Find us on Facebook
Problems Faced by Women Voters during casting their votes.
Polling Staff without Polling Material
Gallery
ddd_8595 ddd_8592 ddd_8577 ddd_8571 ddd_8568 ddd_8565

18 ویں ترمیم نے وفاقیت کا مستقبل روشن کر دیا

جارج اینڈرسن 2005ء سے فورم آف فیڈریشز میں بحیثیت صدر اور ایگزیکٹو افسر منسلک ہیں۔ انہوں نے کینیڈا میں نائب وزیر برائے قدرتی وسائل، نائب وزیر برائے بین الحکومتی تعلقات، اسسٹنٹ نائب وزیر برائے توانائی، فنانس اور خارجہ تعلقات کی حیثیت سے تیس سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیں۔ اینڈرسن نے کوئین اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری جبکہ پیرس سے ڈپلوما حاصل کیا ہے اور ’’وفاقیت، ایک تعارف‘‘ نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں جبکہ وہ کوئین یونیورسٹی کے ٹرسٹی کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
g اس بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد کیا تھا اور کیا اس کے ذریعے تمام مقاصد اور اہداف کو حاصل کرلیا گیا؟
٭ یہ کانفرنس ہر تین سال میں ایک بار منعقد ہوتی ہے اور بطور ادارہ ہمارے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہمارے نیٹ ورک میں ایسے نئے افراد شامل ہوں جنہیں ہم پہلے سے نہ جانتے ہوں اور ان مسائل کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں جو اس سے قبل ہمارے مطمع نظر نہیں رہے اور ان کانفرنسوں کے انعقاد سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لیے حیران کن ہیں لیکن اس کا ایک اور مقصد اپنے ادارے کی طرف سے افریقہ میں یہ کانفرنس منعقد کرنا ہمارے لیے بہت پرکشش تھا ایتھوپیا میں ہمارا پروجیکٹ کام کررہا ہے ہم نائجیریا کے علاوہ شمالی اور جنوبی سوڈان میں بھی کام کررہے ہیں۔ کینیا میں بھی ہم جلد ہی اپنے پروجیکٹ کا آغاز کرنے والے ہیں چنانچہ افریقہ میں کانفرنس کا یہی صحیح وقت تھا اور افریقہ پر توجہ مرکوز کرنا ہماری شعوری کوشش تھی۔ فورم آف فیڈریشن کی اب تک منعقد کی جانے والی تمام کانفرنسوں کے لئے ملکوں کا چناؤ بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ افراد کی شمولیت کے ساتھ اس براعظم میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ہماری سابقہ کانفرنس بھارت میں منعقد ہوئی تھی جس میں ایشیا کے کئی ملکوں کے بے شمار مندوبین نے شرکت کی تھی اس مرتبہ ایتھوپیا کانفرنس میں افریقہ سے متعدد ملکوں کے بے شمار نمائندوں نے شرکت کی جو بہت خوشگوار تجربہ رہا کیونکہ اس میں ان لوگوں کو نمائندگی بھی تھی جنہیں کبھی اس سے قبل ان مسائل پر گفتگو میں شامل نہیں کیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ کہیں شاید وہ وفاقیت کے حوالے سے کوئی کام کررہے ہوں لیکن بعض تجربات میرے لئے اس لحاظ سے بہت خوشگوار رہے کہ مجھے صومالیہ کے ایک وزیر نے بتایا کہ وہ اپنے ملک میں ان تمام معاملات کو دیکھتے ہیں اور ان کا خیال تھا کہ وہ انہیں بخوبی نبھارہے ہیں لیکن اس کانفرنس میں شرکت جس میں وفاقیت کے حوالے سے متنوع خیالات اور سوالات کے جوابات پیش کئے گئے ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ چنانچہ دنیا کے مختلف ممالک میں وفاقی نظاموں کے کام کرنے کے طریقہ کار کو جاننے کے باوجود اس طرح کی کانفرنسوں کے ذریعے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اپنے ملک میں جاکر آپ یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے یا نظام کو بہتر بنانے کے لئے دنیا کے دیگر ممالک کے پاس اگر متبادل راستے موجود ہیں تو ہم بھی ان طریقہ کار کو استعمال کرسکتے ہیں۔ایسا نہیں ہوتا کہ آپ دیگر ممالک کے نظام کی پریکٹس کو عملی طور پر نافذ کرتے ہیں یا کسی ادارے کے ڈھانچے کو کسی دوسرے ممالک کے ڈھانچے کی طرز پر بنایا جاسکتا ہے لیکن آپ مختلف قسم کے خیالات اور محرکات سے متاثر ہوکر اپنے انداز میں کام کرسکتے ہیں۔
g اس کانفرنس کا بنیادی خیال بہت متاثر کن تھا۔ آپ اس طرح کی بین الاقوامی کانفرنس کے لئے موضوع کا چناؤ یا انتخاب کن بنیادوں پر کرتے ہیں؟
٭ میرے خیال سے اس کانفرنس کے انعقاد کی ذمہ دار اور میزبان حکومت موضوع کا انتخاب خود کرتی ہے۔ بھارت میں ہونے والی کانفرنس کے لئے موضوع کے انتخاب کے لئے بہت زیادہ محنت کی گئی تھی اور اس بار بھی ایتھوپیا کی حکومت کے ساتھ ہم نے جمہوریت، وفاقی ترقی اور تمام چیزوں کا احاطہ کرتے ہوئے وسیع تصور کو ایک ہی پیکج میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ کانفرنس کا موضوع   ایتھوپین حکومت کی خواہش پر رکھا گیامگر فورم نے اس کانفرنس کو ڈیزائن کرنے میں ایتھوپین گورنمنٹ کی مدد کی تاکہ زیادہ سے زیادہ موضوعات کا احاط کیا جاسکے۔ کانفرنس کی ترتیب، مختلف سوالات اور بنیادی تصور کے لئے ہماری عالمی مشیروں نے بڑی مدد کی جو دنیا کے مختلف ممالک سے آئے تھے۔ ہم نے ابتدا میں اپنے بین الاقوامی مشیروں کے ساتھ تیاری کے لئے دو خصوصی ملاقاتوں کا اہتمام کیا جس میں ہم نے کانفرنس کے ہر موضوع اور اس کے تحت زیر بحث آنے والے سوالات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی اور پھر ان پر مقالات لکھنے کے لئے اشتہارات کے ذریعے دلچسپی رکھنے والے دانشوروںکو دعوت دی۔ ہمیں توقعات سے بڑھ کر مقالات اتنی تعداد میں ملے کہ ہمارے لئے ان کا انتخاب کرنا مشکل ہوگیا۔ منصفین کے انتخاب کے بعد ہمیں ڈھائی ہزار الفاظ پر مشتمل مقالے اور کیس اسٹیڈیز کی ضرورت تھی تاکہ انہیں ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا جاسکے جس میں کانفرنس کے پانچوں موضوعات کا احاطہ کیا جاسکے ۔یہ ایک خاصہ دقت طلب کام تھا کیونکہ اس پر اتنا مواد جمع ہوگیا تھا کہ ہمیں انہیں مخصوص صفحات تک محدود رکھنا تھا تاکہ اسے شائع کرکے مندوبین میں تقسیم کیا جاسکے ہم نے اس کتاب میں کچھ اچھی تقاریر کو بھی ڈالا ہے۔
g آپ کے خیال میں اس کانفرنس کے ذریعے فورم آف فیڈریشنز اپنے متعینہ اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے؟
٭ جی بالکل! جب آپ اتنی بڑی بین الاقوامی کانفرنس کو منعقد کرنے جارہے ہوتے ہیں تو ہمیشہ اس سے حاصل ہونے والے نتائج آپ کو نروس رکھتے ہیں لیکن ہم بہت خوش ہیں کہ جس طرح اس کانفرنس کی تشکیل کی گئی اس میں تقریباً سب نے ہی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ ہم نے کانفرنس میں بہت زیادہ سیاسی تقریروں سے جان بوجھ کر اجتناب کیا سو ائے سربراہان مملکت کی تقاریر کے جو ضروری تھیں۔ جو تقاریر کانفرنس کے دوران کی گئیں ان کا انتخاب بہت احتیاط اور دیکھ بھال کر کیا گیا۔ ہم بہت زیادہ تقریروں کو سنوانے کے بجائے مندوبین کے خیالات، آرا اور تجاویز سننے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور یہی اس کانفرنس کا بنیادی مقصد اور حاصل تھا۔ اس کانفرنس کو اقوام متحدہ کے کانفرنس ہال میں منعقد کرانا ہم سب کے لئے ایک اعزاز ہے کیونکہ ہمارے پاس کینیڈا میں بھی اتنی زبردست کوئی عمارت نہیں ہے۔
g اس کانفرنس کے مختلف منصوبہ جاتی اجلاسوں میں بہت سے موضوعات کو زیر بحث لاکر مختلف سوالات اٹھائے گئے۔ آپ کے خیال میں کیا ان تمام سوالات کے جوابات مندوبین حاصل کرپائے ہیں؟
٭ نہیں!کانفرنس مباحث کا ایک ذریعہ ہے اور اس کا ہر گز مقصد یہ نہیں ہوتا کہ بالآخر آپ اپنے تمام مطلوبہ جواب یا نتائج حاصل کرلیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ لوگوں نے بحث و مباحث کے ذریعے مختلف سوالات کا جواب یا مسائل کے ممکنہ حل ڈھونڈنے کی کوشش کی ہوگی اور کچھ اچھے آئیڈیاز بھی سامنے آئے ہوں گے لیکن ہم یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ کسی ایک ملک کے فارمولے کا کسی دوسرے ملک پر اطلاق کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہر ملک اپنی منفرد خصوصیات، شناخت، آبادی اور معیشت کے ساتھ اپنی تاریخ بھی رکھتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں اپنی تاریخ کا غلام ہونا چاہیے لیکن یقیناً ہم اپنی تاریخ کو اچھی شکل ضرور دے سکتے ہیں۔
g اس کانفرنس میں خواتین کے حوالے سے خاص طور پر ایک سیشن کا اہتمام کیا گیا تھا کیا اس سے قبل منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں خواتین کے مسائل کو کبھی اس طرح اجاگر کیا گیا؟
٭ نہیں! اس سے قبل ہم نے کبھی اس موضوع کو کانفرنس میں اتنی خصوصی اہمیت نہیں دی جتنا کہ یہ متقاضی ہے۔ اس سے قبل کیس اسٹڈیز پیش کرنے والی خواتین تقریباً دس فیصد ہوں گی یا شاید اس سے بھی کم۔ جب ہم موضوعات کا انتخاب کررہے تھے تو مختلف ممالک کی شراکت اور دوسری اہم باتوں میں توازن کو قائم رکھنے کی کوشش کی اور یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ آپ نے یقیناً خواتین نیٹ ورک کی میٹنگ میں شرکت کی ہوگی اور یہ ہماری خواتین ساتھیوں کا ہی اصرار تھا کہ ہم خواتین کی شرکت کو موثر نہ بناکر ایک غلط پیغام دے رہے ہیں۔ چنانچہ اگلی دفعہ ہم خواتین کے موضوعات کو زیادہ جگہ دیں گے۔
g بطور وفاقی ریاست کے آپ پاکستان کو کیسا دیکھتے ہیں اور فورم آف فیڈریشن اس سلسلے میں پاکستان کی کیا رہنمائی کرسکتا ہے؟
٭ گزشتہ دو تین سالوں میں پاکستان میں قابل ذکر تبدیلیاں آئی ہیں۔ 18 ویں ترمیم کی منظوری اور نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ نے پاکستانی وفاقیت کی شکل ہی تبدیل کردی یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس نے پاکستانی وفاقیت کا مستقبل روشن کردیا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے اطلاق میں پاکستان کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے خصوصاً مالیاتی تقسیم کے شعبے میں ہنر مند افراد اور متوازن نظام ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ اسلام آباد میں اکتوبر 2010ء میں ہم نے پاکستانی ٹیکس کے نظام خصوصاً ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے حوالے سے کئی ڈسکشن کیں مگر پاکستانی حکومت کے پاس ٹیکس جمع کرنے کی استطاعت کافی کم ہے اسی طرح دیگر مسائل ہیں جن میں پاکستان میں طویل عرصے تک آمریت کا راج، پڑوسی ممالک کے ساتھ اختلافات کے ساتھ اب اختیارات کا نچلی سطح پر منتقلی بھی مشکل مرحلہ ہے۔ میرے خیال سے پاکستان کا دو حصوں میں تقسیم یعنی بنگلہ دیش کی علیحدگی نے بھی کافی مسائل پیدا کیے۔ لیکن نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی کسی حد تک نچلی سطح پر منتقلی کے عمل نے عوام کو کسی نہ کسی حد تک مطمئن کیا ہے خصوصاً پنجاب کا اپنے حصے کو کم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب صوبوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوگیا ہے۔ مجھے احساس ہے کہ پاکستان میں اختیارات کی تقسیم سے صوبوں کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور ابھی ان میں اتنی گنجائش نہیں ہے لیکن مجھے امید ہے کہ صوبے جلد اپنے معاملات کو سلجھانے میں خود کفیل ہوجائیں گے۔ یہاں ہم نے کانفرنس میں یہ دیکھا کہ پچھلے چند برسوں میں ایتھوپیا نے اپنی استطاعت کار کو قابل تعریف حد تک بڑھایا ہے۔ اصل مسئلہ مالیاتی وسائل اور اختیارات کی تقسیم نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے سیاستدان اور بیورو کریٹس نظام کو کیسے بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں۔
g پاکستان کو فورم آف فیڈریشن کا ممبر بنانے کے لئے آپ کے پاس کیا تجاویز ہیں؟
٭ ہم نے اس سلسلے میں پاکستان میں کئی ملاقاتیں کیں ہیں۔ مختلف مندوبین سے اس مسئلے پر مذاکرات ہوتے ہیں اور ہم نے تمام متعلقہ مواد پاکستان کی رہنمائی کے لئے فراہم کردیا ہے اگر پاکستان فورم کا ممبر بنتا ہے تو ہم اسے تہہ دل سے خوش آمدید کہیں گے یہ ایک جمہوری ملک ہے جہاں منتخب حکومت ہے اور یہ واضح طور پر ایک وفاقی ریاست ہے اگر پاکستان فورم کا پارٹنر بننے کی خواہش ظاہر کرے گا تو ہم اسے ویلکم کہیں گے۔
g اگر پاکستان فورم آف فیڈریشن کا ممبر بن جاتا ہے تو اس سے کیا فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں؟
٭ یہ اچھا سوال کیا ہے آپ نے۔ جرمن حکومت کی مالی معاونت سے فورم آف فیڈریشن نے پاکستان میں ایک بہت بڑا پروگرام شروع کیا ہے اور اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ ہم پاکستان کو ممبر بنانے کے لئے وفاقیت کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اور نہ ہی پاکستان کو فورم کے ممبر بنانے سے ہمارے وسائل میں اضافہ ہوجائے گا بلکہ ہم پاکستان کو اس نیٹ ورک میں اپنے ساتھ اس لئے شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وفاقی طرز حکومت کی حکمرانی میں حائل درپیش مشکلات میں نہ صرف ان کی مدد کریں بلکہ حکومتی تعاون کے ساتھ ہم اس نظام کی خوبیاں وسیع تر تناظر میں پاکستانی عوام اور معاشرہ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک مضبوط وفاقی ریاست تشکیل پاسکے۔ ہمارا یہ مقصد ہر گز نہیں ہوتا کہ ہم کسی بھی ملک کے لوگوں کو ڈکٹیشن دیں جیسا کہ آپ نے کانفرنس سے اندازہ لگایا ہوگا لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے ملکوں کے تجربات کو شیئر کررہے تھے۔ ہمارا نیٹ ورک اب بھی سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہے اور ہمیں بخوبی اس بات کا احساس ہے کہ کسی کے ملک کے عوام سے زیادہ بہتر اس ملک کو کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔ چنانچہ ہم صرف دوسرے ممالک کے متعلقہ مواد اور دلچسپ چیزیں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور آخر کار ان کا انتخاب کرنا یا نہ کرنا عوام کی اپنی چوائس اور اپنی پسند نا پسند پر ہوتا ہے۔ آپ صحیح یا درست کسی بھی چیز کا انتخاب کرسکتے ہیں اور اچھے یا برے تجربے سے کچھ نہ کچھ  ضرورسیکھا جاسکتا ہے۔
g۔ اس بڑی بین الاقوامی کانفرنس میں میں نے بین الاقوامی میں میڈیا سے متعلق افراد کی کمی محسوس کی جبکہ میڈیا کسی بھی پیغام کو عوام تک پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہوتا ہے؟
٭۔یہ آپ نے بہت اچھا نکتہ اٹھایا ہے اور میں اس کے لئے آپ کا مشکور ہوں۔ آپ شاید ٹھیک کہتی ہیں۔ ہم اس کانفرنس کا تجزیہ کریں گے تب اسے بھی ڈسکس کریں گے۔ مجھے میڈیا کے افراد کی صحیح تعداد کا علم نہیں مگر شاید ہمیں میڈیا کو اس طرح نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

Leave a Reply