پاکستان میں وفاقی اور صوبائی اداروں کا مستحکم ہونا ضروری ہے

ورنر تھٹ یکم اگست 2008ء سے فورم آف فیڈریشنز سے منسلک ہیں اور بحیثیت نائب صدراپنی خدمات سرنجام دے رہے ہیں۔سوئز وفاقی شعبہ برائے خارجہ تعلقات میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ سوئز ایجنسی برائے ترقی و تعاون میں علاقائی ڈائریکٹر، سربراہ ڈویلپمنٹ پالیسی، سربراہ پلاننگ ڈویژن برائے سوئز وفاقی کابینہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ انہوں نے ’’برن یونیورسٹی‘‘ سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور نیپال پر تحقیقی مْقالہ لکھا۔تھٹ جرمن، انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں پرعبور رکھتے ہیں۔
g وفاقی نظام کس طرح لسانی ، نسلی اورمذہبی اقلیتوں کی بقاء اور سلامتی کے لیے کام کر سکتا ہے ؟
٭٭۔یہ بحث وفاقیت کے مسئلے کی طرح ہی کافی پرانی ہے ۔ کئی مصنفین نے اس موضوع کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے ۔ Professor Ron Watts کی کتاب”Comparing Federal System” اس کی بہترین مثال ہے ۔ میرے اپنے ذاتی خیالات سے ہٹ کر وفاق کے بارے میں سوالات کے جوابات کی بنیاد کم و بیش وہی ہے جو اس مصنف نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ۔ وفاقوں میں اکثر وبیشتر مختلف قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں جوپورے وفاق میں پھیل جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے کسی ایک خطے کی حکومت کے لیے ان کے مفادات کے لیے کام کرنا انتہائی ناگزیر ہوجاتا ہے ۔ اس کی بہترین مثال امریکہ میں افریقی امریکیوں کی ملتی ہے ۔ ان کی تقریباً 80 فیصد آبادی کیوبیک میں فرنچ کینیڈین (French Canadian) کے ساتھ کچھ اس طرح رچ بس گئی ہے کہ اب ان کے زیادہ تر مسائل ومفادات کیوبیک کی صوبائی حکومت کی ذمہ داری بن گئی ہے ۔ تمام گروہ چاہے وہ کسی ایک خطے میں ہوں یا مختلف علاقوں میں بٹے ہوں ان کے ساتھ مساوات و برابری انتہائی اہم ہے ۔ پہلے یہ گروہ اپنے مفادات اور مسائل کے حل کے لیئے کبھی بھی صوبائی حکومت پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ وفاق میں ایسے گروہوں کے مفادات کا بہترین حل یہ ہے کہ  آئین میں ’’بنیادی مساوی حقوق‘‘ کی فہرست مرتب کر کے اس قانون / شق کا اطلاق پورے ملک میں کیا جائے ان جگہوں پر بھی جہاںوفاقی حکومت کو مثبت کاروائی کی ضرورت محسوس ہو ۔ کینیڈا میں 1982 میں ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیئے میثاق آزادی تشکیل دیاگیا تھا ۔ کچھ ممالک میں وفاقی سطح پر ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیئے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے یا کچھ ابھی تشکیل دے رہے ہیں اس کمیشن میں تمام صوبائی حکومتوں کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے ۔ وفاق میں خواتین کے حقوق کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے ۔ خاص طور پر جب وہ آبادی اور وفاق کے نصف حصے پر چھائی ہوئی ہیں ۔ چونکہ خواتین وفاق کی تمام اکائیوں میں مساوی طور پر پائی جاتی ہیںاس وجہ سے عبوری طور پر انہیں خطّوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ وفاقی سطح پر عبوری آئین اور قانون سازی کے ذریعے ان کے بنیادی حقوق ملنے چاہیئے۔ خواتین ملک اور معاشرے کا اہم حصہ ہیں اس وجہ سے ان کے حقوق کا تحفظ صوبائی سطح پر ناممکن ہے ۔ تقریباً تمام وفاقی ممالک (سوائے آسٹریلیا ) کے وفاقی آئین میں ایسے جغرافیائی لحاظ سے پھیلے ہوئے تمام گروہوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنیادی آئین کی فہرست مرتب کی گئی ہے ۔ اس فہرست میں خواتین کے مساوی حقوق کے علاوہ پرانے خیالات رکھنے والے گروہوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے جو معاشرے میں ترقی کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں موجودہ اصلاحات اور بحث و مباحثے کے بعد اب صوبوں کو اختیارات تفویض کئے جارہے ہیں۔ علاقائی اکائیاں اپنے اختیارات کے معاملے میںگہری سوچ و بچار میں مبتلا ہیں کہ وہ وفاقیت کے اہم ،یعنی مرکزی اداروں میںجو ملک میں موجود تمام چھوٹے بڑے گروہوں کی نمائندگی کرتے ہیں ان کو فراموش کر چکی ہیں۔ علاقائی اکائیوں کے ساتھ ساتھ مرکزی اداروں کا مستحکم ہونا لازمی امر ہے ۔ وفاقیت کی اقسام سے قطع نظر چاہے وہ پارلیمانی طرز کی ہو یا صدارتی طرز حکومت وفاق میں اقلیتوں سمیت تمام گروہوں کی نمائندگی ایک لازمی امر ہے ۔
g ۔وفاقی نظام میں کس طرح کا طرز حکومت بہتر نتائج دے سکتا ہے ؟ پارلیمانی نظام ، صدارتی نظام ، آ مریت یا وفاقی ڈھانچے کو کون سا نظام واضح کرتا ہے؟
٭٭۔وفاق میں مرکزی حکومت کی وسیع اقسام پائی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی نظام مثالی نہیں ہے۔ کچھ وفاقی ممالک میں صدارتی طرز حکومت ہے جہاں چیف ایگزیکٹیوکا انتخاب مقررہ مدت کے لیے ووٹرز کرتے ہیں۔ اس طرز حکومت میں صدر اور مرکزی حکومت کے اختیارات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال امریکہ کا وفاق اور لاطینی امریکی ممالک میں قائم مختلف وفاق ہیں ۔ لاطینی امریکہ کے ممالک میں صدارتی اورکانگریس ماڈل کو اپنایا گیا ہے۔ بہت سے وفاقی ممالک نے پارلیمانی طرز حکومت اپنایا ہوا ہے جہاں صدریا بادشاہ صرف رسمی سربراہ ہوتا ہے جبکہ وزیر اعظم مہتم اعلیٰ ہوتا ہے اور اپنی کابینہ میں مجلس قانون ساز کے منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر اپنے فرائض کی انجام دہی کرتا ہے ۔ جب تک انھیں ایوان میں اکثریتی حمایت حاصل رہتی ہے تب تک یہ اپنا کردار بخوبی نبھاتے رہتے ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک اور سابق برطانوی کالونیوں میں پارلیمانی نظام حکومت برسوں سے رائج ہے مثلاً آسٹریا، بیلجیئم ، جرمنی، اسپین، کینیڈا، آسٹریلیا ، ملائیشیا ، انڈیا وغیرہ ۔ وفاقی طرز حکومت کی تیسری مثال پارلیمانی اور صدارتی دونوں طرز کا ملا جلا نظامِ حکومت ہے۔ اس میں صدر کے پاس عاملہ کے اختیارات ہوتے ہیں جبکہ وزیر اعظم اور کابینہ مجلس قانون ساز کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں ۔ پاکستان، روس اور غیروفاقی ملک فرانس اس طرز حکومت کی واضح مثال ہے ۔
صدارتی نظام کے استحکام کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ صدر کا انتخاب مخصوص مدت کیلئے ہوتا ہے جبکہ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اختیارات کا منبع صرف صدر ہی ہوتا ہے یا کبھی اختیارات کی تقسیم صدرارتی یا کانگریسی نظام میں صدر اور کانگریس کے درمیان ڈیڈلاک کی صورتحال بھی پیدا کر دیتی ہے۔ پارلیمانی وفاق کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں تمام گروہوں کی مناسب نمائندگی ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر کینیڈا جہاں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے گروہوں کی پارلیمانی وفاق میں نمائندگی ہے۔ اس کی کابینہ میںتمام صوبوں اور نسلی گروہوںکی نمائندگی ہے۔ اس طرز حکومت میں سیاسی اتحاد اور اشتراک کی شدید ضرورت ہوتی ہے ۔
اس نظام کو سمجھنے کے لئے سوئس حکومت کی وفاقی کونسل کی مثال دلچسپ ہے کیونکہ یہ مخصوص مدت کیلئے ہوتی ہے لیکن اس پر عمل کرنا ہر وفاق کے لیے ضروری نہیں ہے ۔ بنیادی طور پر وفاقی ممالک کو چاہیئے کہ وہ اپنے نظام پر ایک دفعہ نظر ثانی کریں۔ سوئٹزرلینڈ میں ایگزیکٹو کونسل کا انتخاب مقررہ مدت کے لیئے پارلیمنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے اور عاملہ کے ممبران کو باری باری صدارت کے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے ۔ اس طرح تمام اقلیتی نمائندوں ، جماعتوں ، مردوں، عورتوں وغیرہ سب کو ان سات لوگوں کی کونسل میں شامل ہونے کا مساوی موقع ملتا ہے ۔ لہٰذا سوئس ماڈل میں دونوں نظاموں کے فوائد ہیں اور اسے ملک کی ضروریات کے مطابق بڑی عاملہ کے ساتھ اپنایا جا سکتا ہے اور یہ ماڈل سوئٹزرلینڈ کی منفرد سیاسی ثقافت میں ہی کام کر سکتا ہے۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرز کے ماڈل کو دوسرے ممالک پر لاگو نہیں کیا جاسکتا اور اسے صرف سوئٹزرلینڈ کے مخصوص اور منفرد کلچر میں ہی کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے۔جہاں تک آمریت کا تعلق ہے مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں پارلیمانی اور صدارتی نظام کی صورتوں کو وفاقی نظام کی حدود پر رکھنا چاہیئے ۔ لیکن آمریت میں مستحکم حکومت صرف کچھ وقت تک کے لیے ہی قائم ہو سکتی ہے کیونکہ آمریت میں وفاقی نظام کے بنیادی عناصر کی کمی ہوتی ہے۔ ان عناصر میں جمہوریت کے بنیادی رہنما اصول اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام سرفہرست ہیں۔
g۔متحدہ عرب امارات کا وفاقی نظام ایک کمزور وفاقی نظام ہے کیونکہ وہاں پر بادشاہت کا نظام رائج ہے لیکن اسکے باوجود وہاں کی وفاقی اکائیوں میں مثبت اقدامات ہو رہے ہیں ؟ ہر ریاست اپنے فیصلوں میں آزاد ہے اوریہاں مختلف ریاستوںکو مدغم کر کے ایک ریاست کی شکل دی گئی ہے ۔ ایسی ریاستوں میں کرپشن ، بدعنوانی کے مسائل واضح نظر نہیں آتے تو اس طرح کے وفاق میں جہاں کے حکمران انتخابات کے بغیر حکمرانی کر رہے ہوںاس نظام کوآپ کیسے دیکھتے ہیں ؟
٭٭۔متحدہ عرب امارات (UAE) کی بہت ہی دلچسپ صورتحال ہے ۔ وفاق کے وسیع اشتراک کے باوجود بہرحال یہ ایک مثالی وفاق نہیں ہے اور نہ ہی اسے وفاقی ملک کہا جا سکتا ہے ۔ متحدہ عرب امارات کا 1996 میں بنایاجانے والا آئین اسے ایک وفاقی ملک قرار دیتا ہے جبکہ یہ نیم وفاقی ریاست کا کردار اداکر رہی ہے ۔ اس کی بڑے وجہ وفاق کے اہم بنیادی نکات کی عدم موجودگی ہے۔ یہاں Supereme Council of Rulers کے صدر اور نائب صدر کے چنائو کے لئے انتخابات نہیں ہوتے اور Unicameral federal legistlation مشاورتی ادارے کا کام انجام دیتا ہے ۔ وفاقی سطح پر مقننہ اور عاملہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم نہیں ہوتی اور بنیادی مسائل پر فیصلوں کے لیئے ساتوں ریاستوں کے حکمرانوں خاص طور پر ابوظہبی اور دبئی کی رضامندی ضرور درکار ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ متحدہ عرب امارات میں کنفیڈریشن (Confederation) کا نظام ہے یا یہ کہہ لیجئے یہ کمزور وفاقی نظام ہے جوکہ امراء خاص طور پر کسی ایک امیر کے دیئے گئے عطیات پر انحصار کرتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں ایسے مسائل مثلاً کرپشن، مالیاتی مسائل وغیرہ کے معاملات پر نظر رکھنا اوران سے نمٹنا ریاستی سطح پر اکائیوں کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
g۔ترقی کے لیے مساوات اور تنوع میںاتحاد کے موضوع پر ادیس ابابامیں وفاقی نظام پر ہونے والی پانچویں ، بین الاقوامی کانفرنس دوسرے وفاقی نظاموں کو سمجھنے اور پرکھنے کا بہترین موقع تھا لیکن بحیثیت منتظم آپ اس کے نتائج اور اس کی کارکردگی کے بارے میںکیا کہیں گے ؟ کیا اس کانفرنس کے نتائج وہ ہی ہیں جوآپ چاہتے ہیں؟
٭٭۔حقیقتاً فورم آف فیڈریشنز نے اس کانفرنس کی تمام ذمہ داری اٹھائی تھی۔ اس کانفرنس کے نتائج سے میں کافی حد تک مطمئن ہوں اور ہمیں اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ اس کانفرنس کی کامیابی میں ہمارا کردار اہم ترین ہے۔ یہ کانفرنس تمام شرکاء کے لیئے سیکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تجربے بانٹنے کا بہترین موقع تھا۔ ایتھوپیا اور تمام افریقی ممالک کے لیئے بھی خوش آئند بات ہے۔ ایتھو پیا میں کانفرنس کا انعقاد کرنے سے اس ملک کو اپنے وفاقی نظام کے نظریے کو افریقی ممالک اور بین الاقوامی سطح پر واضح کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس کانفرنس میں ہونے والی بحث کے ذریعے ایتھوپیا کے نظام کی خوبیوں ، خامیوں ، کمزوریوں ، قوت اور چیلنجوں کوپرکھنے اور جاننے کا موقع ملا ہے ۔ اس سب کے برعکس ایتھوپیا کی کارکردگی بہت متاثرکن تھی ۔
اگر اس کانفرنس کے معیار کی بات کی جائے تو میں اس میں اس سے کہیںزیادہ مطمئن ہوں۔ تقریباً 282 بین الاقوامی افراد \ شرکاء کی جانب سے دستاویزات پیش کی گئیں۔ بہرحال یہ کامیاب کانفرنس تھی ۔ یہ کانفرنس موضوع کے اعتبار سے تجربات کے تبادلے میں معاون رہی۔ کانفرنس کے دوران افریقی شرکاء کی جانب سے کھلے اور دوستانہ انداز میں اپنے نظام کی کامیابیوں ، غلطیوں ،اطاعت ، فرمانبرداری کی کمی اور ناکامیوں پر بحث و مباحثہ کرنا میرے لئے دلچسپ امر تھا۔
مباحثے سے یہ بات سامنے آئی کہ وفاقیت ترقی پذیر ممالک میں اپنے مسائل حل کرنے کے لیئے اکسیر نہیں ہے اور سیاسی طور پر یہ نظام تیکنیکی وسعت ، سیاسی ہم آہنگی / موافقت کے ساتھ ساتھ ممتاز افراد کی سوچ میں پختگی اور شہریت کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ اس کانفرنس کے ذریعے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ وفاقیت مسائل کے حل کاطریقہ نہیں ہے ۔ اس کے بجائے یہ جمہوری حکومت کے مختلف اصولوںکے جاری رہنے کی مستقل جدوجہد ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹوں سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ وفاقیت امن، استحکام معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے وعدے کو پورا صرف اس وقت کرتی ہے جب جمہوریت اور جمہوری اقرار کا خیال رکھا جائے۔ سیاست میں باہمی احترام ، معاشی سطح پر مساوی سلوک یہ کانفرنس کا سب سے مضبوط اور اہم مقصد تھا۔
g۔آپ نے کئی بار پاکستان کا دورہ کیا ہے ۔کیا پاکستان صحیح معنوں میں وفاقی ریاست کی جانب قدم بڑھا رہا ہے ؟ آپ کا اس سلسلے میں کیا تجزیہ ہے ؟
٭٭۔بین الاقوامی تجزیہ نگاراس چیز کو واضح طور پر محسوس کر رہے ہیںکہ ستمبر 2008 نے پاکستان کے وفاقی نظام کو ایک دفعہ پھر درست سمت پر گامزن کر دیاہے جیسا کہ 1973 کے آئین میں تحریرکیا گیا تھا ۔ میرے خیال میں زیادہ تر تجزیہ نگار اٹھارویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈز ، بلوچستان پیکج اور گلگت/  بلتستان اصلاحات کو صحیح سمت کی جانب اہم اقدمات قرار دیتے ہیں ۔ لیکن کیا یہ سیاسی صورتحال موجودہ حالات میں یا مستقبل میں معاشی حالات پر اثرپذیر ہونگے ؟حالیہ اصلاحات نے صوبوں کو استحکام بخشا ہے ۔ بین الاقوامی تجربات سے سیکھنا بہت اہم رجحان ہے کیونکہ ادارہ جاتی استحکام، ثقافتی اور تہذیبی اختلافات میں اتحاد اور عوامی حکومت مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ بین الاقوامی تجربے سے دراصل یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف گروپوں میں علاقائی سطح پر خودمختاری دینے سے وفاق کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتا ہے خصوصاً ان معاملات میں جو اقلیتی گروہوں پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں یا جو صریحاً ان کی پہچان سے متعلق ہوں۔ مرکزی اداروں مثلاً سینٹ، افواج پاکستان ، سرکاری ملازمتوں وغیرہ میں علاقائی یا خطّوں کی نمائندگی کم ہے،میں نے محسوس کیا ہے کہ بعض وجوہات کی بناء پر حکومتی ایجنڈا میں تقسیم شدہ اختیارات کے بجائے خود مختار اختیارات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ تاہم مرکزی سطح پر اصلاحات ہونی چاہئیں اور عدم مرکزیت کا خاتمہ کیا جائے ، مالیاتی اختیارات کو اوپر سے نچلی سطح تک مساوی طور پر تقسیم کیا جائے ۔ صوبوں اور ا قلیتی گروہوں کو اختیارات تقویض کرنے سے وفاقیت کی نوعیت پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیئے دوسرے وفاقی نظاموں سے بھی کچھ سیکھا جا سکتاہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک دلچسپ اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان متنازع امور سے نمٹنے کیلئے سیاسی عمل ہی بہترین راستہ ہے۔ دیگر ظہور پذیراور نسبتاً نئے وفاقی ممالک کی نسبت پاکستان میں ایسے تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جو 1973 کے آئین کے مطابق پاکستان کو وفاقی ملک کی شکل میں ڈھالنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
g۔ آپ کے خیال میںاطلاقی عمل کے دوران پاکستان کو کیا مشکلات درپیش آسکتی ہیں؟
٭٭۔مندرجہ بالا بیان کئے گئے حقائق شایدپاکستان کے تناظر میں یوںبالکل صحیح بیٹھتے ہوں۔ مستحکم وفاقی نظام کے دو بنیادی عناصر ہیں۔ اوّل یہ کہ متوازی آئینی خاکے ، یعنی مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان مشترک اور مئوثر لائحہ عمل اور علاقائی سطح پر اختیارات کی مساویانہ تقسیم ۔ دوسرا عنصر معاون رجحان ہے جہاں وفاقی اقدار کو عوامی پذیرائی حاصل ہو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آئین کی تشکیل کتنی اچھی کی گئی ہے جب تک عوام وفاقیت کی اصل روح یعنی قانون کی حکمرانی ، مفاہمت، ہم آہنگی، اقلیتوں کا احترام اوربرداشت کو تسلیم نہیں کریں گے تب تک وفاق قائم نہیں ہو سکتا۔
پاکستان میں دوسری وفاقی ریاستوں کی طرح ادارہ جاتی نظام مختلف اقلیتی گروہوںکو اوّلین اہمیت دیتا ہے معاشی ومعاشرتی طبقوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کسی حد تک صحیح ہے خصوصاً معاشی بحرانوںکے حل کیلئے کوششیں کی جائیں جیسے بجلی کی قیمتیں یا ٹیکس کے مسائل وغیرہ کے ساتھ ادارہ جاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے بھی کوششیں ہونی چاہئے۔
میرا خیال یہ ہے کہ معاشی بحران کے بوجھ کے ساتھ ساتھ ملکی دولت کی بھی مساوی تقسیم اچھے مستقبل کے عناصر تصور کئے جاتے ہیں۔ ٹیکس جیسے بنیادی اہم معاملات پر روایتی بالائی اور متوسط طبقے کے درمیان مفاہمت ہونی چاہئے۔ اس کے لیئے مضبوط سیاسی نمائندگی کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کا آپس میں مسائل کے حل کے لیئے ہم آہنگی پیدا کرنا بھی بے حد ضروری ہے ۔ 2011 کی ابتداء میںحکومت کی سب سے بڑی اہم اتحادی جماعت کی جانب سے علیحدگی کے اعلان کے بعد اب اس بات کی زیادہ شدّت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔
مزید براں میں اس بات سے متفق ہوں کہ بین الاقوامی عناصر مضبوط وفاق تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی امداد و تعاون یا عدم تعاون دونوں ملکی تعمیر و ترقی کے لیئے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں ۔اس کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ پاکستان میں اتحادی حکومت قائم رہتی ہے یا نہیں اورپاکستان بین الاقوامی معیار اور توقعات پر پورا اترتابھی ہے یا نہیں۔ یہ براہِ راست یا بلواسطہ طور پرپاکستان کے وفاقی نظام پر اپنے اثرات مرتب کرے گاکہ وہ وفاقیت کی جانب اس طرح گامزن رہے گا۔ دوسرے وفاقی نظاموں اور وفاقی معاملات پر مسلسل مباحث نہ صرف معلومات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ یہ وفاقیت کے لیے بہتر حل بھی پیش کرتے ہیں اس طرح کی مدد سے پاکستان میں عوامی حکمرانی کے قائم رکھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

Leave a Reply