Find us on Facebook
Problems Faced by Women Voters during casting their votes.
Polling Staff without Polling Material
Gallery
ddd_8595 ddd_8592 ddd_8577 ddd_8571 ddd_8568 ddd_8565

ذرائع ابلاغ میں خواتین کو امتیازی رویوں کا سامنا ہے

ذرائع ابلاغ میں خواتین کو امتیازی رویوں کا سامنا ہے لیکن ویمن میڈیا سینٹر اپنی انتھک محنت اور کاوشوں کے ذریعے خواتین صحافیوں کی عملی تربیت کر کے اس امتیازی رویے کا قلعہ قمع کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہارپیپلز پارٹی کی رہنما اورسیکریٹری اطلاعات شرمیلا فاروقی نے ویمن میڈیاسینٹر(ڈبلیو ایم سی) ،آل پاکستان نیوزپیپر ایسوسی ایشن (اے پی این ایس) اور نیشنل اینڈوومنٹ فار ڈیموکریسی(این ای ڈی) کے زیرِ اہتمام سیمینارسے خطاب کے موقع پر کیا۔انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں بلاشبہ خواتین صحافیوں کا اضافہ ہو ا ہے لیکن فیسلہ ساز عہدوں میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے شعبہ جات میں خواتین کو امتیازی رویوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے جو معاشرے کے تمام طبقوں کو ان کے حقوق اور مسائل کا حل بتاتا ہے لیکن یہ بات افسوس ناک ہے کہ خود اس ادارے میں ایک طبقہ ایسا ہے جسے امتیازی رویوں کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہمیڈیا میں خواتین مخصوص شعبوں میں کام دیا جاتا ہے انہیں عموماً خواتین سے متعلق بیلٹ تک محدود رکھا جاتا ہے کجب کہ خواتین ہر شعبے میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔لیکن اہم عہدوں پر مرد مسلّط ہیں اس لئے وہ خواتین کو آگے آنے نہیں دیتے ۔اس موقع پر زاہدہ عباسی،خورشید حیدر ،صوفیہ یزدانی ،رفیہ تاج ،سبین آغا ،عروج ضیاء اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
سیمینار کی نظامت کے فرائض فوزیہ شاہین نے انجام دئیے ۔فوزیہ شاہین نے کہا کہ خواتین چاہے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہوں ان کی راہ میں کئی مسائل ، مصائب اور مشکلات حائل ہوتی ہیں ،اگر بہادری سے ان کا مقابلہ کریں تو معاشرے میں ایک مثبت مقام پیدا کر سکتی ہیں ۔ضرورت صرف محنت،لگن اور مستقل مزاجی کی ہے ۔سیمینار کے اختتام میں ویمن میڈیا سینٹر سے دس روزہ تربیت حاصل کرنے والی خواتین صحافیوں اور طالبات کے درمیان سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے۔اس دس روزہ عملی تربیت کے دوران ان خواتین صحافیوں کو منتخب نمائندوں کی ذمہ داریوں ،اسکرپٹنگ ،وائس اوور اور کیمرے کی تکنیکی مہارت فراہم کی گئی ۔

Leave a Reply