تیونس کے بعد مصر کے التحریر اسکوائر پر عوامی انقلاب کی لہر جب تخت اچھالے جائیں گے
گذشتہ ڈیڑہ ماہ سے عرب دنیا کی عوام سر جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔آمرانہ طریقہ حکومت سے عوام تنگ آگئے ہیں۔ایک ہی شخص کئی دہائیوں سے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں کہ بھائی حسنی مبارک صاحب 1981 سے اب تک تیس سال سے آپ بیٹھے ہوئے ہیں، کیوں؟ انتخابات کے ڈھونگ میں تیونس سے لیکر مصر تک کے لوگوں کے ساتھ دھوکے کئے گئے ہیں؟ پھر تو نیلسن منڈیلا پاگل تھا جس نے اپنی قوم کوراہ نجات دکھائی اور کچھ ہی عرصے کے بعد اپنے عہدے سے علحیدہ بھی ہوگئے اوردوسروں کے لئے راستے کھولے۔ زبان سے جمہوریت کا نام لینے والوں کا ادر اصل آئیڈیل بادشاہت ہی ہوتی ہے۔جس میں کوئی بادشاہ سے پوچھنے کی جرات نہ کر سکے۔
تیونیس کے بعد اب مصر میں لاکھوں لوگوں کا سمندر شہر کے وسط میں امنڈا ہوا ہے اور لوگ کہ رہے ہیں کہ حسنی مبارک چلے جاؤلیکن تیس سال کے بعد بھی وہ مزید اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔اقتدار آسانی سے کون چھوڑتا ہے۔پھر فروری 2011ء کو حسنی مبارک نے بھی وہ ہی نسخہ آزمایا جوجنرل پرویز مشرف نے 12 مئی 2007ء کو کراچی میں آزمایا تھا۔یعنی کہ اپنے لوگوں کو اپنے مخالفین کے خلاف میدان میں اتارا تھا۔اس روز قاہرہ کی سڑکوں پرحسنی مبارک کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان ٹکراؤ جاری رہا ۔ اس میں البتہ ایک فرق پھر بھی ہے کہ جنرل مشرف کے حمایتیوں نے کراچی میں پچاس سے زائد لوگوں کو قتل کردیا تھا لیکن قاہرہ میں تین افراد قتل ہوئے اور بڑی تعداد میںزخمی بھی ہوئے۔
عرب دنیا میں اٹھنے والے عوامی طوفانوں نے ساری دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔فی الحال افغانستان سمیت دیگر اشوز لوگوں کے ذہن پر نہیںلیکن ایک طرف قاہرہ میں عوامی قوت سڑکوں پر تھی تو دوسری جانب پاکستان میں انتہا پسند دہشتگرد بھی خاموش ہو کر نہیں بیٹھے تھے۔جنوری کے آخر اور فروری 2011 کی ابتداء میں دہماکوں کی ایک سیریز شروع کررکھی تھی۔وہ دنیا کی توجہ اپنے پر سے ہٹنے نہیں دینا چاہتے تھے۔
قاہرہ کا التحریر چوک کئی دنوں سے لاکھوں لوگوں سے اٹا ہوا ہے۔احتجاج کرنے والے کوئی پر تشدد کارروائی کرنے سے گریز کر تے رہے ۔انہوں نے احتجاج میں شامل ہونے والوں کی شفٹیں بنا لیں تھی تاکہ چوبیس گھنٹے احتجاجی دھرنہ جاری رہ سکے۔جو لوگ صبح کو بیٹھ رہے تھے وہ شام کو گھروں کو واپس جاتے اور پھر تازہ دم افراد رات بھر کے احتجاج کے لئے پہنچ جاتے۔ احتجاج کرنے والوں کی جانب سے ایمرجنسی اسپتال بھی قائم کر لئے گئے تھے۔حسنی مبارک کے حامی ، حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ملک کا غدار تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حسنی مبارک جدید مصر کے معمار ہیں اس کے ان کے خلاف اتنا بڑ احتجاج بیرونی طاقتوں کے اشارے پر ہو رہا ہے۔لیکن التحریر اسکوائر میں کئی دنوں سے موجود لوگ حسنی مبارک کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے وہ اب اسے مصر پر بوجھ تصور کرتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ مصر میں حکومت کی تبدیلی سے شاید مذہبی شدت پسندحکومت پر قابض ہو جائیں لیکن مصر کے مفتی اعلیٰ علی جومع نے حسنی مبارک کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے حسنی مبارک کے مخالف مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ لیکن ملک کے مذہبی رہنما تو ،حسنی مبارک کے حمایتی نظر آتے ہیں۔مصر کے مفتی اعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو سعودی عرب کی جانب سے بڑی مالی مدد حاصل ہوتی رہتی ہے۔
دوسری جانب مصر کی فوج نے مظاہرین پر براہ راست گولی چلانے سے تو انکار کردیا تاہم ہوائی فائرنگ کرتے رہے ۔وہ فقط آہنی ماسک پہنے التحریر اسکوائر پر مظاہرین کے گرد موجود رہے ۔فوج نے مظاہرین کو اپنے گھروں کو چلے جانے کا مشورہ دیا لیکن اپوزیشن نے یہ مشورہ ماننے سے انکار کردیا ۔ التحریر چوک سے صدراتی محل تک کے راستے کوکنکریٹ کے لمبے بلاکس رکھ کر بند کردیا گیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے بدھ دوفروری 2، 2011ء کو التحریر چوک پر احتجاج کرنے والوں پر تشدد کی سخت مذمت کی گئی اور یورپی یونین نے حسنی مبارک کو اقتدار منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔حسنی مبارک سے مصر میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے حکمراں پارٹی کی قیادت سے استعفی بھی دے دیا ہے کیا ہے۔لیکن احتجاج کرنے والے اس سے مطمئن نہیں۔مصر میں حزب مخالف کے ایک اہم
رہنما البرادی نے فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ مصر کے شہریوں کے تحفظ کے لئے مداخلت کریںلیکن کہا جاتا ہے کہ مصر کی آرمی اپنے خطے میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے بہت محتاط ہے کہ ایرانی انقلاب کے وقت جب ایرانی جنرلوں نے شاہ کا ساتھ دیا تھا توانقلاب کے بعد ان کے ساتھ کیا حشر ہوااور ترکی میں طیب اردگان کا ساتھ دینے میں آرمی جنرلز کے ساتھ کیا ہوا؟ لہٰذا کہا جاتا ہے کہ مصر کی فوج اپنے عوام کے خلاف کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کر رہی ہے۔
بات محض تیونس اور مصر کی نہیں،اب کہا جاتا ہے کہ عرب دنیا میں تبدیلوں کی ایک زوردار لہر خطے میں سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دے گی۔یہ آگ شاید سعودی شہزادوں کو بھی لپیٹ میں لے لے اس لئے سنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں پہلے سے بندوبست کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ سنا ہے کہ اب لیبیا سمیت اس خطے کی دیگر ممالک کی باری ہے۔جہاں ہر حکمران کئی دہائیوں سے اقتدار پر قابض ہیں۔جہاں عوام کے وسائل کو لوٹا گیا ہے۔