خواتین اور ذرائع ابلاغ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ

(کراچی )پاکستان میں ایک نئی قومی میڈیا پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، ایسی پالیسی جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے اور ملک کی ترقی میں خواتین کے کردار کی درست اور حقیقی نشاندہی کرے ‘‘،ان خیالات کا اظہار وزیر برائے ترقی نسواں توقیر فاطمہ بھٹو نے سیمینار بعنوان ’’خواتین: تبدیلی کا ذریعہ ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس سیمینار کا انعقاد کامن ویلتھ جرنلسٹ ایسوسی ایشن (سی جے اے)پاکستان چیپٹرنے ویمن میڈیا سینٹر کے تعاون سے کیا تھا۔کامن ویلتھ ڈے کو منانے کیلئے اس سیمینار کا اہتمام کیا گیا تھا مس کا موضوع ’’عورت:تبدیلی کا ذریعہ ‘‘تھا۔سیمینار کا مقصد معاشرے میں خواتین کے حقوق کو اجاگر کرنے کیلئے ذرائع ابلاغ کے کردار کی اہمیت پرزور دینا تھا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے توقیر فاطمہ بھٹو نے کہا کہ’’خواتین کی شمولیت کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی ممکن نہیں مگر خواتین کو بہتر تعلیم اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ذرائع ابلاغ لوگوں کے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کومعاشرے میںانتشار پھیلانے کے بجائے تعلیم اور تربیت کا ذریعہ بننا چاہئیے۔
صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں نے ویمن میڈیا سینٹر کو یہ تجویز پیش کی کہ وہ شعبہ برائے ترقی نسواں کے ساتھ مل کر کام کریں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا محکمہ خواتین میں آگاہی اور شعور کیلئے ایف ایم ریڈیو چینل شروع کرنے کا ارادہ بھی رکھتا تھا مگر فنڈز کی کمی کے باعث یہ پروجیکٹ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔حالانکہ ان کا محکمہ بھی اس کوشش میں مصروف ہے کہ عالمی تنظیموں سے رابطہ کر کے فنڈز کے حصول کو ممکن بنایا جائے اور مستقبل میں اس ضمن میں کوئی مثبت جواب بھی مل سکتا ہے۔ ویمن میڈیا سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فوزیہ شاہین نے کہا کہ ’’دنیا میں مثبت تبدیلی صرف اس وقت ممکن ہے جب قومی اور بین القوامی سطح پر خواتین کو فیصلہ سازی میں شریک کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ خواتین انسانیت کی تباہی کیلئے کبھی بھی ایٹم بم ایجاد کرنا نہیں چاہیں گی کیونکہ وہ ماں ہے اور دنیا میں جنگ نہیں چاہتی بلکہ وہ امن کی خواہاں ہوتی ہے۔فوزیہ شاہین نے میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میڈیا میں سنجیدہ، قومی اور بین القوامی موضوعات پر کام کر رہی ہیں ۔
ویمن میڈیا سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فوزیہ شاہین نے دولت مشترکہ کے ممالک میں پچاس لاکھ خواتین کو مختلف شعبوں میں تعون کرنے پر دولت مشترکہ کے تعاونی کردار کو سراہا اور کہا کہ خواتین کے کردار کو بڑھانے سے دنیا پر مثبت دو رس نتائج مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جن مسائل کا سامنا ہم آج کر رہے ہیں ان کو صرف صنفی برابری کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ کامن ویتھ جرنلسٹ ،پاکستانچیپٹر کے صدر ایس ایم فضل نے کہا کہ کسی بھی ملک کی دولت مشترکہ میں شمولیت کیلئے لازمی ہے کہ اس ملک میں جمہوری نظام ہو 1999ء میں جنرل مشرف کے دورِ فوجی آمریت کے بعد اس تنظیم نے پاکستان کی ممبر شپ ختم کر دی تھی جو کئی سال بعد بحال کی گئی۔

Leave a Reply