٭مجھے ذاتی طور پر تو یہی لگتا ہے ۔کانفرنس کے تمام انتظامات بشمول مواد سب کچھ بہت عمدہ قسم کا تھا اور ایتھوپیا میں نوجوان اسکالروں کے خیالات سن کر بہت خوشی ہوئی۔
g آپ پاکستان کو ایک وفاقی ریاست کے طور پر کیسے دیکھتے ہیں ؟
٭میرے خیال میں پاکستانی آئین کی اٹھارویں ترمیم نے پورے گیم کو تبدیل کر دیا ہے ۔ یہ تبدیلی پاکستان کے لیئے قابل تعریف ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے کہ اب معاشرے  کی ہر سطح کو اختیارات میں شراکت داری دی جائے گی، ملک کے تمام حصے اس میں شامل ہوں گے ۔ میرے خیال میں یہ بہت اہم اور پاکستان میں گیم کو تبدیل کردینے والا معاہدہ ہے ۔
gانڈیا ایک بڑی وفاقی ریاست ہے ، جس کے کئی صوبے ہیں اور ان کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں ۔ اُن میں تنازعات بھی موجود ہیں۔ مگر پاکستان ایک اُبھرتی ہوئی جمہوریت ہے تو مستقبل میں پاکستان کو وفاقیت کے نظریات پر کن مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہو سکتا ہے ؟
٭میرے خیال میں ایک مشکل جو پاکستان کو ہو سکتی ہے میں یہ نہیں کہہ رہا کہ لازمی طور پر ایسا ہو گامگر ایسا ہو بھی سکتا ہے ۔ اگر آپ صوبائی ریاستوں کی تشکیل دیکھیں تو اس میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر آبادی کے لحاظ سے پنجاب بڑا صوبہ ہے جبکہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان بڑا ہے۔ ابھی تک ہم وفاقیت میں وسعت دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ نئے مالیاتی تبادلوں کی طرف بڑھ سکیں، مثال کے طور پر کئی دوسرے وسائل کی شراکت میں بھی ہر کمیونٹی کو برابری اور ضرورت کی بنیاد پر حصہ ملے اسلئے ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے ایک بڑے حصے کو اپنا اہم رول ادا کرنا پڑے تا کہ وفاقیت برقرار رہے۔
gمیں نے مشاہدہ کیاہے کہ اس کانفرنس میں مختلف اسٹیک ہولڈر، پارلیمنٹرین ، قانون ساز،مختلف محکموں اور وزارتوں کے افسران اورشعبہ تعلیم سے متعلقہ بہت سے افراد نے شرکت کی مگر مجھے کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی شمولیت بہت کم لگی۔ کیوں ؟ اگر آپ اپنے نظریات سے لوگوں کو آگاہی دیناچاہتے ہیں تو میڈیا کو اس پوریی کانفرنس میںجگہ کیوں نہیں دی گئی؟
٭بالکل درست ! آپ نے ایک اہم نکتہ اُٹھایا ہے ۔ ہم کوشش کریں گے کہ اپنی اگلی کانفرنس میں میڈیا کی بڑی تعداد کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔
gوفاقیت ایک نظریہ ہے جس میں اچھی حکمرانی کے لیئے اقتدار اوپری سطح سے نیچے کی سطح تک منتقل کیا جاتا ہے مگر تیسری دنیا میں عموماََبدعنوانی ایک اہم مسئلہ ہوتاہے ۔ آپ کی رائے میں مالیاتی اصلاحات کے ذریعے پاکستان یاکسی دوسری وفاق میں اس معاملے پر قابوپایا جا سکتا ہے؟
٭میرے خیال میں اسکینڈی نیوین ممالک دنیا کے بہترین ممالک میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں اختیارات کی عدم مرکزیت ہے اس لئے زیادہ تر اخراجات لوگوں پر ہوتے ہیں اور احتساب کا عمل بھی موجود ہوتا ہے ۔ یہ نظام جتنا اچھا ہوگا اتنے ہی اچھے نتائج ملیں گے۔ ہو سکتا ہے یہ میرا عقیدہ ہو مگر اسکینڈی نیویا کی طرح دوسرے ممالک کے تجربات یہی کہتے ہیں کہ اس سے گورننس میں بہتری آتی ہے ۔
gپاکستان کو فورم آف فیڈریشن کا ممبر بننے کے لیئے کیا قدم اُٹھانا چاہیئے؟ اور یہ پاکستان کو کس قسم کا فائدہ پہنچائے گی؟
٭ممبر بننا بہت آسان ہے ۔ ہمیں حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے میں بہت خوشی ہو گی پاکستان سمیت دیگرممبر ممالک کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ سیکھنے کا عمل بہت تعمیری ہوتا ہے بصورت دیگر اتنی معلومات تک رسائی مشکل ہوتی ہے یا پھر یہ بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہے ۔ کیونکہ یاد رہے یہ ایک عملی نیٹ ورک ہے نظریاتی نہیں ۔ تجربہ کار لوگوں کا نیٹ ورک لوگوں سے ملاقات کرتا ہے اور انھیں بتاتا ہے کہ کون سا طریقہ کامیاب رہا اور کون سا ناکام، انھوں نے اپنی زندگی میں کیا کیا اور کیا نہیں کیا ۔چنانچہ یہ سب کے لیئے بہترین موقع ہے اور دوسرے ممالک پاکستان سے سبق سیکھیں گے ۔ مثال کے طور پر پاکستان کا تیل اور گیس کے ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ دنیا کے دیگر وفاقوں کے لیئے اہم ہو سکتا ہے ۔ میرے خیال میں یہاں سیکھنے کا عمل انتہائی موثر ہے اور ہم ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
gکیا آپ کو لگتا ہے کہ وفاقیت جمہوریت کے لیئے ضروری ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتیں؟
٭میرے خیال میں دنیا کے ہمارے حصے میں یہ انتہائی ضروری ہے ۔ وفاقیت کے بغیر جمہوریت نہیں ہو سکتی اور جمہوریت کے بغیر وفاقیت نہیں ہو سکتی۔ یہ دونوں جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں۔
gآپ متحدہ عرب امارات کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟ یہ ایک وفاق ہے مگر وہاں جمہوریت نہیں۔ آپ دوسری وفاقی ریاستوں سے اس کا موازنہ کیسے کریں گے؟
٭ایک متحرک وفاقیت کے لیئے متحرک جمہوریت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دنیا کے اس حصے جنوبی ایشیا میں جہاں ہم رہتے ہیں وفاقیت بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ دنیا کے دوسرے حصوں پر میں تبصرہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میں اُن کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ۔ مگر ہمارے خطے میں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ جمہوریت اور وفاقیت ۔
٭آپ چین کے بارے میں کیا کہیں گے کیونکہ اس کے پاس معاشی طاقت بھی ہے اور ایک پارٹی کی حکومت ہے، مگر یہ نہ تو جمہوری ہے اور نہ ہی وفاقی اس کے باوجود ایک کامیاب ریاست ہے؟
g آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں ؟
٭چین پچھلے بیس سالوں میں نہایت کامیابی سے ابھرا ہے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے وہ ایک معجزہ ہے مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی معاشرت دو ہزار سال کی تہذیب سے جڑی ہے جبکہ وفاقیت دو سو سال پرانی بھی نہیں ہے ۔وفاقیت کی بھی کچھ سماجی اقدار ضرور ہوتی ہیں مگر ان ملکوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنکے پاس کوئی ماضی کی میراث نہیں ہو گی۔ چین نے اپنا ایک راستہ بنایا ہے اور وہ اس پر کامیابی سے گامزن ہے ۔ چین کے پاس اقتدار کی ایک عظیم اور قدیم تہذیب ہے۔ میرے خیال میں چین کے پاس دو ہزار سال قدیم تہذیب ہے جسے وہ نہایت عمدگی اور خوبی سے پروان چڑھا رہے ہیں اور اس پر عمل کرنے کا ان کا اپنا طریقہ کار ہے۔ اس سے چین میںبہت ترقی بھی ہوئی مگر یہ اُن کی اپنی کہانی ہے۔
g پاکستان ایک وفاقی ریاست بننے کی کوشش کر رہا ہے مگرابھی نچلی سطح پر اختیارات نہیں ہیں ۔ بالخصوص مالیاتی اقتدار اور بیوروکریسی عوام کو اقتدار دینے کے لیئے تیار نہیں ہے؟
٭دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک میں عمومایہ مسئلہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔
gجی ! مگر اس پر قابو کیسے پایا جائے ؟
٭اس میں وقت لگے گا مگر وہ اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیں گے۔ ہر ملک اپنا راستہ خود ڈھونڈلے گا کیونکہ اس کا مطالبہ عوام کی طرف سے کیا جائے گا۔ مسئلہ تو ہے مگر ہمیں صبر کرنا چاہیئے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ راستہ ضرور تلاش کرلیں گے۔
gاس کانفرنس سے ہم نے کیا حاصل کیا؟ کوئی ایسے تین نکات جو آپ بتانا چاہیں؟
٭میرا خیال ہے کہ فورم میں افریقہ کے معاملات کو اچھی طرح پرکھا گیا۔ ہم نے بہت کچھ سیکھا، ہم نے اس پروگرام میں بہت غوروخوض اور بحث کی جو ہمیں افریقہ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بہتری کے لیئے مدد دے گا۔دوئم یہ کہ ہماری تحقیقات کے آئینے میںوفاقیت کے ڈیزائن کی بہتری کے لیئے مدد دے گا اور ہم کوشش کریں گے اُن نئے علاقوں کی شناخت کریں جہاں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارایہ پروگرام عالمی بحث و مباحثے سے بھرپوررہا اوراس کے ذریعے ہمارے سامنے نئی جہتیں آئیں۔ مثال کے طور پراس کانفرنس میں قدرتی وسائل پر بات کی گئی جیسا کہ پانی کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ کئی نئے معاملات کو بھی اُٹھایا گیا مثال کے طور پر صنفی تفریق، اسی طرح کئی ایشوز جن پر پہلے ہم نے کبھی کام نہیں کیا اس لحاظ سے یہ کانفرنس بہت اہم ہے۔
gمیں نے خواتین کے مسائل پر سب سے سوال کیا، میرا مطلب ہے کہ اب تک منعقد کی جانے والی کانفرنسوں میںپہلی دفعہ ان مسائل پر بات کی گئی ہے جو ایک اچھی بات ہے اور اگلی دفعہ اس موضوع پر مزید گفتگو ہونی چاہیئے؟
٭بالکل ! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔
gبہت بہت شکریہ ۔ آپ کچھ اور کہنا چاہیں گے ؟
٭نہیں۔ میں بہت پُرخلوص اُمید رکھتا ہوں کہ پاکستان جلد فورم آف فیڈریشن کے پارٹنر ممالک میں شامل ہو جائے گا یہ باعثِ خوشی ہو گا۔ میں بھارت سے آیا ہوں اور ذاتی طور پر پاکستان سے تعلقات کو بہت اہم سمجھتا ہوں کیونکہ ہم پڑوسی ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہیئے۔

Leave a Reply