سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور ملک کے سینئر سیاستدان فخر امام سے خصوصی مکالمہ

4135نرل ضیاء کی حکومت کے خلاف الیکشن لڑا تھا انہوں نے چودہ ماہ میں مجھے اسپیکر کے عہدے سے ہٹا دیا
پاکستانی آئین کے مطابق وزیراعظم ،صد ر اور کا بینہ پاور فل ہیں لیکن ملک میں
سب سے زیادہ طاقتور کے طور پر آرمی چیف کا نام آتا ہے
آمریت ہر دس سال بعد سیاست دانوں کی ایک نئی کھیپ لے آتی ہے
دنیا میں CS BRIکی صورت میں نئی عالمی طاقت بن رہی ہیں

کلفٹن کالج انگلینڈ سے تعلیم حاصل کرنے والے قومی اسمبلی کے سابق اسپیکرسید فخرامام ،ملتان میں اپنے گھر میں سیاسی طور پر مستحکم پاکستان کے سپنے بن رہے ہیں۔فوجی آمریتوں نے ملک کے ساتھ کیا اور کس طرح کیا ہے؟ اس کے کچھ چشم دید گواہ اور ان کا قدرے نشانہ بننے والے اس سینئر سیاستدان کے حوصلے پست تو نہیں ہوئے۔عمرڈھلی لیکن امیدوں کا سورج اب بھی تابناک ہے اور ڈوبا نہیں،کسی گرہن کی زد میں نہیںآیا۔فوجی آمریتوں سے بچنے کے تھکا دینے والے سفر میں ان کی ساتھی سیدہ عابدہ حسین بھی ان کے ساتھ رہی ہیں۔پاکستان کے صف اول کے سیاستدانوں میںیہ سیاسی جوڑی بھی مثالی ہی ہے۔
غیرجماعتی انتخابات کی پیدوار کا طعنہ بھی فخر امام پر لگایا جاتا ہے تو ان پرآمر جنرل ضیاء کی کابینہ کا رکن رہنے کا الزام بھی ہے۔وہ جنرل ضیاء کو اچھا نہیں سمجھتے ہیں لیکن ان کے ساتھ رہنے میں اپنا دفاع ضرور کرتے ہیں۔جنرل ضیاء کے ساتھ رہنے کا پچھتا واچہرے سے جھلکتا ضرور ہے لیکن اظہار نہیں کرتے۔ان کے سینے میں پاکستان کی خون بہا تاریخ کے کئی باب موجود ہیں۔کریدنے کی جستجو کرو تو خاک نہیں ، خیال نکلتے ہیں حقائق عیاں ہوتے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اس قومی سطح کے سیاستدان کو تخت لاہور سے شکایتیں بھی ہیں تو کالاباغ ڈیم بنانے پر تحفظات بھی۔ایجنسیوں کی سیاست میں مداخلت سے نالاں بھی ہیں تو اپنی پارٹی میں نظرانداز کئے جانے پر ناخوش بھی۔عام انتخابات قریب ہیں۔پنجاب میں بہت سے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہیں۔سید فخرامام دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔پیپلزپارٹی سے خوش نہیں لیکن اس کو جلدبازی میں چھوڑنے کے حق میں بھی نہیں۔الیکشن سے پہلے ملک بھرمیں ، بشمول جنوبی پنجاب میں بہت سے سیاسی طوفان اٹھنے اور تھمنے ہیں۔اس کے نتیجے میں یہ سیاسی خاندان خود کو کہاں پائیگا اس کے کچھ اشارے ان کی گفتگو میں موجود ہیں۔
)پاکستانی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی جمہوری حکومت اپنے پانچ سال پو رے کرے گی آپ حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔آپ ان پانچ سالوں کا تجزیہ کیسے کریں گے ؟
*موجودہ حکو مت کے پونے پانچ سال کے عرصے میں بعض بہت اچھے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو قابل تحسین ہیں ۔ان میں آئینی اٹھارویں ترمیم ،انیسویں ترمیم اور بیسویں ترمیم خاص طور پرقابل ذکر ہیں کیو نکہ ان ترامیم کے ذریعے ہم صدارتی نظام سے پارلیمانی نظام حکومت کی طرف گئے ہیں 1973 ؁ء کے آئین کی خصوصیات میں پارلیمانی نظام ،وفاقی طرز کی حکومت ،آزادعدلیہ ،بنیادی انسانی حقوق اور اسلامی طرز زندگی بنیادی نکات میں شامل تھے۔ایسی حکو مت میں جو خالصتاً عوام کی نمائندہ نہ ہو اس میں اختیارات وزیر اعظم سے صدر کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں جیسا کہ 2007میں اور 85ء سے 90ء کی دہائی میں ہوا ۔اس جمہوری حکومت میں دوسرانمایاں پہلو نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں چاروں صوبوں کے درمیان اتفاق رائے ہے یہ منظوری ایک تاریخی کارنامہ ہے جس کے ذریعے کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کر کے مرکزسے چاروں صوبوں کو اختیارات کی منتقلی نہایت اہم پہلو ہے جسکا یہ صوبے عرصہ دراز سے مطالبہ کرتے چلے آئے تھے۔پھر وفاق کے ستاون فیصد حصے کو کم کرکے 48فیصد کر دیا گیا جس سے بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے مالی وسائل میں خاصا اضافہ ہو گیا ۔پھر آبادی کے تناسب سے دی جانے والی وفاقی مالی معاونت کو کم کرکے 82فیصد کر دیا گیا اور اس میں دیگر اہم عوامل یعنی غربت، جغرافیائی حدود وغیرہ کو مد نظر رکھ کر ایوارڈ کی تقسیم کی گئی ۔جس پر تمام صوبوں کا اتفاق رائے تھا اس نے حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر کے ملک کو ترقی کی سمت میں گامزن کر دیا ۔جہاں تک ان پانچ سالوں کی حکومتی کمزوریوں کا تعلق ہے تو پہلے نمبر پر کر پشن میں انتہا ئی درجے کا اضافہ ہے ۔اس حکو مت میں گورنس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال بھی خاصی خراب رہی خاص طور پر افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقوں میں خود کش حملے بڑی تعداد میں ہو ئے ۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کافی خراب رہی اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے پاکستان کے اسٹریٹجک اداروں کو نشانہ بنا یا گیا جن میں جی۔ایچ۔کیو،مہران بیس اورکامراہ بیس کے ادارے شامل ہیں ۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں پتا کہ مجرمان کو گرفتار کیا گیا یا نہیں ؟ ان کے خلاف کیا قانونی جارہ جو ئی کی گئی ہے؟یہ حملے پاکستان کی بنیاد کو کمزور کرنے کی سازش ہیں ۔ان حملوں کا ہمارے بڑے اداروں پارلیمان،عدلیہ ،ایگز یکیٹو اور میڈیا کی کارکردگی پر براہ راست اثر پڑتا ہے ۔
سوال:پاکستان کی اقتصادی صورتحال کے بارے میںآپ کا کیا خیال ہے؟
ہماری اقتصادی حالت میں بہتری اس لیے نہیں آسکی کہ جب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکر دگی اچھی نہیں ہو گی لوگ قانون کو ہا تھوں میں لیتے رہیں گے۔امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہو تی ۔ہماری معاشی ترقی کی شرح پچھلے سال بہت کم رہی ۔ہماری آبادی میں اضافہ کی شرح ہماری معیشت کی ترقی کی شرح سے کہیں زیادہ ہے اس لیے ہم غربت کو کم نہیں کر سکے ۔ کراچی ہمارا کامرس ،صنعت ،تجارت اور روزگار کا مرکزہے ۔یہاں روزگار کے مواقع زیادہ ہو تے ہیں لیکن سرمایہ کاری نہ ہو نے کی وجہ سے اور ٹارگٹ کلنگ کے سبب اب یہاں سے بھی یہ مواقع ختم ہو تے جا رہے ہیں �ۂٌٌؐؐآبادی کے لحاظ سے پاکستان چھٹا بڑا ملک ہے ۔پہلا چائنا،دوسرا انڈیا،تیسرا امریکہ ،چوتھا انڈونیشیا ،پانچواں برازیل اور چھٹا پاکستان ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے مردد شماری نہیں کرائی پاکستان میں آخری مرتبہ مردم شماری 98ء میں ہو ئی جب کہ آئین یہ کہتا ہے کہ ہر دس سال بعد آپ مردم شماری کرائیں ۔ہمارے ملک میں فی کس آمدنی مشکل سے ہزار یا گیارہ سو ڈالر ہے ۔آزادی کے وقت جو ممالک ہم سے پیچھے تھے آج وہ ہم سے آگے نکل چکے ہیں مثال کے طور پر کو ریا ،ملائیشیا اور تھائی لینڈ ہم سے پیچھے تھے ۔کو ریا آج دنیا کی گیارویں بڑی اکنا می ہے ۔ہمیں ان سے سبق سیکھنا چاہیے کہ دوسرے لو گو ں نے بھی ترقی حاصل کی مسائل تو ہر ایک کے ساتھ ہو تے ہیں ۔یہ بھی ہماری تاریخ کا ایک حصہ ہے کہ ہما ری اکثریت ہم سے علیحدہ ہو گئی اور ہمارا ملک نصف ہو گیا سقوط ڈھاکہ ہمارے لیے ایک بڑا سانحہ ہے ۔
دنیا میں برک ایمر جن پاور بن رہی ہیں ۔ BRICSسے مراد برازیل ،روس،انڈیا ،چائنا اور اب پانچواں ساوتھ افریقہ کو کہا جارہا ہے ۔ان ممالک کو ابھر تی ہو ئی طاقت ان کی بڑھتی ہو ئی اقتصادی قوت کی وجہ سے کہا جا رہا ہے ۔ہمیں دنیا سے اپنا موازنہ کرنا چائیے .
)کیا آپ سمجھتے ہیں کے مو جودہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں ناکام ہو گئی ہے ؟
* حکو مت کی کارکردگی ملی جلی ہے ۔آئینی مسائل پر اس حکومت نے کافی کام کیا ہے ۔فوڈ سیکیورٹی کے لیے بھی حکومت نے اقداما ت اٹھائے ہیں ۔ گورنس ، امن و امان اور معیشت ان مسائل پر مزید کام کی ضرورت ہے ۔ بجلی کا بحران ایک بڑا مسئلہ ہے جسے حکومت حل نہیں کر پائی ۔زرعی پالیسیا ں ابتدائی دو سال میں اچھی رہیں لیکن پچھلے دوسالوں میں کاشت کاروں کے لیے ان پٹ پرائززبہت زیادہ ہو گئی ہیں۔صنعت کاروں کے لیے بھی حکومت نے ملا جلا کام کیا ہے ۔جب امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں ہو تی تو صنعت کار بھی پریشان ہو جاتا ہے کہ اس کا سرمایہ ڈوب نہ جائے پھر انھیں بھی فیکٹریاں چلانے کے لیے پاور کی ضرورت ہو تی ہے بجلی کی لوڈشیدنگ ہو تی ہے تو فیکٹریاں بند ہو جاتی ہیں۔اب بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کے بحران کا بھی سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔پانی کی کمی بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہاہے ۔ 1947 ؁ء میں ہماری آبادی سواتین کروڑ تھی جب کے اس وقت کا مغربی پاکستان آج کا پاکستان ہے پانی کی دستیابی اس وقت 85ہزار لیٹرز تھی جو کم ہو کر اب آٹھ سو فٹ لیٹرز رہ گئی ہے ۔پھر تین دریا ستلج ،بیاج اور راوی ہم نے ہندوستان کو دے دئیے ۔انڈس واٹر پلان کے تحت دو اسٹوریج ہم نے بنائے باقی جو دو بنانے تھے وہ کئی اعتراضات اور وجوہات کی بناء پر نہیں بنائے گئے۔انڈر گراؤنڈ واٹر بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پنجاب کی زیادہ تر زیر کاشت زمین میں پچپن سے ساٹھ فیصد زیر زمین پانی کا استعمال ہوا۔ بجلی کے نرخ بھی کاشت کار کے لیے بہت زیادہ ہیں ان وجو ہات کی وجہ سے ان پٹ اور آؤٹ پٹ کا تنا سب پچھلے دو سال سے کاشت کار کے بہت خلاف جا رہا ہے ۔
حال ہی میں ایک تجارت ہم نے انڈیا کے ساتھ شروع کی ہے جس کے ذریعے آئی ۔ایم ۔ایف کو ہم نے اپنی حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کی ہے اصولی طور پر یہ ٹھیک ہے لیکن میرے خیال میں اس کے پس پشت ہم نے کام نہیں کیا کہ اس کا ہماری زرعی مصنوعات پر کیا اثر پڑے گا۔بھارتی حکومت اپنے کاشت کاروں کو27ارب ڈالر کی سبسڈی دیتی ہے۔جب کہ ہماری سبسڈی اس کے مقابلے میں تقریباً نا ہونے کے برابر ہے ۔ہماری بڑی فصلیں گہیوں ،دہان اور کپاس کی پیداوار ان کے مقابلے میں بہت کم ہو گی تو ہم کس طرح ان سے مقابلہ کر سکیں گے ۔پھر اس کے ساتھ ساتھ انڈیا سے پھل اور سبزیاں بھی آئیں گی ،انھوں نے ان سب کا یقیناً مطالعہ کیا ہو گا لیکن ہم نے “Cost Analysis”اچھی طرح نہیں کیا ۔
)آپ نے سبسڈی ،بجلی کے بحران ،مہنگائی اوردیگر مسائل پر بات کی۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کن وجوہات کی بناء پر حکومت ان مسائل کو حل نہیں کر پائی ؟
*حکومت کی ہمیشہ کچھ حدود ہوتی ہیں ۔جیسے کہ معاشی بحران جس کا سامنا صرف پاکستان کو نہیں ہے بلکہ پو ری دنیا کو 2008ء کے بعد سے اس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔یہ معاشی بحران بین الاقوامی سطح پر آیا ہے ۔امریکہ کو اس وقت چودہ ٹریلین ڈالرز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن چائنا اور انڈیا اقتصادی لحاظ سے اچھے چل رہے ہیں ہمیں بھی اچھا چلنا چاہیے تھا اور ہم بہتر چل سکتے تھے۔لیکن دہشت گردی ہمارے لیے ایک عذاب بن گئی ہے ۔ریاست کا استحکام اور قانون کی پاسداری کسی بھی مہذب معاشرے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ قانون کے بغیر کوئی ریاست نہیں چل سکتی ۔امن و امان کی صورتحال ایک بنیادی چیز ہے ۔ہمارے ٹی وی اور ریڈیو پر بریکنگ نیوز میں بم دھماکوں کی خبریں نشر کی جارہی ہو تی ہیں۔المیہ یہ ہے کہ حکومتی سطح پر کوئی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اس کے برعکس دوسرے ممالک میں آپ دیکھیں ایک چھوٹی سی مثال سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل پیٹراسن کی ہے اس سے ایک غیر ذمہ دارانہ کام یا غلطی ہو گئی اس نے دو منٹ نہیں لگائے استعفیٰ دینے میں ۔پاکستان میں اس کی ایک مثال نہیں ملتی ۔
) ہمارے سیاستدان استعفیٰ کیو ں نہیں دیتے ؟
*صرف سیاستدان نہیں جتنے لوگ پاور میں ہیں کوئی نہیں دیتا کہ ابھی پانچ سال ہوئے ہیں اور چلاؤ ۔ہمارے ملک میں بالکل الٹ نظام ہے کیو نکہ ہم نے اپنا سیاسی کلچر ایسا نہیں بنایا۔ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں جب کہ احتساب،جوابدہی ،محاسبہ ،چیک اینڈ بیلنس جمہوریت کے بنیادی اجزا ہو تے ہیں ۔
) ایجنسیوں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ پاکستانی سیاست میں انھوں نے اپنا اثرورسوخ بڑھایا اور اپنے مقصد کی حکومتیں بنائیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں ایجنسیوں کا کردار اب بھی شامل ہے ؟
* ابھی بین الاقوامی سطح پر ایک لسٹ آئی ہے جس میں با لترتیب دنیا کے طاقت ور ترین لوگوں کے نام شامل ہیں یہ لسٹ 73یا 74 ناموں پر مشتمل ہے۔سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کس کے نام اس لسٹ میں شامل ہیں؟28ویں نمبر پر چیف آف آرمی اسٹاف جنر ل کیانی کانام ہے،52یا 53پر ڈی جی آئی ۔آئی سی آئی کا نام ہے۔پاکستانی آئین کے مطابق پرائم منسٹر ،صد ر اور کا بینہ پاور فل ہیں لیکن ان کا نام اس لسٹ میں شامل نہیں ہے ۔اس لسٹ میں اوبامہ کا نام نمبر ایک پر ،مریکل کا نمبر دواور من موہن کا نمبرا نتیسواں ہے۔
) پاکستانی سیاست میں آپ ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔آپ اس ا سمبلی کے اسپیکربنے جو ایک متنازعہ اسمبلی سمجھی جاتی تھی۔ کیا آپ پر بھی ایجنسی کی طرف سے سیاست میں حصہ لینے کے لیے کوئی دباؤ تھا ؟
*یہ تو ایجنسی والے ہی بتا سکتے ہیں کہ کس کا کس پر دباؤ تھا۔ہم نے اس وقت کی حکومت کے خلاف الیکشن لڑا تھا ۔ہم سے مراد وہ ساتھی ہیں جو اس وقت اکٹھے ہوئے تھے ۔ “اسپیکر با مخالف حکومت” ایک ہی عہدہ تھا جس کے لیے الیکشن ہو ئے تھے اور وہ واحد عہدہ تھا جو حکومت کی مرضی کے بغیر آیا تھا باقی تمام عہدے پرائم منسٹر ،چیف منسٹر،گورنرز سب نا مزد کردہ تھے۔وہ اسپیکرشب تقریباًچودہ ماہ چلی پھر بہانا بنا کر انھوں نے ہمیں واک آوٹ کر دیا ۔
)اس وقت حکومت کے ساتھ آپ کے کیا اختلافات تھے ؟
* ایک ریفرنس ہم نے چیف الیکشن کمشنر کو بھیجا تھا جو آئینی تھا بعد میں اس اسمبلی نے ایک نیا قانون پاس کر کے خود کو تحفظ فراہم کیا ۔ یعنی قانون کی پاسداری ہم کر رہے تھے اور ہمیں اس کی سزا ملی یہ بھی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے۔
) آپ نے قانون کی پاسداری کی وہ کیا اختلافات تھے ان کی وجو ہات بیان کریں گے ؟
* اس وقت کی حکومت کو یہ چیزراس نہیں آرہی تھی کہ ایک آزاد اسپیکر اسمبلی چلائے۔جو فیصلے میں بطور اسپیکر دیتا تھا وہ حکو مت کی مرضی کے مطابق نہیں ہو تے تھے ۔جب کہ میں آئین کے مطابق فیصلے کرتا تھا یہ ہمارے ملک کا کلچر ہے کہ مخالفت کو پسند نہیں کیا جاتا ۔
) کوئی مثال آپ بتائیں؟
* وزیر اعظم نے نون پارٹی ہاؤس میں پارٹی بنائی جب کہ یہ قانون کے خلاف ہے ۔اسمبلی کے ممبران نے اس کے خلاف ایک ریفرنس جمع کرایا ۔ان ممبران کی تعدادتقریباً دس پندرہ ہو گی انھوں نے مجھ سے گزارش کی کہ آپ اس کو الیکشن کمیشن کے پاس بھیجیں۔آئین میں اس کے لئے یہ لفظ درج ہیں “The Speaker shall refer”اسپیکر تو پوسٹ آفس کا کام سر انجام دے رہا تھا اور کام اس پر الیکشن کمیشن کر رہا تھا۔ایک اور ایسی مثال ہے جب صدر ضیا ء الحق نے کراچی میں دوران تقریر پارلیمنٹرین کے خلاف بات کی ۔میرے پاس کچھ ممبران نے ایک ریفرنس بھیجا کہ صدر صا حب نے پارلیمان کے خلاف بات کی ہے تو وہ میں نے جمع کر لیا۔
)اس ریفرنس پر کس کس نے سائن کیے تھے؟
*مختلف پارلیمنٹر ینز شامل تھے ۔حاجی سیف اللہ ،شیرافگن نیازی ،جاوید ہاشمی صاحب کافی لوگ تھے مجھے تمام نام یاد نہیں ہیں۔جو ریفرنس انھوں نے بھیجا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ صدر صاحب نے جو ریمارکس پاس کیے ہیں اس سے ہماری توہین ہوئی ہے۔اس کے بعد پارلیمان کی مرضی سے اس پر بحث بھی ہو ئی جو ان کو ناگوار گزری کیونکہ ہمارا کلچر ایسا ہے کہ ہم ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے ۔آٹھویں ترامیم پر بحث کو میں نے ستاون د ن چلایا ۔اس کے بر عکس موجودہ پارلیمان میں اٹھارویں اور دوسری ترامیم پر بحث بہت کم دن چلی ۔ مشرف صاحب کی پارلیمان میں 17ویں ترامیم پر بحث دو دن میں ختم ہو گئی تھی ۔میں نے بہت تفصیل سے آئین کے ہر آرٹیکل پر چو دہ چودہ گھنٹے اوربارہ بارہ گھنٹے بحث کرائی ۔جمہوری کلچر یہ کہتا ہے کہ ہر چیز پر بحث و مباحثہ ہو کیونکہ انھوں نے اپنے خیالات کے اظہار کے ذریعے بات کو منوانا ہوتا ہے۔ جمہوریت کا تو کا م ہی یہی ہے۔جب مختلف آراء آنا شروع ہو تی ہیں تو ہم میں سے کچھ نروس ہو جاتے ہیں۔جب میں اسپیکر تھا اس وقت اتنے چینل بھی نہیں تھے۔ایک پی ٹی وی تھا،اخبارات پر بھی قدغنیں تھیں۔ایک مسلم اخبار ہماری کو ریج کرتا تھا اور جو لوگ اس اخبار کو پڑھتے تھے انھیں پتا ہو تا تھا کہ کیا بحث چل رہی ہے ۔شاید دو تین اخبارات اور تھے جنگ اور نوائے وقت جو اس کی کوریج کر تے تھے ۔
)جب آپ جنرل ضیاء الحق کے خلاف کھڑے ہو ئے تو آئی ایس آئی اور دیگر جنرلزنے آپ پر کتنا دباؤ ڈالا ؟
* جب میں نے بطور اسپیکرالیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو جنرل ضیاء الحق نے مجھ سے براہ راست بات کی تھی کہ آپ کو اس سے بہتر اور اچھے عہدے مل جائیں گے ۔اس کے باوجود میں نے الیکشن لڑا ۔پھر وہ مجھ سے بات نہیں کرتے تھے دوسروں سے بات کر تے تھے۔
)کیا دھمکی دی تھی انھوں نے آپ کو ؟
*دھمکی نہیں دی تھی بس انھوں نے یہ ایک طریقہ اختیار کیاتھا۔
)اگر ہم تاریخ کے حوالے سے بات کریں توماضی میں بہت سے ایسے واقعات ہو ئے ہیں جنہیں اب سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔بھٹو صاحب کے دور میں آپ کی جو یاداشتیں ہیں ان کو ہمارے ساتھ شےئر کیجئے؟
* اس وقت میں عملاً سیاست میں نہیں تھا ۔
)آپ نے عملاً سیاست کب سے شروع کی ؟اپنے آئینی سفر کے بارے میں بتائیے؟
* 78ء میں الیکشن ہو نے تھے جو نہیں ہو ئے۔ 79ء میں ملتان کے ضلع کا الیکشن لڑا پھر وفاقی وزیر جنرل ضیاء الحق صاحب کے ساتھ ہی بنا۔ دوبارہ الیکشن لڑا جو ہار گیا ،ہارنے کے بعد دس منٹ کے اندر اندر میں نے وفاقی وزارت سے استعفیٰ دے دیاتھا ۔
ملتان بعد میں تقسیم ہو گیا ہمار ا ملتان تین ضلعوں کا تھا لودھرا،ملتان ،خانیوال ۔پھر انھوں نے ہمارے ضلع کو علیحدہ کردیا ۔اب یہ چھوٹے چھوٹے ضلع رہ گئے ہیں۔
) آج کل آپ کے یو سف رضا گیلانی صاحب سے کیسے تعلقات ہیں؟
*ٹھیک ہیں۔بس نارمل۔۔۔
)آئندہ الیکشن کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں ؟کیا الیکشن ٹائم پرہو جائیں ہے ؟
* ابھی تک جو بیانات آرہے ہیں ان کی روشنی میں ایسا لگتا ہے کہ حکومت سولہ مارچ تک جو آئینی مدت اسمبلیوں کی ہے وہ مکمل کرے گی حالانکہ پارلیمانی نظام حکومت میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اگر حکومت چاہئے تو الیکشن پہلے کرالے یا آخری دن پر کرائے ۔پاکستان کے لیے یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ الیکشن ہو ں اور اقتدار پرامن طور پر منتقل ہو ۔ہمارے یہاں وفاق کی اپنی حکومت ہے صوبوں کی اپنی حکومتیں ہیں۔ہم وفاق ہیں ہم “یو نٹی فارم آف گورنمنٹ نہیں “ہیں۔اس حکو مت میں طاقت کا توازن دو ایوانوں میں ہوتا ہے ۔ ہمارا تناسب “متناسب نمائندگی کا نظام ” نہیں ہے۔ہماری نمائندگی “First Past the Post System”کے تحت ہے جس میں دو بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آتی ہیں یہاں دو پارٹی تو تھیں پر کسی کی اکثریت نہیں تھی اس لیے پاکستان کی پانچو ں حکومتوں میں حکومتی اتحاد کی وجہ سے طاقت کا توازن قائم ہے اور مستقبل میں بھی پیشن گو ئی کی جاسکتی ہے کہ آئندہ بھی حکومتی اتحاد والی گورنمنٹ بنے ۔
)مختلف حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ شاید الیکشن میں کچھ تا خیر ہو۔آ پ کا کیا خیال ہے ؟
* عوام کی تو ایک ہی رائے ہے کہ الیکشن ہو نا چائیے۔ 2002ء اور2008ء میں الیکشن غیر جانبدار نہیں تھے ۔ الیکشن کے دوران کچھ لوگو ں کو ٹارگٹ بھی کیا گیا ۔دھاندلی بھی کی گئی ۔میں خود الیکشن کمیشن گیا تھا کہ ہمارے خلاف دھاندلی ہو ئی ہے ۔ان کے سرکاری افسر نے آکر خود قبول کیا کہ ہاں دھاندلی ہو ئی ہے ۔عدالت نے ساری بات سن لی لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں دیا ۔عدالت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن انھوں نے جہاں نہیں کرنا ہو تا وہاں نہیں کرتیں ۔
)سپریم کورٹ کی مجموعی کار کردگی اور چیف جسٹس کی جانب سے جو از خود نوٹس لیے جا رہے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
* 2007ء کی جو تحریک تھی خاص طور پر 9مارچ کے بعد وہ پاکستانی تاریخ کی ایک انقلابی تحریک تھی جس کی کوئی سابقہ مثال نہیں ملتی ۔ جس میں وکلاء برادری نے اہم کردار ادا کیا ۔ چیف جسٹس کی بحالی بھی اپنی مثا ل آپ ہے ۔جہاں تک سپریم کورٹ اور سو مٹو ایکشن کی بات ہے یہ بھی ایک اچھی چیز ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے ہر آدمی متفق نہیں ہے ۔ ہر آرگن آف اسٹیٹ کا اپنا ایک کردار ہے کہ وہ اپنی متعین کردہ حدود میں رہ کر کا م کریں ۔آرگن آف اسٹیٹ میں مقننہ ، عدلیہ ،ایگزیکیٹواور میڈیا شامل ہے ۔آپ امریکہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ،جرمنی ،برطانیہ کی تاریخ دیکھ لیں جمہوری ممالک میں آرگن آف اسٹیٹ کے درمیان توازن قائم رہنا چاہیے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔
) نواز شریف ،شہباز شریف اور پنجاب حکومت کی پانچ سالہ حکو متی کارکردگی کے بارے میں آپ کیا تبصرہ کریں گے؟
* ان کا اپنا انداز ہے حکومت کرنے کا ۔انھوں نے بھی کچھ اچھے کام کیے ہیں لیکن امن و امان کی صورتحال وہاں بھی خراب رہی اورجب ایسی غیر یقینی صورتحال ہو تی ہے تو پھر اس کا اثر تمام سیکٹرز پر پڑتا ہے ۔ ایک اور بڑا مسئلہ جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کا مطالبہ ہے اور الگ صوبہ جب ہی بنے گا جب تمام اکثریتی پارٹیاں اس پر اتفاق رائے قائم کر لیں گی ۔اہم بات یہ ہے کہ ثقافتی اور اقتصادی مسائل کی وجہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے ۔پاکستان کی 66سالہ تاریخ دیکھ لیں ۔ جنوبی پنجاب جو پاکستان کا زرعی حب تھا اس میں کتنی سرمایہ کاری کی گئی ؟ اس کے برعکس لاہو ر اور راولپنڈی میں کتنی کی گئی ؟سینڑل پنجاب کا اس سے موازنہ کریں،وہاں ہمیشہ زیادہ کام ہو ا ہے ایجوکشنل انسٹی ٹیوٹ ،میڈیکل اور انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ دیکھ لیں یا ہسپتال نسبتا جنوبی پنجاب ،سینٹرل پنجاب میں زیادہ کام ہواہے اور اسی وجہ سے وہاں زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے،انڈسٹریاں لگتی ہیں،تجارت ہو تی ہے ۔کپاس کی 80فیصد پیداوار جنوبی پنجاب سے ہے صنعتیں زیادہ ترفیصل آباد ،لاہور یا کراچی میں ہیں جنوبی پنجاب میں کافی کم ہیں ۔
)عمران خان کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں ؟
* عمران خان ایک نیو فیکٹر ہے، خاص طور پر اکتوبر 30کے جلسے کے بعدوہ پاکستانی سیاست میں ایک بڑے پلےئر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ پہلے وہ کرکٹ پلےئر تھے اب وہ سیاسی لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں ۔پاکستانی سیاست میں وہ 16سال سے ہیں لیکن نمایاں پچھلے چودہ ، پندرہ ماہ سے ہو ئے ہیں ۔باقی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے ۔
) آپ پیپلز پارٹی میں بھی رہے ہیں ، ن لیگ میں بھی رہے ہیں ،کیا آپ کا مستقبل میں تحریک انصاف جوائن کرنے کا ارادہ ہے؟
* ابھی تو میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہی ہو ں الیکشن کس کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے اس کا فیصلہ نہیں کیا کیو نکہ پارٹی میں بھی جو ڑ توڑ ہو رہی ہے پہلے پیپلز پارٹی اور لیگ کا کو ئی اتحاد نہیں تھا لیکن اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایک پلیٹ فارم پر آرہے ہیں ۔ دیکھیں ہم کس پلیٹ فارم سے الیکشن لڑتے ہیں ۔
)عمران خان کی طرف سے کو ئی آفر ہے آپ کو ؟
* اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔
)آپ کے صاحبزادے نے بھی کیا تحریک انصاف میں شمو لیت کر لی ہے ؟
*نہیں اس نے ابھی شمو لیت نہیں کی ہے ۔
) شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی کے بارے میں کیا رائے ہے آپ کی ؟
* میں دوسرے سیاست دانوں کے بارے میں کو ئی تنقید نہیں کر نا چاہتا ۔ ان کی اپنی ایک سیاسی حیثیت ہے “I wish them best” ۔
) 18ویں ترمیم کی آپ نے بات کی آپ کی حکو مت کے ایک گورنر لطیف کھو سہ نے اس ترمیم کو تباہ کن قسم کا قانون قرار دیا ہے ۔اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
* میں نے ان کا اسٹیٹمنٹ نہیں دیکھا ، ہو سکتا ہے ان کے کچھ تحفظات ہو ں مجھے اس کا علم نہیں ہے کہ آئین کے کون سے آرٹیکل ہیں جن پر انھوں نے اختلاف کیا ہے ۔میرے نزدیک طاقت کی جو منتقلی ہو ئی ہے اور کابینہ کو جو اختیارات صدارتی نظام سے ملے ہیں وہ ایک اچھی بات ہے ۔صوبوں کو جو اختیارات دئیے گئے ہیں اس کے بھی اچھے نتائج ہو نگے ۔ ہاں اس میں کچھ چیزیں ایسی تھیں جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس پرغور کرناچاہیے تھا ۔جیسے ہائر ایجوکشن یا زرعی پالیسیوں کا انحصار دوسرے مضبوط وفاقی نظام میں ہوتا ہے ۔ امریکن سسٹم میں ابھی تک ان کا رول ہے۔ہائر ایجوکشن کمیشن والوں نے اس پر اعتراضات کیے تھے کہ انکا انحصار فیڈریشن پر ہو نا چاہیے۔ کچھ اور قومی سطح پر ایسی چیزیں ہیں جن کے پیچھے ریگولیڑی باڈیز بننا چاھیں کیونکہ ڈھانچہ آپ کے پاس موجود ہے پھر ان چیزیں پر کام کو سکتا ہے۔
) آپ کے ڈرائنگ روم میں لیڈی ڈائنا کے ساتھ آپ کی کچھ تصاویر نظر آرہی ہیں ان یادوں کو ہمارے قارئین کے لےئے شےئر کیجیے۔
*اسلام آباد میں لیڈی ڈائنا کی چارد عوتیں ہو ئیں تھیں۔ میں اس وقت منسٹر آف ایجوکیشن تھا ،برٹش ہائی کمیشن نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ آپ ان کی دعو ت کریں ۔ ان کی ایک دعوت صدر صاحب نے کی تھی ،ایک وزیر اعظم نے اور ایک میں نے کی تھی ۔ وہ اس وقت ایڈوائزر تھیں اور میں منسٹر تھا ۔ لیڈی ڈائنا ایک خوش شکل خاتون تھیں ۔ 300کیمرہ مین ا ن کے ساتھ چلتے تھے لیکن جب وہ کھانا کھاتی تھیں اس دوران تصویر لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی تھی ۔یہ کیمرہ مین صرف برطانیہ کے نہیں ہو تے تھے بلکہ دنیا بھر کے چینلز کے کیمرہ مین ان کے ساتھ چلتے تھے ۔اس وقت ان کا ایک اچھا شوٹ ایک لاکھ ڈالر کا ہو تا تھا ۔ وہ ایک خاموش طبع خاتون تھیں ۔ہم نے ان کی دعوت اسلام آباد پر پہاڑ ی پر واقع ایک ریسٹورنٹ میں کی تھی ان کے ساتھ لیڈی نون تھیں جو پاکستان کی یونیورسٹی لیول کی سیاحت کی مشیر تھیں ۔ان کے شوہر پرائم منسٹر آف پاکستان بھی رہے ۔ ان لوگو ں کو ہم نے لیڈی ڈائنا کے ساتھ بٹھا یا ۔لیڈی ڈائنا نے ان سے پوچھا کہ وہ پاکستان کیسے سیٹل ہو ئیں انھوں نے کہا کہ” میں نے ایک آدمی سے نہیں بلکہ ایک ملک سے شادی کی “جس کے جواب میں لیڈی ڈائنا نے کہا کہ “Oh I see”یعنی ان کا مطلب تھا کہ ان کی شادی بھی ایک شخص سے نہیں بلکہ ملک سے ہوئی ۔ میرے خیال سے انھوں نے ایک تاریخی فقرہ کہا ۔
)آپ الیکشن لڑنے جار ہے ہیں ۔ جنو بی پنجاب کے بارے میں اگر بات کریں تو 2002 ء میں پیپلز پارٹی الیکشن ہار گئی تھی۔الیکشن کے دوران کیا وہا ں اب بھی دھاندلی کا خدشہ ہے جب کے الیکشن کمشنر ایک غیر سیاسی حیثیت رکھتے ہیں؟
*میں امید کرتا ہوں کہ 2013غیر جانبدار اور شفاف الیکشن ہو ں۔ ہمارے نظام میں تضاد مو جو د ہے ایک تھپڑ مارنے پر عدالت نے ایک خاتون کو نا اہل قرار دے دیا جب کہ دوسری طرف الیکشن کے دوران دھاندلی ہو تی رہی ہے ،غندہ گردی ہو تی رہی جس کے خلاف کو رٹ میں رجوع بھی کیا گیا لیکن کورٹ نے کہا کہ اتنے مہینے میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ 5سال گزر جاتے ہیں اور فیصلہ نہیں دیاجاتا ۔
) الیکشن کے عمل کو کیسے غیر جانبدار اور شفاف بنایا جا سکتا ہے ؟ کیا تجاویز ہیں آپ کے پاس ؟
* جن کے پاس اختیارات ہیں وہ غیر جانبدار رہیں ۔ 2002ء اور2008ء میں انتخابات بالکل غیر جانبدار نہیں تھے جہاں جہاں ان کو دھاندلی کرانی تھی وہاں دھاند لی ہوئی اور جہاں نہیں کرانی تھی وہاں شفاف الیکشن ہو گئے ۔
)جو الیکشن ہوئے تھے وہ ایک ڈکٹیٹر کی زیر حکومت ہو ئے تھے جب کے آئندہ الیکشن ایک نگراں حکومت کرائے گی۔ کیا ہم غیر جانبدار الیکشن کی امید کر سکتے ہیں ؟
*جو حکومت چلاتے ہیں وہ سول سرونٹ ہو تے ہیں ان کو احکامات دئیے جائیں کہ الیکشن غیر جانبدار اور شفاف کرائے جائے۔
)میڈیا کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیا میڈیا اپناصحیح کردار ادا کررہا ہے ؟
* میڈیا اچھا کردار ادا کر رہا ہے ۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ مختلف قسم کی آراء سامنے آرہی ہیں ۔میڈیا کا بھی اپنا ایک مخصوص نقطہ نظر ہو تا ہے اور کئی جگہ میڈیا بھی بہت کم غیر جانبدارہے لیکن یہ عوام کی مرضی ہے کہ وہ اپنی رائے کیسے بناتے ہیں ۔ دنیابھر میں میڈیا کی آزادی الگ الگ ہے ۔ امریکہ ،برطانیہ ،جاپان میں چینل آزاد ہیں جب کہ چائنا کا میڈیا کنڑول ہو تا ہے ۔ہر ملک کا اپنا ایک سیاسی کلچر ہو تا ہے اور اس کا میڈیا اسی حساب سے چلتا ہے ۔میڈیا کی آزادی پاکستان میں ایک بہت بڑی ترقی ہے لیکن ہمارے معاشرے پر اس آزادی کے کیا اثرات مرتب ہو گے اس کاآہستہ آہستہ پتا چلے گا ۔
) پاکستانی سیاست میں وراثتی سیاست ، وڈیرہ اور جاگیردارانہ عنصر نمایاں رہا ہے ۔مڈل کلاس یا ورکنگ کلاس سیاست میں نہیں آپائی اسکی کیا وجوہات ہیں ؟کن وجوہات کی بناء پر ان کی نمائندگی نہیں ہو پاتی ؟ اس کی وجہ سے پاکستانی سیاست کو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟
*آمریت کے چار ادوار کو ہمیں نہیں بھولنا چاہے ہر دس سال بعدہم سیاست دانوں کا ایک نیا کھیپ لے آتے ہیں ۔ کسی اور پروفیشن میں دیکھا جائے مثال کے طور پر ایک جرنلسٹ کو آپ دس سال گھر بٹھا دیں اورپھر اس سے کہیں کہ جرنلزم کرے۔ آپ کا تجربہ بیچ کے عرصے میں ختم ہو جاتا ہے ۔بہت سارے سیاست دانوں نے غلط کام بھی کیے میں ان کے بارے میں بات نہیں کر رہا ۔ اس ہی وجہ سے سیاست میں تسلسل نہیں رہا اس ہی لیے آپ سیاست دانوں کے بارے میں کو ئی حتمی رائے قائم نہیں کرسکتے ۔بہت سارے ایسے سیاست دان ہیں جنھیں دس ، دس سال کے لیے سیا ست سے باہر کر دیا گیا ۔ ووٹ کے ذریعے انھیں باہر کرنا ایک د رست عمل ہے۔ انڈیامیں 17الیکشن ہو چکے ہیں ،برطانیہ میں 53 اور امریکہ میں اب تک 42الیکشن ہو چکے ہیں۔ وہاں یہ سسٹم نہیں ہے کہ کوئی غیر قانونی طور پر آئے اور دوسرے کو باہرکر د ے اور غیر قانونی طور پر آئے ہو ئے لو گ بڑے بڑے فیصلے کر تے رہیں ۔آج بھی یہ سوالیہ نشان ہے کہ خارجہ پالیسی کو ن بناتا رہاہے ؟ سیکیورٹی پلان کو ن بناتا رہا ہے ؟ جب کہ ہمارے یہاں آئین اور حکومت دونوں موجود ہیں ۔یہ تمام چیزیں بہتر ہو سکتی تھیں اگر سیاست دانوں پر تہمت اور دھبے نہ لگے ہوتے۔ہمارے یہاں احتساب کا رواج نہیں ہے ہمارے یہاں دو قسم کے مفادات ہیں ۔ ایک پرائیوٹ جسے ہم ذاتی مفاد کہتے ہیں، دوسرا عوامی مفاد ہے ۔ہم ان کے درمیان میں تضاد کا شکار ہیں ۔ ہم یہ تمیز نہیں کرسکتے کہ سیاست میں ایک شخص کا پروفائل کیا ہے ؟ پچھلی حکومت میں جن لو گو ں کو جیل میں رکھا اس کو ہم نے موجودہ حکومت میں وزیر بنادیا ۔ہم نے 180ڈگری کا یو ٹرن لیاصرف اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے کہ وہ ان کو چیلنج نہیں کریں گے بلکہ انکا ساتھ دیں گے ۔ ہمارے یہاں سیاست سے مراد اختیارات اورطاقت کا حصول اور ذاتی مفادات ہیں ۔
)یو سف رضا گیلانی تقریبا چار سال وزیر اعظم رہے ہیں ان کا تعلق ملتان سے رہا ہے لیکن ملتان میں ترقی کے آثار بہت نمایاں نظر نہیں آتے ؟
* میں کسی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ۔بہت سارے سیاست دان ہیں جنھوں نے غلط کام بھی کیے ہیں میں نام نہیں لینا چاہتا اور بہت سے سیاست دانوں نے اچھے کام بھی کیے ہیں لیکن میڈیا ان کاموں کو ہائی لائٹ نہیں کرتا ۔
)زرداری صاحب سے کتنی ملاقاتیں ہو ئیں؟
* زرداری صاحب سے کم ملاقاتیں ہوئی۔
)ملاقاتیں کیسی رہیں ؟
* خوشگوار۔۔۔۔
) آبادی کے تناسب سے دیگر شعبوں میں خواتین کی نمائندگی بہت کم ہے ۔سیاسی پارٹیوں میں بھی خواتین کی تعداد کم ہوتی ہے یہ اچھی بات ہے کہ ہم نے ایک کو ٹہ مخصوص کر دیا ہے جس سے انھیں کم از کم نمائندگی تو مل رہی ہے مگر پارٹی میں خواتین ممبران کی رائے کی کو ئی اہمیت نہیں ہو تی آپ کیا سمجھتے ہیں اس بارے میں ؟
* خواتین کی اہمیت ہو گی جب وہ فرنٹ ڈور سے آئیں گی یا فرنٹ ڈور کے طریقے سے آئیں گی۔ایک یہ طریقہ ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستیں بنادیں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قانون میں تبدیلی کے ذریعے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں کو ٹہ رکھ دیں کہ ہر پارٹی کو اتنے فیصد ٹکٹ عورتوں کو دینے ہو نگے میرے خیال میں یہ زیادہ بہتر طریقہ ہے 20فیصد 25فیصدجتنا بھی بہتر سمجھا جائے ۔یو رپین ممالک میں خواتین براہ راست ووٹ کے ذریعے عموما40فیصدتک آجاتی ہیں۔ہم نے مخصوص نشستوں کے ذریعے ایک آسا ن راستہ دے دیا ہے ۔ آسان طریقے سے پھر وہ بات نہیں رہتی ، خواتین کے ساتھ برابری کی سطح کا سلوک نہیں کیا جاتا ۔ان کے ساتھیوں کا موقف ہوتا ہے کہ ہم تو بڑے مشکل طریقے سے آئے ہیں۔ایک طرح سے دو کیٹگریز بن جاتی ہیں ۔ ہماری پرائم منسٹربے نظیر بھٹوپاکستان کی پہلی خاتون پرائم منسٹر تھیں وہ ایک بہترین لیڈر اور سیاست دان تھیں ۔ہماری دوسری خواتین ہیں جو منسٹر ،سفیراور دوسرے بڑے عہدوں پر فائز رہی ہیں ۔اگر خواتین عمو می طریقہ کار سے سیا ست میں آئیں جیسے دیگر ممالک میں ہوتا ہے تو میرے خیال میں ان کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کیا جائے گا اور فیصلہ سازی میں انکی رائے کا بھی اثر ہو گا ۔دوسرے شعبوں جیسے ہماری جامعات میں 40سے 50فیصد خواتین ہیں لیکن روزگار کے مواقعوں میں ان کی نمائندگی کم ہے۔ہمارے یہاں عموما شاد ی کے بعد خواتین کام نہیں کر تی جب کہ دوسرے ممالک میں شادی کے بعد بھی خواتین اپنی پروفیشنل لائف جاری رکھتی ہیں ۔
)خواتین کو عموما شوہر یا سسرال والے اجازت نہیں دیتے ملازمت کرنے کی ؟
*ہمار اکلچر اور رسم و رواج کچھ اس طرح کا ہے ۔لیکن مواقع تو مو جود ہیں اور ان میں اضافہ بھی کیا جارہا ہے ۔جب آپ میرٹ پر آئیں گے تو آپ کا اپنا ایک معیار ہو گا عزت ہو گی ۔
)آپ نے بے نظیر بھٹو کی بات کی خواتین کے حقو ق کے بارے میں بات کی ۔ملالہ یوسف زئی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے وہ ہمارے لیے کیسا رول ماڈل ہیں؟
* ملالہ یوسف زئی دہشت گرد وں نے نشانہ بنایا ۔ملالہ ان لوگو ں کی مخالفت کو جانتی تھی لیکن وہ اتنی بہادر تھی کہ وہ ان سے خوفزدہ نہیں ہو ئی ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو آواز اٹھانا چاہتے ہیں لیکن ان میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا ۔ ملالہ نے اس جرات کا مظاہرہ کیا اور صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بچیوں کے لیے ایک مثال قائم کی ۔وہ ایک امید اور سمبل ہے۔ ہم نے دینا بھر میں یہ پیغام دیا ہے کہ ملالہ واحد نہیں یہاں ہزاروں ملالہ ہیں ۔دہشت گردی سب کے لیے ایک چیلنج ہے کسی کے لیے کم کسی کے لیے زیادہ ہمارے معاشرے میں بچیوں کے لیے زیادہ تعصب پاتا جاتا ہے اور لڑکوں کی زیادہ خواہش پا ئی جاتی ہے ۔ملالہ نے جو مثال قائم کی ہے خصوصا ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں لڑکیوں کے لیے تعصب پایا جاتا ہے یقینااس کے دیر پا اثرات رونما ہو نگے۔
) عابدہ حسین کو بطور سیاست دان، سفارت کار اور بطور بیوی آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟
*عابدہ حسین کا اپنا ایک نمایاں بیک گراونڈ ہے وہ ایک سنگل چائلڈ ہیں ان کے والد صاحب آزادی سے پہلے “Constitunte
Assembly”کے 32ممبران میں شامل تھے ۔ وہ وفاقی وزیر بھی بنے اور صوبائی وزیر بھی۔ آزادی کے بعد بھی انکا ایک بڑا اور اہم کردار رہا ہے ۔ان کی صاحب زادی سیدہ عابدہ حسین دیہاتی ماحول سے سیاست کی طرف آئیں۔انھوں نے سیاست میں شروعات 72ء سے کی ۔72ء میں انھوں نے صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشست حاصل کی، 79ء میں وہ براہ راست منتخب ہو ئیں اور ضلعی چیرء پرسن بنیں۔ 85ء کی اسمبلی میں وہ واحد خاتون تھیں جو نیشنل اسمبلی میں براہ راست منتخب ہوئیں۔ باقی خواتین ،مخصو ص نشستوں پر آئی تھیں ۔وہ ایک بہاد ر خاتون ہیں اور اگر وہ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ حق پر ہیں تو کسی کی پرواہ نہیں کرتیں۔91ء میں وہ مشیر بنیں پھر و ہ امریکہ کی سفیر بنیں ۔ہم آپس میں کزن بھی ہیں ہماری والدہ آپس میں بہنیں ہیں ۔ہمارے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ۔ایک بیٹی کا نام صغری ہے اور دوسری کا ام کلثوم ،دونوں بیٹیوں نے ہارورڈ یو نیورسٹی سے گریجویٹ کیا ۔یہ اعزاز بہت کم لوگو ں کو ملتا ہے ۔ہمارے بیٹے عاد ل نے”yale univerisity” سے تعلیم حاصل کی ۔ہاروڈ ،ییل اور پرسٹن ایسٹ کوسٹ کی تین بڑی یونیورسٹیاں ہیں ۔ییل نے شاہد 6پریزیڈنٹ بنائے ہیں اور ہاڑوڈ نے 11پریزیڈنٹ بنائے ہیں ۔عاد ل نے ییل یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا اور لا ء کی ڈگری کولمبیاسے حاصل کی ۔دوسال امریکہ میں کام کیا پھر پاکستان آگئے ۔ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے گھر کے کسی فرد کے پاس پاکستان کے سوا کوئی دوسری نیشنلٹی نہیں ہے ۔ میں نے 11سال بیرون ملک تعلیم حاصل کی ،13سال عا دل نے 3,سال عابدہ بی بی نے اور صغری اور ام کلشوم نے 6سال بیرون ملک میں تعلیم حاصل کی ۔
) پرائمری ایجوکیشن آپ کے بچوں کی کہاں ہو ئی ؟
* بچوں نے پرائمری ایجوکیشن لاہور سے حاصل کی ۔ میں نے دو سال کونونیٹ میں پڑھا ،پانچ سال ایچ ایس این میں پھر چھ سال یو کے میں تعلیم حاصل کی ۔عابدہ بی بی نے لاہو ر ،سوئٹزرلینڈ اور اٹلی سے تعلیم حاصل کی ۔
)ملالہ یوسف زئی نے اپنے علاقے کی بچیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی جو نوجوان باہر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں انھیں بھی پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہئے آپ کی کیا رائے ہے اس بار ے میں ؟اور وہ کس طرح اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ؟
* تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ایک کو کام کرنا چائیے اور ہر سطح پر آواز اٹھانی چاہیے ۔ہر کسی کو اپنے شعبے میں کردار ادا کرنا چاہیے صرف یہ کہہ دینے سے کہ تعلیم سب کے لیے ہو نی چاہیے یہ کافی نہیں ہو گا ۔ جس کا جو پروفیشن ہے اسے چاہیے کہ اس پروفیشن میں رہ کر اپنا کردار ادا کرے ۔عادل اس وقت لاہور یونیورسٹی میں بطور لاء اسسٹنٹ پروفیسرکی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ میں خودآج کل مختلف یونیورسٹیوں میں سینئر افسران کو لیکچر دیتا ہوں ۔لیکچر کی وجہ سے مجھے دینا بھر میں ہو نے والی اپ ڈیٹزکا پتا ہو تا ہے پھر میں دنیا کا مقابلہ پاکستان سے کرتا ہوں ۔جتنا آپ کا مطالعہ وسیع ہو گا آپ کی معلومات مزید بہتر ہو تی رہے گی ۔میرا یہ بچپن سے عزم تھاکہ اپنے ملک کو بہت آگے لے کر جائیں گے ۔جب میں برطانیہ کلفٹن اسکول میں پڑھتا تھا تواس وقت بچے مجھے چھیڑتے تھے کہ ہم نے تین سو سال آپ پر حکمرانی کی وہ اسکول ایک طرح سے پاور ہاؤس تھا جہاں اعلیٰ عہدے داران کے بچے زیر تعلیم تھے مجھے ان کی باتوں سے بہت غصہ آتا تھا ۔
بہت سے لوگ ذات کی خدمت کر تے ہیں قوم اور عوام کی خدمت نسبتا بہت کم لوگ کرتے ہیں جب کہ ہمارا اہم مقصد قوم اور عوام کی خدمت ہو نا چاہیے

About wmc