Archive for the ‘انٹرویوز/کالم’ Category
پاکستان کے حالات حاضرہ پر دو مفکروں ڈاکٹر مبارک علی بیرسٹر, محمود مرزا کا خصوصی مکالمہ
پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں باشعور اور ترقی پسند لبرل طبقے کو اپنے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور اپنی زندگی بچانے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ یہ ہمارے الفاظ نہیں بلکہ بیرسٹر محمود مرزا کے الفاظ ہیں۔لاہور میں جب مینار پاکستان پر ڈاکٹر طاہرالقادری کا جلسہ ہو رہا تھااس وقت ہم نے پاکستان کے نامورمفکر ڈاکٹر مبارک علی کو ملنے کیلئے فون پر گذارش کی۔بہت کم ہوتا ہے کہ اتنے پڑھے لکھے اور فہم فراست سے پر آدمی اپنے ذاتی رویے میں ایک اچھا انسان بھی ہو اور ملنسار بھی ہو۔ڈاکٹر مبارک کی یہ خوبی ہے کہ جتنے بڑے وہ مصنف ہیں اس سے کہیں زیادہ اچھے انسان ہیں۔جتنے اعلیٰ مقام پر وہ فائز ہیں ، ان سے ملنے ، بات چیت کرنے کے دوران ایک بار بھی آپ کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ آپ پاکستان کے علمی مرتبے میں اعلیٰ مقام رکھنے والے کسی شخصیت سے بات کر رہے ہیں یا ایک عام آدمی کے ساتھ بیٹھے ہیں۔دوران گفتگوایسا لگے گا کہ وہ آپ سے سیکھ رہے ہیں اور آپ کو سننا چاہتے ہیں۔ان کے پاس کوئی علمی رعب ، دبد با یا دکھاوا نہیں۔اگر ایسے کچھ اور لوگ پاکستان کو نصیب ہوں اور علمی تعلیمی ادارے ان سے استفادہ حاصل کریں تو ملک کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔بدقسمتی ہے کہ ایسا نہیں ہے لیکن ہماری خوش قسمتی تھی کہ ڈاکٹر مبارک علی نے نہ صرف ہمیں ملنے کا وقت دیا بلکہ ہمیں لینے کیلئے خود تکلیف کر کے آئے اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر لاھور کے ایک اور بڑے دانشور،ترقی پسند اورانسان دوست وکیل اور مصنف محمود مرزا کے گھر لے گئے۔ان سے ایک مختصر سی نشست میں جو باتیں ہوئیں وہ دستک کے قارئین کی خدمت میں حاضر ہیں۔بہت سے موضوعات تشنہ رہ گئے تاہم ان دونوں شخصیات کی فکر اور سوچ کو سننے اور پڑھنے سے امید کا ایک نیا سورج طلوع ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
سوال : آپ کے خیال ملک میں موجودہ سماج کو مذہبی انتہا پسندی کے رجحان سے کس طرح باہرنکا لا جاسکتا ہے ؟
ؔ ڈاکٹر مبار ک : سو سائٹی کو مذہبی انتہا پسندی سے نکالنا ابھی مشکل ہے کیو نکہ یہاں جتنے بھی روشن خیال اور لبرل طبقے تھے وہ شکست کھا چکے ہیں کہ جب تک سیاست اور مذہب الگ الگ نہیں ہو نگے یہ جھگڑے جو ں کے تو ں رہنگے کیو نکہ ریاست کو مذہب کے معاملے میں غیر جانبدار بنانا ہمارے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی کام ہے ۔میڈیا اور ایجنسیوں کی سپورٹ کی بدولت ہی آج انتہا پسند لوگ نمایا ں ہو کر سامنے آرہے ہیں ورنہ طاہر القادری ایک گورنمٹ کالج میں پروفیسر ہو اکرتا تھا اور آج میڈیا کی سب سے زیادہ کوریج کاحقدار یہی ایک شخص نظر آرہا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں جیسے کوئی اور مسئلہ ہے ہی نہیں۔
سوال : ڈاکٹر طاہر القادری کے نعرہ “سیاست نہیں ریاست بچاؤ “کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے ؟
بیر سٹر محمو د مرزا :ریاست ہو تی ہی سیاست پر قائم ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری سیاست کر کے ریاست چاہتے ہیں جو کہ جمہوری عمل کے مخالف ہے ۔اسلام کی چار اہم باتیں ہیں۔ روایتی،اتحادی ،فلسفیانہ اور صوفیانہ۔ اگر فلسفیانہ اور صو فیانہ مل جائیں تو ان میں مطابقت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ یہ انسان دوستی پرقائم ہے۔یہ بھائی چارے ،رواداری کی تعلیم کو فروغ دیتے ہیں مگر ہمارے یہاں ایسا نہیں ہو تا اور اس قسم کے خیالات رکھنے والے سو سائٹی میں قابل قبول نہیں ہو تے۔ پاکستانی معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہے اور یہاں لو گ ایک دوسرے کا نقطہ نظر برداشت نہیں کر پاتے۔
سوال: پاکستان میں اب تک جاگیر دارانہ نظام کا خاتمہ کیوں نہیں ہو پایا ؟
مرز:ا ریاست کی طاقت پر، اور سیاست پر جاگیرداروں کا قبضہ ہے۔ یہ دونو ں ایک دوسرے سے متصل تصورات ہیں۔دوسرا جاگیر داروں اور سرمایہ داروں میں کبھی کوئی ٹکراؤ اور تصادم سامنے نہیں آیا بلکہ پاکستان کا جاگیر دار ہی صنعت کار بن گیا ہے۔
سوا ل: کیا اس نظام کی تبدیلی کے کو ئی امکانات ہیں تاکہ خالص جمہو ریت پروان چڑھ سکے اور عوام کی نمائندگی ہو سکے۔کیا اس میں ابھی صدیوں کا عرصہ درکار ہے ؟
مرزا : جتنے بھی لوگ جاگیردارانہ نظام کے خلاف تھے وہ پیپلز پارٹی کے سامنے بے بس ہو گئے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہو ں کہ مو جو دہ حکومت جو کہ پیپلز پارٹی کی ہے وہ جاگیر دارانہ نظام کی حمایتی ہے ۔بظاہر وہ بھی اس کے خلاف نعرے لگاتی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پنجاب کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں وہاں کا جاگیر دار صنعت کار ہو گیا ہے اور اگر بلو چستان کی بات کی جائے تو وہاں تو اب بھی صدیوں پرانا نظام رائج ہے ۔اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سماجی تبدیلی لانی ہو گی اور سیاسی قوت ایسی نہیں جو ا س چیز کو آگے بڑھا سکے۔
سوال: ڈاکٹر مبارک صاحب، آپ کی رائے کے مطابق لبرل فورسز شکست کھا چکی ہیں،وہ آگے نہیں آرہیں،سیاسی قوت بھی نہیں ہے جو اس چیز یا عمل کو آگے بڑھا سکے۔ کیا کوئی امید نظر نہیں آتی ؟
ڈاکٹر مبارک: ہم مکمل شکست تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ تبدیلی تو آتی ہے۔ ایک تبدیلی تو وہ ہے جو خود بہ خود ٹیکنا لوجی اور گلوبلائزیشن کی وجہ سے ضرورت کے تحت آتی ہے ۔ایک تبدیلی وہ ہو تی ہے جو کہیں صحیح راستے کی طرف لے جاتی ہے۔ جب کہ “ایجنٹس آف چینج “(تبدیلی کے محرکات ) کے ذریعے وقوع پزیر ہو تی ہے ۔جو مثبت تبدیلی کے لیے کام کررہے ہیں ان کو ڈھونڈنا ہمارا کام ہے کیونکہ جب تک ہم ریاست کے ڈھانچے کو تبدیل نہیں کرینگے، شخصیت پرستی نہیں چھوڑیں گے ہمارے لےئے آگے کے راستے نہیں کھلیں گے۔ کیونکہ مو جودہ نظام میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ جا گیر داروں کی تعداد جمہو ریت میں اور زیادہ بڑھ جا تی ہے اور بیو رو کریسی بھی انہی کے اختیار میں آجاتی ہے۔ اس لئے نظام کو بدلنا از حد ضروری ہے جو سیاسی جدوجہدکے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے۔ مگر پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے منشور میں ریاستی نظام کی تبدیلی یا سماجی تبدیلی وغیرہ کا ذکر نہیں۔ اس لیے فی الحال تو یہ ممکن نظر نہیں آتا البتہ اگر لوگ اٹھ کھڑے ہو ں اور ان میں اتنا شعور آجائے کہ وہ تبدیلی لا سکیں تب ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔
سوال : آپ کیا سمجھتے ہیں کہ گلو بلائزیشن اور سرمایہ داری جو تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے اس صورت میں بھی یہ سارے سسٹم مو جود رہیں گے؟
ڈاکٹر مبارک : سرمایہ دارانہ نظام کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیو نکہ یہ نظام بھی اپنے آپ کو تبدیل کرتا رہتا ہے، جیسے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ نظام مضبوط ہو نا شروع ہوا ہے۔روس کے زوال کے بعد تو یہ اور طاقتور ہو گیا ہے ۔لیکن اس کے خلاف جدو جہد بھی ان ممالک میں جاری ہے سوشل فورم بھی انہی ملکوں میں بنا اور ان کی مدد سے چلا،گو کہ اس کا اثر اتنا زیادہ نہیں ہوا کہ تبدیلی لا سکے ۔اس کے علاوہ آکیوپائے وال اسٹریٹ تحریک بھی زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہو ئی لیکن یو رپی ممالک نے معاشی طور پر اتنی ترقی کر لی ہے کہ ایک عام آدمی کو بنیادی ضرورتیں میسر ہیں۔ لیکن اگر ان ممالک مین حالات ذرا بھی شورش زدہ ہو نے لگیں اور وہ دیکھیں کہ عوام زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں تو وہ اپنے نظام میں تبدیلی لے آتے ہیں ۔یعنی یہ کو ئی انیسو یں صدی کی بات ہے جب جرمنی کے چانسلر وسپارک تھے۔ اس نے کہا تھا کہ اس سے پہلے کہ انقلاب آہے اور ہم اس سے متاثر ہو ں ہم خود انقلاب لے آتے ہیں ۔ اس پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے مزدوروں کی نئی انشورنس کا سسٹم رائج کیا ان کے کام کے اوقات کو گھٹایا۔اس ہی طرح کی صورتحال بالکل انگلینڈ میں تھی۔ وہاں بھی انھوں نے نظام میں کئی اصلاحات کیں ۔ ووٹ کا حق ،جو پہلے سب کو نہیں تھا وہ دیا گیا اور عورتوں کو بھی یہ حق ملا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد سے سرمایہ دارانہ نظام میں بھی تبدیلی لانے کا عنصر مو جود ہے اور وہ وقت کے حساب سے تبدیلی لاتے رہتے ہیں۔ہماری مصیبت یہ ہے کہ ہمارے یہاں جب تک نئے نظریات اورخیالات پیدا نہیں ہو نگے، ہماری سوسائٹی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی ۔ہمارے یہاں نئے خیالات اور نظریات اس لئے پیدا نہیں ہو رہے کہ ہمارے یہاں کو ئی فلسفی نہیں ہے، کو ئی سوشلسٹ نہیں ہے ،کو ئی انتھرولوجسٹ نہیں ہے۔ یعنی جو لوگ نئے نظریات اور خیالات پیدا کرتے ہیں وہ مو جو د نہیں ہیں ۔ہمارے یہاں یا تو شاعر ہیں یا پھرمذہبی رہنما ہیں ۔پوری اسلامی دنیا میں اب کو ئی فلسفی نہیں ہے ۔ابن سینا اور باقی جو تھے وہ پرانے ہیں اب کو ئی نہیں ہے ۔کچھ نہیں تو ہم شاعر کو فلسفی بنا دیتے ہیں ۔اقبال کو ہم فلسفی کہتے ہیں حالانکہ وہ فلسفی نہیں۔یو رپ میں روشن خیالی کی پوری ایک تحریک چلی ہے اور سترویں صدی سے سائنسی انقلاب آیا۔ پھر اس کے بعد روشن خیالی کی تحریک چلی ، اس کے بعد صنعتی انقلاب آیا۔فرانسیسی انقلاب آتا ہے وہ ایک بالکل نئے نظریات کو پیدا کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ تصادم بھی پیدا ہو ا۔اور کنزرویٹیو اور لبرل کا خیال ملا اور یہاں سے ہی لیفٹ اینڈ رائٹ کی اصطلاحات شروع ہو تی ہیں ۔جرمنی کو دیکھیں کانٹ ،ہارڈے اورنطشتے وغیرہ یہاں بھی فلسفیوں کی بڑی تعداد مو جو د ہے۔قومو ں کو یہ چیزیں بناتی ہیں ۔ہمارا انحصار شاعروں پر ہے۔ فیض احمد فیض کو پڑھ لیا، حبیب جالیب کو پڑھ لیا اور جب ان کو اقبال بانو ترنم میں گاتی ہے تو بڑا اچھا لگتاہے یہ ساری چیزیں انٹرٹینمنٹ توہیں مگر شعور کو بیدار تو نہیں کر رہیں۔
سوال: اس ساری صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے ہمیں کے کرنا چاہیے ؟آپ کے خیال میں سوسائٹی میں اس حوالے سے بحث و مباحثے ہونے چاہئیں ؟
ڈاکٹر مبارک: جب تک نئے خیالات ،افکار اور نظریات پیدانہیں ہوں گے، سو سائٹی جہاں کھڑی ہے وہیں کھڑی رہے گی۔ نوجوان نسل کواس طرف توجہ دینی چاہیے ،شاعری کو چھو ڑ کر سنجیدہ قسم کی چیزیں پڑھیں اور اپنی سوسائٹی کو سمجھیں کہ اس کے مسائل کیا ہیں ۔ہم باہر کے لوگوں کو پڑھ کر اپنی سو سائٹی کو نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ہندوستان نے فلسفی پیدا کر لیے ہیں ان کے یہاں دانشورزبردست کردار ادا کر رہے ہیں جنہوں نے وہاں تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اتنا بدلہ ہے کہ اب بین الاقوامی طور پر ا ن کے نظریات کو تسلیم کر لیا جا تا ہے۔ مرتیاسین کیمبر ج چھوڑ کر ،شانتی نکیتن میں آکر کر چانسلر بنا ہو ا ہے ۔ پاکستان میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ مذہب کے دائرے میں رہ کر بات کریں۔ اس طرح آپ آگے نہیں بڑھ سکتے دیواریں آجاتی ہیں۔
سوال : اس حوالے سے کیا کوئی امید کی جاسکتی ہے کہ ہم ان حدود کو کبھی پار کرپائیں گے؟کوئی امید کی کرن؟
ڈاکٹر مبارک : اس سلسلے میں کو شش کرنی پڑے گی۔ اگر سو سائٹی میں تبدیلی کی خواہش ہے تو ظاہر ہے کہ سو سائٹی ایسے لو گوں کو پیدا کر ے اور اگر سوسائٹی میں تبدیلی کی خواہش نہیں ہے تو پھر یہ افکار اور نظریات بھی بیکار ہو تے ہیں ۔
مرزا: پاکستان میں بنیادی تبدیلی کے حالات پو ری طرح موجود ہیں۔غربت، محرومی،بے روزگاری ،بھوک، غرض تما م مسائل ہیں ما سوائے لیڈر شپ کے۔ لیکن اگراس ضمن میں کوئی اتحاد سامنے نہیں آیا تو شدید قسم کی انار کی ہو گی ۔دنیا میں بے شمار قسم کی دولت پیدا ہو ئی ہے ۔اب جوسرمایہ داری ہے وہ انڈسٹریل نہیں ہے وہ فنانشیل ہو گیا ہے اور فنانشیل مالیاتی ہے اس میں سرمایہ داری نہیں ہے۔ وہ اب سامراجیت بن چکا ہے۔دولت، زرعی ملکوں سے ٹیکنالو جیکل ایڈوانس ممالک میں منتقل ہو گئی ہے ۔جو مسائل فنانشیل کپیٹلزم نے پیدا کئے اس سے لو گوں میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ حکومت کے خزانے میں خسارہ ہو گیا ہے لوگ مقروض ہو گئے ہیں ۔ہماری مالیاتی سرمایہ داری بہت بڑے بحران میں مبتلا ہے ۔اگر ان میں سمجھ ہے توجیسے انڈسٹریل کپیٹلزم نے خود کو بچایا تھا اور ویلفےئر سسٹم متعارف کرایا تھا وہ اپنے نظام کو بچالیں گے اور باہر جب تبدیلی آئے گی تو اس کے عالمی اثرات ہو نگے اور پھر ہمارے ملک کے اندر بھی تبدیلی آئے گی ۔
سوال: یہاں لبرل فورسز کی بات ہوئی۔ یہ کیوں محسوس کیا جاتا ہے کہ پنجاب میں کم ہو ئے ہیں پورے ملک کی بھی وہ ہی صورتحال ہے اس سے دوصوبے او رتیسرا بلوچستان بہت زیادہ متاثر ہو ا ہے ملٹری فورسز کی بات ہو رہی ہے لیکن ابھی تک وہاں پولیٹیکل فورسز مو جود ہیں ۔جو قیادت کی بات کرتا ہے اور ان کے خلاف بھی بات کرتا ہے ،سندھ میں بھی سیاسی قیادت کی بات ہو تی ہے کیا اس صورتحال کو بہترکر نے کے لیے ڈیموکریٹک فورسز کردار ادا نہیں سکتیں؟
مرزا: ان کے مسائل یہ تھے کہ ان کے حقوق کا معاملہ تھا ، تہذیب کا معاملہ تھا ۔اردو بولنے والے عدم تحفظ کا شکا ر تھے کہ ان کے پاس تحریک بھی تھی اور زبان بھی لیکن زمین نہیں تھی۔بعد میں انہوں نے اس دھرتی کو اپنا لیا لیکن انہوں نے اپنا وجو د اس کے باوجود الگ زبان کی بنیاد پر قائم رکھا، وہ مین سٹریم میں آجائیں، جھگڑا ختم ہو جائے گا ۔ان کی زبان پر تقسیم دوسری زبان بولنے والے قبول نہیں کرتے، پنجابی بھی نہیں پٹھان بھی قبول نہیں کرتے ۔سپریم کور ٹ کے فیصلے پر ہی لے لیں۔ کیا نئی حلقہ بندیاں ہوں گی یا نہیں ہوں گی۔ سب جانتے ہیں کہ کراچی میں ایک جماعت نے اجارہ داری قائم کی ہو ئی ہے ۔
سوال ۔ اس وقت آپ کے پاس انٹیلی جنٹس کے چیمہ صاحب آئے، اس کے بعد آپ پر کمیو نسٹ کا دھبہ لگایا دھل گیا ؟
مرزا: وہ دھبہ صاف ہو گیا ۔جب وہ جا رہا تھا تو اس نے مجھے پروفیسر کہا۔اس وقت ضیا ء الحق کامارشل لاء لگا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ
ہمارے جیسے ملکوں میں مل جل کر جمہوری طریقے سے معاملات حل ہو سکتے ہیں مارشل لاء کے ذریعے سے نہیں۔چیمہ ایک پڑھا لکھا آدمی تھا وہ ایک پولیس افسر تھا اس نے بھی میری بات کی تائید کی کہ ہمارے ملک کے مسائل مارشل لاء سے حل نہیں ہونگے ۔ہماری اچھی انڈراسٹینڈنگ ہو گئی تھی کیو نکہ سیاست میں ہمارے نظریات ایک تھے ۔جب وہ جا رہا تھا انھیں چھوڑنے میرا ملا زم گیا، میں دفتر میں ہی رہا۔ چیمہ نے اپنے ڈی ایس پی سے کہا کہ یہ کمیونسٹ نہیں ہے یہ پروفیسر ہے ۔ میں نے کتاب میں لکھا تھا اور پنجابیوں سے کہا تھا کہ تمھیں یہ سمجھنا ہے کہ یہاں دوسرے زبانیں بولنے والوں ا ور دیگر صوبے کے لوگوں کی تہذیب ان کے حقوق اوران کے مسائل سمجھنے پڑیں گے اور ان کے ساتھ انڈراسٹینڈنگ کرنی پڑے گی۔ ان کو صوبائی خود مختاری دینی پڑے گی اس کے بغیر ہمارا ملک کبھی مستحکم نہیں ہو گا اور ترقی نہیں کر سکے گا ۔
سندھ میں ایم آر ڈی کی جدوجہد پر میری رپورٹ ،،آج کا سندھ،، 1984 میں چھپی تھی اور 86میں کتاب آئی تھی۔میری تین رپورٹ شایع ہوئیں ۔84ء میں ایک رپورٹ لکھی تھی کہ اردو بولنے والوں کو شکایات سندھیوں سے نہیں،پنجابیوں سے بھی ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ کراچی میں ہم رہیں اور سندھی ،پنجابی جو یہاں کام کرنے آتے ہیں ان کے خیال تھا کہ اس سے ان کے مواقع محدود ہو جائیں گے ۔
سوال: چالیس پچاس سالوں میں دنیامیں نظریاتی اور فطری طور پر تبدیلیاں رونما ہو ئی ہیں بہت سارے ممالک ٹوٹے ہیں کچھ نئے بنے ہیں ہمارے یہاں کو ئی تبدیلی نہیں آئی اس کے کیا اسباب ہیں ؟
مرزا: تبدیلی تب آتی جب ہم فطری اعتبار سے اس دور میں آتے۔ لیکن نظریاتی طور پر ہم اس دور میں نہیں ہیں یہ دور سائنس کا دور ہے۔ اس سائنسی دور سے پہلے ایک شعوری دور تھا چار ،پانچ سو سال پرانا ۔دنیا اب شعور سے سائنس میں داخل ہو رہی ہے لیکن ہم تو ابھی شعور کے دور میں بھی نہیں پہنچے۔ہم نے شعوری طور پر ترقی نہیں پائی۔ طالبان کی مثال لے لیں۔اقبال نے آج سے 80سال پہلے اسلام میں اتحاد کا نظریہ پیش کیا تھا لیکن وہ نظریہ کتاب میں چھپا ہو ا ہے اسکا سوسائٹی پر اطلاق نہیں ہوا۔طالبان وہ نظریہ بھی نہیں مانتے۔ہم نے پھر آئین میں جدید اور مذہبی نظریات کا امتزاج کیا ہے ۔73ء کے آئین کو دیکھ لیں ۔لینڈر یفارم کا فیصلہ سپریم کورٹ کے شریعت بینچ کا فیصلہ دو ججوں نے کیا جن میں ایک شفیع الرحمن اور دوسرے وسیم حسن شاہ تھے۔ انھوں نے اس لینڈر یفارم کے قانون کو اجتہاد قرار دیااور کہا کہ یہ جائز ہے اور اس پر عمل ہو نا چاہیے۔ ہم تو اس دور میں داخل نہیں ہو ئے کہ جو فیصلہ اسمبلی کرتی ہے وہ اجتہاد ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس مولویوں کے ساتھ ہو گئے جنہوں نے لینڈ ریفارمز کو غیر اسلامی قرار دیا تھاکہ اسلام میں جائیداد پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔
73ء کے آئین میں یہ بات نہیں تھی لیکن ضیاء الحق نے اسمبلی کے قانون کے اوپر ایک شریعت کور ٹ بنالی ۔73ء کا آئین اپنی اصل حالات میں نہیں ہے۔حکومت کہتی ہے کہ ہم نے 73ء کے آئین کو بحال کیا ہے لیکن جو تبدیلیا ں ضیاء الحق نے کی وہ مو جود ہیں وہ تبدیل نہیں کی گئیں ۔
ڈاکٹر مبارک: ریاست کا مذہب اسلام کہہ کر آپ نے خودبہ خود سارے اختیارات علماء کو دے دئیے آپ کے سماجی،معاشرتی اور ثقافتی مسائل علماء کی روشنی میں حل ہونگے۔
سوال: جس سرزمین میں بابا وارث شاہ ہوں، بابا بھلے شاہ ہو اور جہاں اتنے بڑے نام مو جو دہوں اور علم مو جو دہو وہاں مذہبی انتہا پسندی نے کیسے جنم لیا اور اس کا کیا انجام ہو سکتا ہے ؟
ڈاکٹر مبارک : مذہبی انتہا پسندی شہری متوسط طبقے کے اندر پیدا ہو ئی ہے۔دیہات میں رہنے والے لوگوں انتہا پسند نہیں تھے ۔اس کی ابتداء شہروں اور متوسط طبقے سے ہو ئی ہے جس نے وارث شاہ اور بھلے شاہ سب کو چھوڑ کر اقبال کو پڑھا ہے جن کی آئیڈیل ریاست تھی مذہبی علما ء بھی تھے۔جب انھیں جگہ ملی تو انھوں نے مو قع سے فائدہ اٹھایا ۔بابابھلے شاہ کو ریاست نے اس طرح ownکر لیا ہے کہ بھلے شاہ کے مزار کو انھوں نے مسجد بنالیا ہے۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور ملک کے سینئر سیاستدان فخر امام سے خصوصی مکالمہ
4135نرل ضیاء کی حکومت کے خلاف الیکشن لڑا تھا انہوں نے چودہ ماہ میں مجھے اسپیکر کے عہدے سے ہٹا دیا
پاکستانی آئین کے مطابق وزیراعظم ،صد ر اور کا بینہ پاور فل ہیں لیکن ملک میں
سب سے زیادہ طاقتور کے طور پر آرمی چیف کا نام آتا ہے
آمریت ہر دس سال بعد سیاست دانوں کی ایک نئی کھیپ لے آتی ہے
دنیا میں CS BRIکی صورت میں نئی عالمی طاقت بن رہی ہیں
کلفٹن کالج انگلینڈ سے تعلیم حاصل کرنے والے قومی اسمبلی کے سابق اسپیکرسید فخرامام ،ملتان میں اپنے گھر میں سیاسی طور پر مستحکم پاکستان کے سپنے بن رہے ہیں۔فوجی آمریتوں نے ملک کے ساتھ کیا اور کس طرح کیا ہے؟ اس کے کچھ چشم دید گواہ اور ان کا قدرے نشانہ بننے والے اس سینئر سیاستدان کے حوصلے پست تو نہیں ہوئے۔عمرڈھلی لیکن امیدوں کا سورج اب بھی تابناک ہے اور ڈوبا نہیں،کسی گرہن کی زد میں نہیںآیا۔فوجی آمریتوں سے بچنے کے تھکا دینے والے سفر میں ان کی ساتھی سیدہ عابدہ حسین بھی ان کے ساتھ رہی ہیں۔پاکستان کے صف اول کے سیاستدانوں میںیہ سیاسی جوڑی بھی مثالی ہی ہے۔
غیرجماعتی انتخابات کی پیدوار کا طعنہ بھی فخر امام پر لگایا جاتا ہے تو ان پرآمر جنرل ضیاء کی کابینہ کا رکن رہنے کا الزام بھی ہے۔وہ جنرل ضیاء کو اچھا نہیں سمجھتے ہیں لیکن ان کے ساتھ رہنے میں اپنا دفاع ضرور کرتے ہیں۔جنرل ضیاء کے ساتھ رہنے کا پچھتا واچہرے سے جھلکتا ضرور ہے لیکن اظہار نہیں کرتے۔ان کے سینے میں پاکستان کی خون بہا تاریخ کے کئی باب موجود ہیں۔کریدنے کی جستجو کرو تو خاک نہیں ، خیال نکلتے ہیں حقائق عیاں ہوتے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اس قومی سطح کے سیاستدان کو تخت لاہور سے شکایتیں بھی ہیں تو کالاباغ ڈیم بنانے پر تحفظات بھی۔ایجنسیوں کی سیاست میں مداخلت سے نالاں بھی ہیں تو اپنی پارٹی میں نظرانداز کئے جانے پر ناخوش بھی۔عام انتخابات قریب ہیں۔پنجاب میں بہت سے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہیں۔سید فخرامام دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔پیپلزپارٹی سے خوش نہیں لیکن اس کو جلدبازی میں چھوڑنے کے حق میں بھی نہیں۔الیکشن سے پہلے ملک بھرمیں ، بشمول جنوبی پنجاب میں بہت سے سیاسی طوفان اٹھنے اور تھمنے ہیں۔اس کے نتیجے میں یہ سیاسی خاندان خود کو کہاں پائیگا اس کے کچھ اشارے ان کی گفتگو میں موجود ہیں۔
)پاکستانی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی جمہوری حکومت اپنے پانچ سال پو رے کرے گی آپ حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔آپ ان پانچ سالوں کا تجزیہ کیسے کریں گے ؟
*موجودہ حکو مت کے پونے پانچ سال کے عرصے میں بعض بہت اچھے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو قابل تحسین ہیں ۔ان میں آئینی اٹھارویں ترمیم ،انیسویں ترمیم اور بیسویں ترمیم خاص طور پرقابل ذکر ہیں کیو نکہ ان ترامیم کے ذریعے ہم صدارتی نظام سے پارلیمانی نظام حکومت کی طرف گئے ہیں 1973 ء کے آئین کی خصوصیات میں پارلیمانی نظام ،وفاقی طرز کی حکومت ،آزادعدلیہ ،بنیادی انسانی حقوق اور اسلامی طرز زندگی بنیادی نکات میں شامل تھے۔ایسی حکو مت میں جو خالصتاً عوام کی نمائندہ نہ ہو اس میں اختیارات وزیر اعظم سے صدر کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں جیسا کہ 2007میں اور 85ء سے 90ء کی دہائی میں ہوا ۔اس جمہوری حکومت میں دوسرانمایاں پہلو نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں چاروں صوبوں کے درمیان اتفاق رائے ہے یہ منظوری ایک تاریخی کارنامہ ہے جس کے ذریعے کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کر کے مرکزسے چاروں صوبوں کو اختیارات کی منتقلی نہایت اہم پہلو ہے جسکا یہ صوبے عرصہ دراز سے مطالبہ کرتے چلے آئے تھے۔پھر وفاق کے ستاون فیصد حصے کو کم کرکے 48فیصد کر دیا گیا جس سے بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے مالی وسائل میں خاصا اضافہ ہو گیا ۔پھر آبادی کے تناسب سے دی جانے والی وفاقی مالی معاونت کو کم کرکے 82فیصد کر دیا گیا اور اس میں دیگر اہم عوامل یعنی غربت، جغرافیائی حدود وغیرہ کو مد نظر رکھ کر ایوارڈ کی تقسیم کی گئی ۔جس پر تمام صوبوں کا اتفاق رائے تھا اس نے حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر کے ملک کو ترقی کی سمت میں گامزن کر دیا ۔جہاں تک ان پانچ سالوں کی حکومتی کمزوریوں کا تعلق ہے تو پہلے نمبر پر کر پشن میں انتہا ئی درجے کا اضافہ ہے ۔اس حکو مت میں گورنس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال بھی خاصی خراب رہی خاص طور پر افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقوں میں خود کش حملے بڑی تعداد میں ہو ئے ۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کافی خراب رہی اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے پاکستان کے اسٹریٹجک اداروں کو نشانہ بنا یا گیا جن میں جی۔ایچ۔کیو،مہران بیس اورکامراہ بیس کے ادارے شامل ہیں ۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں پتا کہ مجرمان کو گرفتار کیا گیا یا نہیں ؟ ان کے خلاف کیا قانونی جارہ جو ئی کی گئی ہے؟یہ حملے پاکستان کی بنیاد کو کمزور کرنے کی سازش ہیں ۔ان حملوں کا ہمارے بڑے اداروں پارلیمان،عدلیہ ،ایگز یکیٹو اور میڈیا کی کارکردگی پر براہ راست اثر پڑتا ہے ۔
سوال:پاکستان کی اقتصادی صورتحال کے بارے میںآپ کا کیا خیال ہے؟
ہماری اقتصادی حالت میں بہتری اس لیے نہیں آسکی کہ جب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکر دگی اچھی نہیں ہو گی لوگ قانون کو ہا تھوں میں لیتے رہیں گے۔امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہو تی ۔ہماری معاشی ترقی کی شرح پچھلے سال بہت کم رہی ۔ہماری آبادی میں اضافہ کی شرح ہماری معیشت کی ترقی کی شرح سے کہیں زیادہ ہے اس لیے ہم غربت کو کم نہیں کر سکے ۔ کراچی ہمارا کامرس ،صنعت ،تجارت اور روزگار کا مرکزہے ۔یہاں روزگار کے مواقع زیادہ ہو تے ہیں لیکن سرمایہ کاری نہ ہو نے کی وجہ سے اور ٹارگٹ کلنگ کے سبب اب یہاں سے بھی یہ مواقع ختم ہو تے جا رہے ہیں �ۂٌٌؐؐآبادی کے لحاظ سے پاکستان چھٹا بڑا ملک ہے ۔پہلا چائنا،دوسرا انڈیا،تیسرا امریکہ ،چوتھا انڈونیشیا ،پانچواں برازیل اور چھٹا پاکستان ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے مردد شماری نہیں کرائی پاکستان میں آخری مرتبہ مردم شماری 98ء میں ہو ئی جب کہ آئین یہ کہتا ہے کہ ہر دس سال بعد آپ مردم شماری کرائیں ۔ہمارے ملک میں فی کس آمدنی مشکل سے ہزار یا گیارہ سو ڈالر ہے ۔آزادی کے وقت جو ممالک ہم سے پیچھے تھے آج وہ ہم سے آگے نکل چکے ہیں مثال کے طور پر کو ریا ،ملائیشیا اور تھائی لینڈ ہم سے پیچھے تھے ۔کو ریا آج دنیا کی گیارویں بڑی اکنا می ہے ۔ہمیں ان سے سبق سیکھنا چاہیے کہ دوسرے لو گو ں نے بھی ترقی حاصل کی مسائل تو ہر ایک کے ساتھ ہو تے ہیں ۔یہ بھی ہماری تاریخ کا ایک حصہ ہے کہ ہما ری اکثریت ہم سے علیحدہ ہو گئی اور ہمارا ملک نصف ہو گیا سقوط ڈھاکہ ہمارے لیے ایک بڑا سانحہ ہے ۔
دنیا میں برک ایمر جن پاور بن رہی ہیں ۔ BRICSسے مراد برازیل ،روس،انڈیا ،چائنا اور اب پانچواں ساوتھ افریقہ کو کہا جارہا ہے ۔ان ممالک کو ابھر تی ہو ئی طاقت ان کی بڑھتی ہو ئی اقتصادی قوت کی وجہ سے کہا جا رہا ہے ۔ہمیں دنیا سے اپنا موازنہ کرنا چائیے .
)کیا آپ سمجھتے ہیں کے مو جودہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں ناکام ہو گئی ہے ؟
* حکو مت کی کارکردگی ملی جلی ہے ۔آئینی مسائل پر اس حکومت نے کافی کام کیا ہے ۔فوڈ سیکیورٹی کے لیے بھی حکومت نے اقداما ت اٹھائے ہیں ۔ گورنس ، امن و امان اور معیشت ان مسائل پر مزید کام کی ضرورت ہے ۔ بجلی کا بحران ایک بڑا مسئلہ ہے جسے حکومت حل نہیں کر پائی ۔زرعی پالیسیا ں ابتدائی دو سال میں اچھی رہیں لیکن پچھلے دوسالوں میں کاشت کاروں کے لیے ان پٹ پرائززبہت زیادہ ہو گئی ہیں۔صنعت کاروں کے لیے بھی حکومت نے ملا جلا کام کیا ہے ۔جب امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں ہو تی تو صنعت کار بھی پریشان ہو جاتا ہے کہ اس کا سرمایہ ڈوب نہ جائے پھر انھیں بھی فیکٹریاں چلانے کے لیے پاور کی ضرورت ہو تی ہے بجلی کی لوڈشیدنگ ہو تی ہے تو فیکٹریاں بند ہو جاتی ہیں۔اب بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کے بحران کا بھی سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔پانی کی کمی بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہاہے ۔ 1947 ء میں ہماری آبادی سواتین کروڑ تھی جب کے اس وقت کا مغربی پاکستان آج کا پاکستان ہے پانی کی دستیابی اس وقت 85ہزار لیٹرز تھی جو کم ہو کر اب آٹھ سو فٹ لیٹرز رہ گئی ہے ۔پھر تین دریا ستلج ،بیاج اور راوی ہم نے ہندوستان کو دے دئیے ۔انڈس واٹر پلان کے تحت دو اسٹوریج ہم نے بنائے باقی جو دو بنانے تھے وہ کئی اعتراضات اور وجوہات کی بناء پر نہیں بنائے گئے۔انڈر گراؤنڈ واٹر بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پنجاب کی زیادہ تر زیر کاشت زمین میں پچپن سے ساٹھ فیصد زیر زمین پانی کا استعمال ہوا۔ بجلی کے نرخ بھی کاشت کار کے لیے بہت زیادہ ہیں ان وجو ہات کی وجہ سے ان پٹ اور آؤٹ پٹ کا تنا سب پچھلے دو سال سے کاشت کار کے بہت خلاف جا رہا ہے ۔
حال ہی میں ایک تجارت ہم نے انڈیا کے ساتھ شروع کی ہے جس کے ذریعے آئی ۔ایم ۔ایف کو ہم نے اپنی حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کی ہے اصولی طور پر یہ ٹھیک ہے لیکن میرے خیال میں اس کے پس پشت ہم نے کام نہیں کیا کہ اس کا ہماری زرعی مصنوعات پر کیا اثر پڑے گا۔بھارتی حکومت اپنے کاشت کاروں کو27ارب ڈالر کی سبسڈی دیتی ہے۔جب کہ ہماری سبسڈی اس کے مقابلے میں تقریباً نا ہونے کے برابر ہے ۔ہماری بڑی فصلیں گہیوں ،دہان اور کپاس کی پیداوار ان کے مقابلے میں بہت کم ہو گی تو ہم کس طرح ان سے مقابلہ کر سکیں گے ۔پھر اس کے ساتھ ساتھ انڈیا سے پھل اور سبزیاں بھی آئیں گی ،انھوں نے ان سب کا یقیناً مطالعہ کیا ہو گا لیکن ہم نے “Cost Analysis”اچھی طرح نہیں کیا ۔
)آپ نے سبسڈی ،بجلی کے بحران ،مہنگائی اوردیگر مسائل پر بات کی۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کن وجوہات کی بناء پر حکومت ان مسائل کو حل نہیں کر پائی ؟
*حکومت کی ہمیشہ کچھ حدود ہوتی ہیں ۔جیسے کہ معاشی بحران جس کا سامنا صرف پاکستان کو نہیں ہے بلکہ پو ری دنیا کو 2008ء کے بعد سے اس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔یہ معاشی بحران بین الاقوامی سطح پر آیا ہے ۔امریکہ کو اس وقت چودہ ٹریلین ڈالرز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن چائنا اور انڈیا اقتصادی لحاظ سے اچھے چل رہے ہیں ہمیں بھی اچھا چلنا چاہیے تھا اور ہم بہتر چل سکتے تھے۔لیکن دہشت گردی ہمارے لیے ایک عذاب بن گئی ہے ۔ریاست کا استحکام اور قانون کی پاسداری کسی بھی مہذب معاشرے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ قانون کے بغیر کوئی ریاست نہیں چل سکتی ۔امن و امان کی صورتحال ایک بنیادی چیز ہے ۔ہمارے ٹی وی اور ریڈیو پر بریکنگ نیوز میں بم دھماکوں کی خبریں نشر کی جارہی ہو تی ہیں۔المیہ یہ ہے کہ حکومتی سطح پر کوئی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اس کے برعکس دوسرے ممالک میں آپ دیکھیں ایک چھوٹی سی مثال سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل پیٹراسن کی ہے اس سے ایک غیر ذمہ دارانہ کام یا غلطی ہو گئی اس نے دو منٹ نہیں لگائے استعفیٰ دینے میں ۔پاکستان میں اس کی ایک مثال نہیں ملتی ۔
) ہمارے سیاستدان استعفیٰ کیو ں نہیں دیتے ؟
*صرف سیاستدان نہیں جتنے لوگ پاور میں ہیں کوئی نہیں دیتا کہ ابھی پانچ سال ہوئے ہیں اور چلاؤ ۔ہمارے ملک میں بالکل الٹ نظام ہے کیو نکہ ہم نے اپنا سیاسی کلچر ایسا نہیں بنایا۔ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں جب کہ احتساب،جوابدہی ،محاسبہ ،چیک اینڈ بیلنس جمہوریت کے بنیادی اجزا ہو تے ہیں ۔
) ایجنسیوں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ پاکستانی سیاست میں انھوں نے اپنا اثرورسوخ بڑھایا اور اپنے مقصد کی حکومتیں بنائیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں ایجنسیوں کا کردار اب بھی شامل ہے ؟
* ابھی بین الاقوامی سطح پر ایک لسٹ آئی ہے جس میں با لترتیب دنیا کے طاقت ور ترین لوگوں کے نام شامل ہیں یہ لسٹ 73یا 74 ناموں پر مشتمل ہے۔سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کس کے نام اس لسٹ میں شامل ہیں؟28ویں نمبر پر چیف آف آرمی اسٹاف جنر ل کیانی کانام ہے،52یا 53پر ڈی جی آئی ۔آئی سی آئی کا نام ہے۔پاکستانی آئین کے مطابق پرائم منسٹر ،صد ر اور کا بینہ پاور فل ہیں لیکن ان کا نام اس لسٹ میں شامل نہیں ہے ۔اس لسٹ میں اوبامہ کا نام نمبر ایک پر ،مریکل کا نمبر دواور من موہن کا نمبرا نتیسواں ہے۔
) پاکستانی سیاست میں آپ ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔آپ اس ا سمبلی کے اسپیکربنے جو ایک متنازعہ اسمبلی سمجھی جاتی تھی۔ کیا آپ پر بھی ایجنسی کی طرف سے سیاست میں حصہ لینے کے لیے کوئی دباؤ تھا ؟
*یہ تو ایجنسی والے ہی بتا سکتے ہیں کہ کس کا کس پر دباؤ تھا۔ہم نے اس وقت کی حکومت کے خلاف الیکشن لڑا تھا ۔ہم سے مراد وہ ساتھی ہیں جو اس وقت اکٹھے ہوئے تھے ۔ “اسپیکر با مخالف حکومت” ایک ہی عہدہ تھا جس کے لیے الیکشن ہو ئے تھے اور وہ واحد عہدہ تھا جو حکومت کی مرضی کے بغیر آیا تھا باقی تمام عہدے پرائم منسٹر ،چیف منسٹر،گورنرز سب نا مزد کردہ تھے۔وہ اسپیکرشب تقریباًچودہ ماہ چلی پھر بہانا بنا کر انھوں نے ہمیں واک آوٹ کر دیا ۔
)اس وقت حکومت کے ساتھ آپ کے کیا اختلافات تھے ؟
* ایک ریفرنس ہم نے چیف الیکشن کمشنر کو بھیجا تھا جو آئینی تھا بعد میں اس اسمبلی نے ایک نیا قانون پاس کر کے خود کو تحفظ فراہم کیا ۔ یعنی قانون کی پاسداری ہم کر رہے تھے اور ہمیں اس کی سزا ملی یہ بھی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے۔
) آپ نے قانون کی پاسداری کی وہ کیا اختلافات تھے ان کی وجو ہات بیان کریں گے ؟
* اس وقت کی حکومت کو یہ چیزراس نہیں آرہی تھی کہ ایک آزاد اسپیکر اسمبلی چلائے۔جو فیصلے میں بطور اسپیکر دیتا تھا وہ حکو مت کی مرضی کے مطابق نہیں ہو تے تھے ۔جب کہ میں آئین کے مطابق فیصلے کرتا تھا یہ ہمارے ملک کا کلچر ہے کہ مخالفت کو پسند نہیں کیا جاتا ۔
) کوئی مثال آپ بتائیں؟
* وزیر اعظم نے نون پارٹی ہاؤس میں پارٹی بنائی جب کہ یہ قانون کے خلاف ہے ۔اسمبلی کے ممبران نے اس کے خلاف ایک ریفرنس جمع کرایا ۔ان ممبران کی تعدادتقریباً دس پندرہ ہو گی انھوں نے مجھ سے گزارش کی کہ آپ اس کو الیکشن کمیشن کے پاس بھیجیں۔آئین میں اس کے لئے یہ لفظ درج ہیں “The Speaker shall refer”اسپیکر تو پوسٹ آفس کا کام سر انجام دے رہا تھا اور کام اس پر الیکشن کمیشن کر رہا تھا۔ایک اور ایسی مثال ہے جب صدر ضیا ء الحق نے کراچی میں دوران تقریر پارلیمنٹرین کے خلاف بات کی ۔میرے پاس کچھ ممبران نے ایک ریفرنس بھیجا کہ صدر صا حب نے پارلیمان کے خلاف بات کی ہے تو وہ میں نے جمع کر لیا۔
)اس ریفرنس پر کس کس نے سائن کیے تھے؟
*مختلف پارلیمنٹر ینز شامل تھے ۔حاجی سیف اللہ ،شیرافگن نیازی ،جاوید ہاشمی صاحب کافی لوگ تھے مجھے تمام نام یاد نہیں ہیں۔جو ریفرنس انھوں نے بھیجا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ صدر صاحب نے جو ریمارکس پاس کیے ہیں اس سے ہماری توہین ہوئی ہے۔اس کے بعد پارلیمان کی مرضی سے اس پر بحث بھی ہو ئی جو ان کو ناگوار گزری کیونکہ ہمارا کلچر ایسا ہے کہ ہم ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے ۔آٹھویں ترامیم پر بحث کو میں نے ستاون د ن چلایا ۔اس کے بر عکس موجودہ پارلیمان میں اٹھارویں اور دوسری ترامیم پر بحث بہت کم دن چلی ۔ مشرف صاحب کی پارلیمان میں 17ویں ترامیم پر بحث دو دن میں ختم ہو گئی تھی ۔میں نے بہت تفصیل سے آئین کے ہر آرٹیکل پر چو دہ چودہ گھنٹے اوربارہ بارہ گھنٹے بحث کرائی ۔جمہوری کلچر یہ کہتا ہے کہ ہر چیز پر بحث و مباحثہ ہو کیونکہ انھوں نے اپنے خیالات کے اظہار کے ذریعے بات کو منوانا ہوتا ہے۔ جمہوریت کا تو کا م ہی یہی ہے۔جب مختلف آراء آنا شروع ہو تی ہیں تو ہم میں سے کچھ نروس ہو جاتے ہیں۔جب میں اسپیکر تھا اس وقت اتنے چینل بھی نہیں تھے۔ایک پی ٹی وی تھا،اخبارات پر بھی قدغنیں تھیں۔ایک مسلم اخبار ہماری کو ریج کرتا تھا اور جو لوگ اس اخبار کو پڑھتے تھے انھیں پتا ہو تا تھا کہ کیا بحث چل رہی ہے ۔شاید دو تین اخبارات اور تھے جنگ اور نوائے وقت جو اس کی کوریج کر تے تھے ۔
)جب آپ جنرل ضیاء الحق کے خلاف کھڑے ہو ئے تو آئی ایس آئی اور دیگر جنرلزنے آپ پر کتنا دباؤ ڈالا ؟
* جب میں نے بطور اسپیکرالیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو جنرل ضیاء الحق نے مجھ سے براہ راست بات کی تھی کہ آپ کو اس سے بہتر اور اچھے عہدے مل جائیں گے ۔اس کے باوجود میں نے الیکشن لڑا ۔پھر وہ مجھ سے بات نہیں کرتے تھے دوسروں سے بات کر تے تھے۔
)کیا دھمکی دی تھی انھوں نے آپ کو ؟
*دھمکی نہیں دی تھی بس انھوں نے یہ ایک طریقہ اختیار کیاتھا۔
)اگر ہم تاریخ کے حوالے سے بات کریں توماضی میں بہت سے ایسے واقعات ہو ئے ہیں جنہیں اب سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔بھٹو صاحب کے دور میں آپ کی جو یاداشتیں ہیں ان کو ہمارے ساتھ شےئر کیجئے؟
* اس وقت میں عملاً سیاست میں نہیں تھا ۔
)آپ نے عملاً سیاست کب سے شروع کی ؟اپنے آئینی سفر کے بارے میں بتائیے؟
* 78ء میں الیکشن ہو نے تھے جو نہیں ہو ئے۔ 79ء میں ملتان کے ضلع کا الیکشن لڑا پھر وفاقی وزیر جنرل ضیاء الحق صاحب کے ساتھ ہی بنا۔ دوبارہ الیکشن لڑا جو ہار گیا ،ہارنے کے بعد دس منٹ کے اندر اندر میں نے وفاقی وزارت سے استعفیٰ دے دیاتھا ۔
ملتان بعد میں تقسیم ہو گیا ہمار ا ملتان تین ضلعوں کا تھا لودھرا،ملتان ،خانیوال ۔پھر انھوں نے ہمارے ضلع کو علیحدہ کردیا ۔اب یہ چھوٹے چھوٹے ضلع رہ گئے ہیں۔
) آج کل آپ کے یو سف رضا گیلانی صاحب سے کیسے تعلقات ہیں؟
*ٹھیک ہیں۔بس نارمل۔۔۔
)آئندہ الیکشن کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں ؟کیا الیکشن ٹائم پرہو جائیں ہے ؟
* ابھی تک جو بیانات آرہے ہیں ان کی روشنی میں ایسا لگتا ہے کہ حکومت سولہ مارچ تک جو آئینی مدت اسمبلیوں کی ہے وہ مکمل کرے گی حالانکہ پارلیمانی نظام حکومت میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اگر حکومت چاہئے تو الیکشن پہلے کرالے یا آخری دن پر کرائے ۔پاکستان کے لیے یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ الیکشن ہو ں اور اقتدار پرامن طور پر منتقل ہو ۔ہمارے یہاں وفاق کی اپنی حکومت ہے صوبوں کی اپنی حکومتیں ہیں۔ہم وفاق ہیں ہم “یو نٹی فارم آف گورنمنٹ نہیں “ہیں۔اس حکو مت میں طاقت کا توازن دو ایوانوں میں ہوتا ہے ۔ ہمارا تناسب “متناسب نمائندگی کا نظام ” نہیں ہے۔ہماری نمائندگی “First Past the Post System”کے تحت ہے جس میں دو بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آتی ہیں یہاں دو پارٹی تو تھیں پر کسی کی اکثریت نہیں تھی اس لیے پاکستان کی پانچو ں حکومتوں میں حکومتی اتحاد کی وجہ سے طاقت کا توازن قائم ہے اور مستقبل میں بھی پیشن گو ئی کی جاسکتی ہے کہ آئندہ بھی حکومتی اتحاد والی گورنمنٹ بنے ۔
)مختلف حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ شاید الیکشن میں کچھ تا خیر ہو۔آ پ کا کیا خیال ہے ؟
* عوام کی تو ایک ہی رائے ہے کہ الیکشن ہو نا چائیے۔ 2002ء اور2008ء میں الیکشن غیر جانبدار نہیں تھے ۔ الیکشن کے دوران کچھ لوگو ں کو ٹارگٹ بھی کیا گیا ۔دھاندلی بھی کی گئی ۔میں خود الیکشن کمیشن گیا تھا کہ ہمارے خلاف دھاندلی ہو ئی ہے ۔ان کے سرکاری افسر نے آکر خود قبول کیا کہ ہاں دھاندلی ہو ئی ہے ۔عدالت نے ساری بات سن لی لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں دیا ۔عدالت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن انھوں نے جہاں نہیں کرنا ہو تا وہاں نہیں کرتیں ۔
)سپریم کورٹ کی مجموعی کار کردگی اور چیف جسٹس کی جانب سے جو از خود نوٹس لیے جا رہے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
* 2007ء کی جو تحریک تھی خاص طور پر 9مارچ کے بعد وہ پاکستانی تاریخ کی ایک انقلابی تحریک تھی جس کی کوئی سابقہ مثال نہیں ملتی ۔ جس میں وکلاء برادری نے اہم کردار ادا کیا ۔ چیف جسٹس کی بحالی بھی اپنی مثا ل آپ ہے ۔جہاں تک سپریم کورٹ اور سو مٹو ایکشن کی بات ہے یہ بھی ایک اچھی چیز ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے ہر آدمی متفق نہیں ہے ۔ ہر آرگن آف اسٹیٹ کا اپنا ایک کردار ہے کہ وہ اپنی متعین کردہ حدود میں رہ کر کا م کریں ۔آرگن آف اسٹیٹ میں مقننہ ، عدلیہ ،ایگزیکیٹواور میڈیا شامل ہے ۔آپ امریکہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ،جرمنی ،برطانیہ کی تاریخ دیکھ لیں جمہوری ممالک میں آرگن آف اسٹیٹ کے درمیان توازن قائم رہنا چاہیے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔
) نواز شریف ،شہباز شریف اور پنجاب حکومت کی پانچ سالہ حکو متی کارکردگی کے بارے میں آپ کیا تبصرہ کریں گے؟
* ان کا اپنا انداز ہے حکومت کرنے کا ۔انھوں نے بھی کچھ اچھے کام کیے ہیں لیکن امن و امان کی صورتحال وہاں بھی خراب رہی اورجب ایسی غیر یقینی صورتحال ہو تی ہے تو پھر اس کا اثر تمام سیکٹرز پر پڑتا ہے ۔ ایک اور بڑا مسئلہ جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کا مطالبہ ہے اور الگ صوبہ جب ہی بنے گا جب تمام اکثریتی پارٹیاں اس پر اتفاق رائے قائم کر لیں گی ۔اہم بات یہ ہے کہ ثقافتی اور اقتصادی مسائل کی وجہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے ۔پاکستان کی 66سالہ تاریخ دیکھ لیں ۔ جنوبی پنجاب جو پاکستان کا زرعی حب تھا اس میں کتنی سرمایہ کاری کی گئی ؟ اس کے برعکس لاہو ر اور راولپنڈی میں کتنی کی گئی ؟سینڑل پنجاب کا اس سے موازنہ کریں،وہاں ہمیشہ زیادہ کام ہو ا ہے ایجوکشنل انسٹی ٹیوٹ ،میڈیکل اور انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ دیکھ لیں یا ہسپتال نسبتا جنوبی پنجاب ،سینٹرل پنجاب میں زیادہ کام ہواہے اور اسی وجہ سے وہاں زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے،انڈسٹریاں لگتی ہیں،تجارت ہو تی ہے ۔کپاس کی 80فیصد پیداوار جنوبی پنجاب سے ہے صنعتیں زیادہ ترفیصل آباد ،لاہور یا کراچی میں ہیں جنوبی پنجاب میں کافی کم ہیں ۔
)عمران خان کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں ؟
* عمران خان ایک نیو فیکٹر ہے، خاص طور پر اکتوبر 30کے جلسے کے بعدوہ پاکستانی سیاست میں ایک بڑے پلےئر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ پہلے وہ کرکٹ پلےئر تھے اب وہ سیاسی لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں ۔پاکستانی سیاست میں وہ 16سال سے ہیں لیکن نمایاں پچھلے چودہ ، پندرہ ماہ سے ہو ئے ہیں ۔باقی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے ۔
) آپ پیپلز پارٹی میں بھی رہے ہیں ، ن لیگ میں بھی رہے ہیں ،کیا آپ کا مستقبل میں تحریک انصاف جوائن کرنے کا ارادہ ہے؟
* ابھی تو میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہی ہو ں الیکشن کس کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے اس کا فیصلہ نہیں کیا کیو نکہ پارٹی میں بھی جو ڑ توڑ ہو رہی ہے پہلے پیپلز پارٹی اور لیگ کا کو ئی اتحاد نہیں تھا لیکن اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایک پلیٹ فارم پر آرہے ہیں ۔ دیکھیں ہم کس پلیٹ فارم سے الیکشن لڑتے ہیں ۔
)عمران خان کی طرف سے کو ئی آفر ہے آپ کو ؟
* اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔
)آپ کے صاحبزادے نے بھی کیا تحریک انصاف میں شمو لیت کر لی ہے ؟
*نہیں اس نے ابھی شمو لیت نہیں کی ہے ۔
) شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی کے بارے میں کیا رائے ہے آپ کی ؟
* میں دوسرے سیاست دانوں کے بارے میں کو ئی تنقید نہیں کر نا چاہتا ۔ ان کی اپنی ایک سیاسی حیثیت ہے “I wish them best” ۔
) 18ویں ترمیم کی آپ نے بات کی آپ کی حکو مت کے ایک گورنر لطیف کھو سہ نے اس ترمیم کو تباہ کن قسم کا قانون قرار دیا ہے ۔اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
* میں نے ان کا اسٹیٹمنٹ نہیں دیکھا ، ہو سکتا ہے ان کے کچھ تحفظات ہو ں مجھے اس کا علم نہیں ہے کہ آئین کے کون سے آرٹیکل ہیں جن پر انھوں نے اختلاف کیا ہے ۔میرے نزدیک طاقت کی جو منتقلی ہو ئی ہے اور کابینہ کو جو اختیارات صدارتی نظام سے ملے ہیں وہ ایک اچھی بات ہے ۔صوبوں کو جو اختیارات دئیے گئے ہیں اس کے بھی اچھے نتائج ہو نگے ۔ ہاں اس میں کچھ چیزیں ایسی تھیں جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس پرغور کرناچاہیے تھا ۔جیسے ہائر ایجوکشن یا زرعی پالیسیوں کا انحصار دوسرے مضبوط وفاقی نظام میں ہوتا ہے ۔ امریکن سسٹم میں ابھی تک ان کا رول ہے۔ہائر ایجوکشن کمیشن والوں نے اس پر اعتراضات کیے تھے کہ انکا انحصار فیڈریشن پر ہو نا چاہیے۔ کچھ اور قومی سطح پر ایسی چیزیں ہیں جن کے پیچھے ریگولیڑی باڈیز بننا چاھیں کیونکہ ڈھانچہ آپ کے پاس موجود ہے پھر ان چیزیں پر کام کو سکتا ہے۔
) آپ کے ڈرائنگ روم میں لیڈی ڈائنا کے ساتھ آپ کی کچھ تصاویر نظر آرہی ہیں ان یادوں کو ہمارے قارئین کے لےئے شےئر کیجیے۔
*اسلام آباد میں لیڈی ڈائنا کی چارد عوتیں ہو ئیں تھیں۔ میں اس وقت منسٹر آف ایجوکیشن تھا ،برٹش ہائی کمیشن نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ آپ ان کی دعو ت کریں ۔ ان کی ایک دعوت صدر صاحب نے کی تھی ،ایک وزیر اعظم نے اور ایک میں نے کی تھی ۔ وہ اس وقت ایڈوائزر تھیں اور میں منسٹر تھا ۔ لیڈی ڈائنا ایک خوش شکل خاتون تھیں ۔ 300کیمرہ مین ا ن کے ساتھ چلتے تھے لیکن جب وہ کھانا کھاتی تھیں اس دوران تصویر لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی تھی ۔یہ کیمرہ مین صرف برطانیہ کے نہیں ہو تے تھے بلکہ دنیا بھر کے چینلز کے کیمرہ مین ان کے ساتھ چلتے تھے ۔اس وقت ان کا ایک اچھا شوٹ ایک لاکھ ڈالر کا ہو تا تھا ۔ وہ ایک خاموش طبع خاتون تھیں ۔ہم نے ان کی دعوت اسلام آباد پر پہاڑ ی پر واقع ایک ریسٹورنٹ میں کی تھی ان کے ساتھ لیڈی نون تھیں جو پاکستان کی یونیورسٹی لیول کی سیاحت کی مشیر تھیں ۔ان کے شوہر پرائم منسٹر آف پاکستان بھی رہے ۔ ان لوگو ں کو ہم نے لیڈی ڈائنا کے ساتھ بٹھا یا ۔لیڈی ڈائنا نے ان سے پوچھا کہ وہ پاکستان کیسے سیٹل ہو ئیں انھوں نے کہا کہ” میں نے ایک آدمی سے نہیں بلکہ ایک ملک سے شادی کی “جس کے جواب میں لیڈی ڈائنا نے کہا کہ “Oh I see”یعنی ان کا مطلب تھا کہ ان کی شادی بھی ایک شخص سے نہیں بلکہ ملک سے ہوئی ۔ میرے خیال سے انھوں نے ایک تاریخی فقرہ کہا ۔
)آپ الیکشن لڑنے جار ہے ہیں ۔ جنو بی پنجاب کے بارے میں اگر بات کریں تو 2002 ء میں پیپلز پارٹی الیکشن ہار گئی تھی۔الیکشن کے دوران کیا وہا ں اب بھی دھاندلی کا خدشہ ہے جب کے الیکشن کمشنر ایک غیر سیاسی حیثیت رکھتے ہیں؟
*میں امید کرتا ہوں کہ 2013غیر جانبدار اور شفاف الیکشن ہو ں۔ ہمارے نظام میں تضاد مو جو د ہے ایک تھپڑ مارنے پر عدالت نے ایک خاتون کو نا اہل قرار دے دیا جب کہ دوسری طرف الیکشن کے دوران دھاندلی ہو تی رہی ہے ،غندہ گردی ہو تی رہی جس کے خلاف کو رٹ میں رجوع بھی کیا گیا لیکن کورٹ نے کہا کہ اتنے مہینے میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ 5سال گزر جاتے ہیں اور فیصلہ نہیں دیاجاتا ۔
) الیکشن کے عمل کو کیسے غیر جانبدار اور شفاف بنایا جا سکتا ہے ؟ کیا تجاویز ہیں آپ کے پاس ؟
* جن کے پاس اختیارات ہیں وہ غیر جانبدار رہیں ۔ 2002ء اور2008ء میں انتخابات بالکل غیر جانبدار نہیں تھے جہاں جہاں ان کو دھاندلی کرانی تھی وہاں دھاند لی ہوئی اور جہاں نہیں کرانی تھی وہاں شفاف الیکشن ہو گئے ۔
)جو الیکشن ہوئے تھے وہ ایک ڈکٹیٹر کی زیر حکومت ہو ئے تھے جب کے آئندہ الیکشن ایک نگراں حکومت کرائے گی۔ کیا ہم غیر جانبدار الیکشن کی امید کر سکتے ہیں ؟
*جو حکومت چلاتے ہیں وہ سول سرونٹ ہو تے ہیں ان کو احکامات دئیے جائیں کہ الیکشن غیر جانبدار اور شفاف کرائے جائے۔
)میڈیا کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیا میڈیا اپناصحیح کردار ادا کررہا ہے ؟
* میڈیا اچھا کردار ادا کر رہا ہے ۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ مختلف قسم کی آراء سامنے آرہی ہیں ۔میڈیا کا بھی اپنا ایک مخصوص نقطہ نظر ہو تا ہے اور کئی جگہ میڈیا بھی بہت کم غیر جانبدارہے لیکن یہ عوام کی مرضی ہے کہ وہ اپنی رائے کیسے بناتے ہیں ۔ دنیابھر میں میڈیا کی آزادی الگ الگ ہے ۔ امریکہ ،برطانیہ ،جاپان میں چینل آزاد ہیں جب کہ چائنا کا میڈیا کنڑول ہو تا ہے ۔ہر ملک کا اپنا ایک سیاسی کلچر ہو تا ہے اور اس کا میڈیا اسی حساب سے چلتا ہے ۔میڈیا کی آزادی پاکستان میں ایک بہت بڑی ترقی ہے لیکن ہمارے معاشرے پر اس آزادی کے کیا اثرات مرتب ہو گے اس کاآہستہ آہستہ پتا چلے گا ۔
) پاکستانی سیاست میں وراثتی سیاست ، وڈیرہ اور جاگیردارانہ عنصر نمایاں رہا ہے ۔مڈل کلاس یا ورکنگ کلاس سیاست میں نہیں آپائی اسکی کیا وجوہات ہیں ؟کن وجوہات کی بناء پر ان کی نمائندگی نہیں ہو پاتی ؟ اس کی وجہ سے پاکستانی سیاست کو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟
*آمریت کے چار ادوار کو ہمیں نہیں بھولنا چاہے ہر دس سال بعدہم سیاست دانوں کا ایک نیا کھیپ لے آتے ہیں ۔ کسی اور پروفیشن میں دیکھا جائے مثال کے طور پر ایک جرنلسٹ کو آپ دس سال گھر بٹھا دیں اورپھر اس سے کہیں کہ جرنلزم کرے۔ آپ کا تجربہ بیچ کے عرصے میں ختم ہو جاتا ہے ۔بہت سارے سیاست دانوں نے غلط کام بھی کیے میں ان کے بارے میں بات نہیں کر رہا ۔ اس ہی وجہ سے سیاست میں تسلسل نہیں رہا اس ہی لیے آپ سیاست دانوں کے بارے میں کو ئی حتمی رائے قائم نہیں کرسکتے ۔بہت سارے ایسے سیاست دان ہیں جنھیں دس ، دس سال کے لیے سیا ست سے باہر کر دیا گیا ۔ ووٹ کے ذریعے انھیں باہر کرنا ایک د رست عمل ہے۔ انڈیامیں 17الیکشن ہو چکے ہیں ،برطانیہ میں 53 اور امریکہ میں اب تک 42الیکشن ہو چکے ہیں۔ وہاں یہ سسٹم نہیں ہے کہ کوئی غیر قانونی طور پر آئے اور دوسرے کو باہرکر د ے اور غیر قانونی طور پر آئے ہو ئے لو گ بڑے بڑے فیصلے کر تے رہیں ۔آج بھی یہ سوالیہ نشان ہے کہ خارجہ پالیسی کو ن بناتا رہاہے ؟ سیکیورٹی پلان کو ن بناتا رہا ہے ؟ جب کہ ہمارے یہاں آئین اور حکومت دونوں موجود ہیں ۔یہ تمام چیزیں بہتر ہو سکتی تھیں اگر سیاست دانوں پر تہمت اور دھبے نہ لگے ہوتے۔ہمارے یہاں احتساب کا رواج نہیں ہے ہمارے یہاں دو قسم کے مفادات ہیں ۔ ایک پرائیوٹ جسے ہم ذاتی مفاد کہتے ہیں، دوسرا عوامی مفاد ہے ۔ہم ان کے درمیان میں تضاد کا شکار ہیں ۔ ہم یہ تمیز نہیں کرسکتے کہ سیاست میں ایک شخص کا پروفائل کیا ہے ؟ پچھلی حکومت میں جن لو گو ں کو جیل میں رکھا اس کو ہم نے موجودہ حکومت میں وزیر بنادیا ۔ہم نے 180ڈگری کا یو ٹرن لیاصرف اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے کہ وہ ان کو چیلنج نہیں کریں گے بلکہ انکا ساتھ دیں گے ۔ ہمارے یہاں سیاست سے مراد اختیارات اورطاقت کا حصول اور ذاتی مفادات ہیں ۔
)یو سف رضا گیلانی تقریبا چار سال وزیر اعظم رہے ہیں ان کا تعلق ملتان سے رہا ہے لیکن ملتان میں ترقی کے آثار بہت نمایاں نظر نہیں آتے ؟
* میں کسی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ۔بہت سارے سیاست دان ہیں جنھوں نے غلط کام بھی کیے ہیں میں نام نہیں لینا چاہتا اور بہت سے سیاست دانوں نے اچھے کام بھی کیے ہیں لیکن میڈیا ان کاموں کو ہائی لائٹ نہیں کرتا ۔
)زرداری صاحب سے کتنی ملاقاتیں ہو ئیں؟
* زرداری صاحب سے کم ملاقاتیں ہوئی۔
)ملاقاتیں کیسی رہیں ؟
* خوشگوار۔۔۔۔
) آبادی کے تناسب سے دیگر شعبوں میں خواتین کی نمائندگی بہت کم ہے ۔سیاسی پارٹیوں میں بھی خواتین کی تعداد کم ہوتی ہے یہ اچھی بات ہے کہ ہم نے ایک کو ٹہ مخصوص کر دیا ہے جس سے انھیں کم از کم نمائندگی تو مل رہی ہے مگر پارٹی میں خواتین ممبران کی رائے کی کو ئی اہمیت نہیں ہو تی آپ کیا سمجھتے ہیں اس بارے میں ؟
* خواتین کی اہمیت ہو گی جب وہ فرنٹ ڈور سے آئیں گی یا فرنٹ ڈور کے طریقے سے آئیں گی۔ایک یہ طریقہ ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستیں بنادیں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قانون میں تبدیلی کے ذریعے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں کو ٹہ رکھ دیں کہ ہر پارٹی کو اتنے فیصد ٹکٹ عورتوں کو دینے ہو نگے میرے خیال میں یہ زیادہ بہتر طریقہ ہے 20فیصد 25فیصدجتنا بھی بہتر سمجھا جائے ۔یو رپین ممالک میں خواتین براہ راست ووٹ کے ذریعے عموما40فیصدتک آجاتی ہیں۔ہم نے مخصوص نشستوں کے ذریعے ایک آسا ن راستہ دے دیا ہے ۔ آسان طریقے سے پھر وہ بات نہیں رہتی ، خواتین کے ساتھ برابری کی سطح کا سلوک نہیں کیا جاتا ۔ان کے ساتھیوں کا موقف ہوتا ہے کہ ہم تو بڑے مشکل طریقے سے آئے ہیں۔ایک طرح سے دو کیٹگریز بن جاتی ہیں ۔ ہماری پرائم منسٹربے نظیر بھٹوپاکستان کی پہلی خاتون پرائم منسٹر تھیں وہ ایک بہترین لیڈر اور سیاست دان تھیں ۔ہماری دوسری خواتین ہیں جو منسٹر ،سفیراور دوسرے بڑے عہدوں پر فائز رہی ہیں ۔اگر خواتین عمو می طریقہ کار سے سیا ست میں آئیں جیسے دیگر ممالک میں ہوتا ہے تو میرے خیال میں ان کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کیا جائے گا اور فیصلہ سازی میں انکی رائے کا بھی اثر ہو گا ۔دوسرے شعبوں جیسے ہماری جامعات میں 40سے 50فیصد خواتین ہیں لیکن روزگار کے مواقعوں میں ان کی نمائندگی کم ہے۔ہمارے یہاں عموما شاد ی کے بعد خواتین کام نہیں کر تی جب کہ دوسرے ممالک میں شادی کے بعد بھی خواتین اپنی پروفیشنل لائف جاری رکھتی ہیں ۔
)خواتین کو عموما شوہر یا سسرال والے اجازت نہیں دیتے ملازمت کرنے کی ؟
*ہمار اکلچر اور رسم و رواج کچھ اس طرح کا ہے ۔لیکن مواقع تو مو جود ہیں اور ان میں اضافہ بھی کیا جارہا ہے ۔جب آپ میرٹ پر آئیں گے تو آپ کا اپنا ایک معیار ہو گا عزت ہو گی ۔
)آپ نے بے نظیر بھٹو کی بات کی خواتین کے حقو ق کے بارے میں بات کی ۔ملالہ یوسف زئی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے وہ ہمارے لیے کیسا رول ماڈل ہیں؟
* ملالہ یوسف زئی دہشت گرد وں نے نشانہ بنایا ۔ملالہ ان لوگو ں کی مخالفت کو جانتی تھی لیکن وہ اتنی بہادر تھی کہ وہ ان سے خوفزدہ نہیں ہو ئی ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو آواز اٹھانا چاہتے ہیں لیکن ان میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا ۔ ملالہ نے اس جرات کا مظاہرہ کیا اور صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بچیوں کے لیے ایک مثال قائم کی ۔وہ ایک امید اور سمبل ہے۔ ہم نے دینا بھر میں یہ پیغام دیا ہے کہ ملالہ واحد نہیں یہاں ہزاروں ملالہ ہیں ۔دہشت گردی سب کے لیے ایک چیلنج ہے کسی کے لیے کم کسی کے لیے زیادہ ہمارے معاشرے میں بچیوں کے لیے زیادہ تعصب پاتا جاتا ہے اور لڑکوں کی زیادہ خواہش پا ئی جاتی ہے ۔ملالہ نے جو مثال قائم کی ہے خصوصا ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں لڑکیوں کے لیے تعصب پایا جاتا ہے یقینااس کے دیر پا اثرات رونما ہو نگے۔
) عابدہ حسین کو بطور سیاست دان، سفارت کار اور بطور بیوی آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟
*عابدہ حسین کا اپنا ایک نمایاں بیک گراونڈ ہے وہ ایک سنگل چائلڈ ہیں ان کے والد صاحب آزادی سے پہلے “Constitunte
Assembly”کے 32ممبران میں شامل تھے ۔ وہ وفاقی وزیر بھی بنے اور صوبائی وزیر بھی۔ آزادی کے بعد بھی انکا ایک بڑا اور اہم کردار رہا ہے ۔ان کی صاحب زادی سیدہ عابدہ حسین دیہاتی ماحول سے سیاست کی طرف آئیں۔انھوں نے سیاست میں شروعات 72ء سے کی ۔72ء میں انھوں نے صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشست حاصل کی، 79ء میں وہ براہ راست منتخب ہو ئیں اور ضلعی چیرء پرسن بنیں۔ 85ء کی اسمبلی میں وہ واحد خاتون تھیں جو نیشنل اسمبلی میں براہ راست منتخب ہوئیں۔ باقی خواتین ،مخصو ص نشستوں پر آئی تھیں ۔وہ ایک بہاد ر خاتون ہیں اور اگر وہ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ حق پر ہیں تو کسی کی پرواہ نہیں کرتیں۔91ء میں وہ مشیر بنیں پھر و ہ امریکہ کی سفیر بنیں ۔ہم آپس میں کزن بھی ہیں ہماری والدہ آپس میں بہنیں ہیں ۔ہمارے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ۔ایک بیٹی کا نام صغری ہے اور دوسری کا ام کلثوم ،دونوں بیٹیوں نے ہارورڈ یو نیورسٹی سے گریجویٹ کیا ۔یہ اعزاز بہت کم لوگو ں کو ملتا ہے ۔ہمارے بیٹے عاد ل نے”yale univerisity” سے تعلیم حاصل کی ۔ہاروڈ ،ییل اور پرسٹن ایسٹ کوسٹ کی تین بڑی یونیورسٹیاں ہیں ۔ییل نے شاہد 6پریزیڈنٹ بنائے ہیں اور ہاڑوڈ نے 11پریزیڈنٹ بنائے ہیں ۔عاد ل نے ییل یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا اور لا ء کی ڈگری کولمبیاسے حاصل کی ۔دوسال امریکہ میں کام کیا پھر پاکستان آگئے ۔ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے گھر کے کسی فرد کے پاس پاکستان کے سوا کوئی دوسری نیشنلٹی نہیں ہے ۔ میں نے 11سال بیرون ملک تعلیم حاصل کی ،13سال عا دل نے 3,سال عابدہ بی بی نے اور صغری اور ام کلشوم نے 6سال بیرون ملک میں تعلیم حاصل کی ۔
) پرائمری ایجوکیشن آپ کے بچوں کی کہاں ہو ئی ؟
* بچوں نے پرائمری ایجوکیشن لاہور سے حاصل کی ۔ میں نے دو سال کونونیٹ میں پڑھا ،پانچ سال ایچ ایس این میں پھر چھ سال یو کے میں تعلیم حاصل کی ۔عابدہ بی بی نے لاہو ر ،سوئٹزرلینڈ اور اٹلی سے تعلیم حاصل کی ۔
)ملالہ یوسف زئی نے اپنے علاقے کی بچیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی جو نوجوان باہر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں انھیں بھی پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہئے آپ کی کیا رائے ہے اس بار ے میں ؟اور وہ کس طرح اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ؟
* تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ایک کو کام کرنا چائیے اور ہر سطح پر آواز اٹھانی چاہیے ۔ہر کسی کو اپنے شعبے میں کردار ادا کرنا چاہیے صرف یہ کہہ دینے سے کہ تعلیم سب کے لیے ہو نی چاہیے یہ کافی نہیں ہو گا ۔ جس کا جو پروفیشن ہے اسے چاہیے کہ اس پروفیشن میں رہ کر اپنا کردار ادا کرے ۔عادل اس وقت لاہور یونیورسٹی میں بطور لاء اسسٹنٹ پروفیسرکی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ میں خودآج کل مختلف یونیورسٹیوں میں سینئر افسران کو لیکچر دیتا ہوں ۔لیکچر کی وجہ سے مجھے دینا بھر میں ہو نے والی اپ ڈیٹزکا پتا ہو تا ہے پھر میں دنیا کا مقابلہ پاکستان سے کرتا ہوں ۔جتنا آپ کا مطالعہ وسیع ہو گا آپ کی معلومات مزید بہتر ہو تی رہے گی ۔میرا یہ بچپن سے عزم تھاکہ اپنے ملک کو بہت آگے لے کر جائیں گے ۔جب میں برطانیہ کلفٹن اسکول میں پڑھتا تھا تواس وقت بچے مجھے چھیڑتے تھے کہ ہم نے تین سو سال آپ پر حکمرانی کی وہ اسکول ایک طرح سے پاور ہاؤس تھا جہاں اعلیٰ عہدے داران کے بچے زیر تعلیم تھے مجھے ان کی باتوں سے بہت غصہ آتا تھا ۔
بہت سے لوگ ذات کی خدمت کر تے ہیں قوم اور عوام کی خدمت نسبتا بہت کم لوگ کرتے ہیں جب کہ ہمارا اہم مقصد قوم اور عوام کی خدمت ہو نا چاہیے
ایتھوپیا نے وفاقیت کے ذریعے متنازع مسائل پر قابو پایا
پروفیسر ڈاکٹر وجے کیلکر ’’فورم آف فیڈریشنز‘‘ کے بورڈ میں چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں۔ جنوری 2010ء تک بھارت فنانس کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ ڈاکٹر کیلکر بھارت کے سرکاری اور نجی شعبوں میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ مختلف ادوار میں مشیر وزارت فنانس، سیکریٹری فنانس، چیئرمین ٹیرف کمیشن، سیکریٹری وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ جبکہ بین الاقوامی سطح پر عالمی مالیاتی فنڈکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (برائے بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان) اور اقوام متحدہ کے عالمی تجارتی ڈویژن برائے (جنیوا، سوئٹزر لینڈ) میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔
gاس تین روزہ کانفرنس پر آپ کیا اظہار خیال کریں گے ؟
٭یہ کانفرنس اس لحاظ سے بہت منفرد تھی کہ یہ افریقہ میں منعقد ہوئی ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایتھوپیا نے وفاقیت کے ذریعے اختلافی مسائل پر بہت کامیابی سے قابو پالیا ہے اور جب ہم یہاں ترقی کی رفتاردیکھتے ہیںتو یہ خیال اور بھی پختہ ہو جاتا ہے میرا مطلب یہ ہے کہ معیشت مضبوط ہورہی ہے ، لوگ ایک دوسرے کے تفرقات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں ، اور یہ پورے افریقہ کے لیئے بہتر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں یہاں ہوں۔ اُمید ہے کہ کانفرنس کے ذریعے یہ پیغام پورے افریقہ میں بھی جائے گااور دیگر ممالک میں بھی۔ صرف ایک ہی سوچ اور فکر بہتری لا سکتی ہے ، معیشت کو بہتر کر سکتی ہے دراصل یہ ایک مثبت پیغام ہے، افریقہ کے لئے، ایشیا کے لئے ، اور دنیا کے تمام حصوں کے لئے ۔
g کیا آپ سمجھتے ہیں کہ افریقہ میں ترقیاتی کاموں کے لیئے فنڈز کی فراہمی کے لئے یہ کانفرنس پوری دنیا کی توجہ افریقہ کی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہو پائے گی؟
٭مجھے لگتا ہے کہ یہ تو دنیا کو دکھانا ہی ہو گا ، افریقہ بھی بہت اہم سیاسی تبدیلیوں سے گزررہا ہے ، سیاسی اصلاحات ہو رہی ہیں ، اداروں میں فکری پختگی بڑھ رہی ہے اور جہاں فکری پختگی ہو وہاں بہت مثبت پیغام ہوتا ہے اسلئے مجھے یقین ہے کہ عالمی برادری ضرور اس کا نوٹس لے گی اور اس سے افریقہ جاگ اُٹھے گا۔
g کانفرنس کے انعقاد میں آپ کو کیا چیلنجز پیش آئے ؟
٭ایک چیلنج توسینکڑوں مندوبین کے قیا م و طعام کے بندوبست کا تھا ۔ تمام مواد کو وقت پر تیار کرنا، بہتر پیپر کا بر وقت حصول، مختلف مندوبین تک رسائی، متعلقہ موضوع کے لئے اعلی ماغ جو ایک تھیم تیار کر سکے اور دنیا کے مختلف حصوں سے مثالی کیس اسٹڈیز حاصل کر سکے۔ان تمام چیزوں کو یکجا کرنے کے ساتھ بہترین مقررین کی دستیابی بھی مشکل ترین مرحلہ تھا کیونکہ یہ سب مصروف لوگ ہوتے ہیں اور ان سے پیشگی وقت لینا پڑتا ہے اسلئے میرے خیال میں فکری مواد کا بروقت حصول اورتمام کاموں میں ردھم پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔
g تو کیا کانفرنس ان چیلنجوں سے نبرد آزما ہو سکی ؟
٭مجھے ذاتی طور پر تو یہی لگتا ہے ۔کانفرنس کے تمام انتظامات بشمول مواد سب کچھ بہت عمدہ قسم کا تھا اور ایتھوپیا میں نوجوان اسکالروں کے خیالات سن کر بہت خوشی ہوئی۔
g آپ پاکستان کو ایک وفاقی ریاست کے طور پر کیسے دیکھتے ہیں ؟
٭میرے خیال میں پاکستانی آئین کی اٹھارویں ترمیم نے پورے گیم کو تبدیل کر دیا ہے ۔ یہ تبدیلی پاکستان کے لیئے قابل تعریف ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے کہ اب معاشرے کی ہر سطح کو اختیارات میں شراکت داری دی جائے گی، ملک کے تمام حصے اس میں شامل ہوں گے ۔ میرے خیال میں یہ بہت اہم اور پاکستان میں گیم کو تبدیل کردینے والا معاہدہ ہے ۔
gانڈیا ایک بڑی وفاقی ریاست ہے ، جس کے کئی صوبے ہیں اور ان کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں ۔ اُن میں تنازعات بھی موجود ہیں۔ مگر پاکستان ایک اُبھرتی ہوئی جمہوریت ہے تو مستقبل میں پاکستان کو وفاقیت کے نظریات پر کن مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہو سکتا ہے ؟
٭میرے خیال میں ایک مشکل جو پاکستان کو ہو سکتی ہے میں یہ نہیں کہہ رہا کہ لازمی طور پر ایسا ہو گامگر ایسا ہو بھی سکتا ہے ۔ اگر آپ صوبائی ریاستوں کی تشکیل دیکھیں تو اس میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر آبادی کے لحاظ سے پنجاب بڑا صوبہ ہے جبکہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان بڑا ہے۔ ابھی تک ہم وفاقیت میں وسعت دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ نئے مالیاتی تبادلوں کی طرف بڑھ سکیں، مثال کے طور پر کئی دوسرے وسائل کی شراکت میں بھی ہر کمیونٹی کو برابری اور ضرورت کی بنیاد پر حصہ ملے اسلئے ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے ایک بڑے حصے کو اپنا اہم رول ادا کرنا پڑے تا کہ وفاقیت برقرار رہے۔
gمیں نے مشاہدہ کیاہے کہ اس کانفرنس میں مختلف اسٹیک ہولڈر، پارلیمنٹرین ، قانون ساز،مختلف محکموں اور وزارتوں کے افسران اورشعبہ تعلیم سے متعلقہ بہت سے افراد نے شرکت کی مگر مجھے کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی شمولیت بہت کم لگی۔ کیوں ؟ اگر آپ اپنے نظریات سے لوگوں کو آگاہی دیناچاہتے ہیں تو میڈیا کو اس پوریی کانفرنس میںجگہ کیوں نہیں دی گئی؟
٭بالکل درست ! آپ نے ایک اہم نکتہ اُٹھایا ہے ۔ ہم کوشش کریں گے کہ اپنی اگلی کانفرنس میں میڈیا کی بڑی تعداد کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔
gوفاقیت ایک نظریہ ہے جس میں اچھی حکمرانی کے لیئے اقتدار اوپری سطح سے نیچے کی سطح تک منتقل کیا جاتا ہے مگر تیسری دنیا میں عموماََبدعنوانی ایک اہم مسئلہ ہوتاہے ۔ آپ کی رائے میں مالیاتی اصلاحات کے ذریعے پاکستان یاکسی دوسری وفاق میں اس معاملے پر قابوپایا جا سکتا ہے؟
٭میرے خیال میں اسکینڈی نیوین ممالک دنیا کے بہترین ممالک میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں اختیارات کی عدم مرکزیت ہے اس لئے زیادہ تر اخراجات لوگوں پر ہوتے ہیں اور احتساب کا عمل بھی موجود ہوتا ہے ۔ یہ نظام جتنا اچھا ہوگا اتنے ہی اچھے نتائج ملیں گے۔ ہو سکتا ہے یہ میرا عقیدہ ہو مگر اسکینڈی نیویا کی طرح دوسرے ممالک کے تجربات یہی کہتے ہیں کہ اس سے گورننس میں بہتری آتی ہے ۔
gپاکستان کو فورم آف فیڈریشن کا ممبر بننے کے لیئے کیا قدم اُٹھانا چاہیئے؟ اور یہ پاکستان کو کس قسم کا فائدہ پہنچائے گی؟
٭ممبر بننا بہت آسان ہے ۔ ہمیں حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے میں بہت خوشی ہو گی پاکستان سمیت دیگرممبر ممالک کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ سیکھنے کا عمل بہت تعمیری ہوتا ہے بصورت دیگر اتنی معلومات تک رسائی مشکل ہوتی ہے یا پھر یہ بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہے ۔ کیونکہ یاد رہے یہ ایک عملی نیٹ ورک ہے نظریاتی نہیں ۔ تجربہ کار لوگوں کا نیٹ ورک لوگوں سے ملاقات کرتا ہے اور انھیں بتاتا ہے کہ کون سا طریقہ کامیاب رہا اور کون سا ناکام، انھوں نے اپنی زندگی میں کیا کیا اور کیا نہیں کیا ۔چنانچہ یہ سب کے لیئے بہترین موقع ہے اور دوسرے ممالک پاکستان سے سبق سیکھیں گے ۔ مثال کے طور پر پاکستان کا تیل اور گیس کے ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ دنیا کے دیگر وفاقوں کے لیئے اہم ہو سکتا ہے ۔ میرے خیال میں یہاں سیکھنے کا عمل انتہائی موثر ہے اور ہم ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
gکیا آپ کو لگتا ہے کہ وفاقیت جمہوریت کے لیئے ضروری ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتیں؟
٭میرے خیال میں دنیا کے ہمارے حصے میں یہ انتہائی ضروری ہے ۔ وفاقیت کے بغیر جمہوریت نہیں ہو سکتی اور جمہوریت کے بغیر وفاقیت نہیں ہو سکتی۔ یہ دونوں جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں۔
gآپ متحدہ عرب امارات کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟ یہ ایک وفاق ہے مگر وہاں جمہوریت نہیں۔ آپ دوسری وفاقی ریاستوں سے اس کا موازنہ کیسے کریں گے؟
٭ایک متحرک وفاقیت کے لیئے متحرک جمہوریت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دنیا کے اس حصے جنوبی ایشیا میں جہاں ہم رہتے ہیں وفاقیت بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ دنیا کے دوسرے حصوں پر میں تبصرہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میں اُن کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ۔ مگر ہمارے خطے میں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ جمہوریت اور وفاقیت ۔
٭آپ چین کے بارے میں کیا کہیں گے کیونکہ اس کے پاس معاشی طاقت بھی ہے اور ایک پارٹی کی حکومت ہے، مگر یہ نہ تو جمہوری ہے اور نہ ہی وفاقی اس کے باوجود ایک کامیاب ریاست ہے؟
g آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں ؟
٭چین پچھلے بیس سالوں میں نہایت کامیابی سے ابھرا ہے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے وہ ایک معجزہ ہے مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی معاشرت دو ہزار سال کی تہذیب سے جڑی ہے جبکہ وفاقیت دو سو سال پرانی بھی نہیں ہے ۔وفاقیت کی بھی کچھ سماجی اقدار ضرور ہوتی ہیں مگر ان ملکوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنکے پاس کوئی ماضی کی میراث نہیں ہو گی۔ چین نے اپنا ایک راستہ بنایا ہے اور وہ اس پر کامیابی سے گامزن ہے ۔ چین کے پاس اقتدار کی ایک عظیم اور قدیم تہذیب ہے۔ میرے خیال میں چین کے پاس دو ہزار سال قدیم تہذیب ہے جسے وہ نہایت عمدگی اور خوبی سے پروان چڑھا رہے ہیں اور اس پر عمل کرنے کا ان کا اپنا طریقہ کار ہے۔ اس سے چین میںبہت ترقی بھی ہوئی مگر یہ اُن کی اپنی کہانی ہے۔
g پاکستان ایک وفاقی ریاست بننے کی کوشش کر رہا ہے مگرابھی نچلی سطح پر اختیارات نہیں ہیں ۔ بالخصوص مالیاتی اقتدار اور بیوروکریسی عوام کو اقتدار دینے کے لیئے تیار نہیں ہے؟
٭دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک میں عمومایہ مسئلہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔
gجی ! مگر اس پر قابو کیسے پایا جائے ؟
٭اس میں وقت لگے گا مگر وہ اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیں گے۔ ہر ملک اپنا راستہ خود ڈھونڈلے گا کیونکہ اس کا مطالبہ عوام کی طرف سے کیا جائے گا۔ مسئلہ تو ہے مگر ہمیں صبر کرنا چاہیئے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ راستہ ضرور تلاش کرلیں گے۔
gاس کانفرنس سے ہم نے کیا حاصل کیا؟ کوئی ایسے تین نکات جو آپ بتانا چاہیں؟
٭میرا خیال ہے کہ فورم میں افریقہ کے معاملات کو اچھی طرح پرکھا گیا۔ ہم نے بہت کچھ سیکھا، ہم نے اس پروگرام میں بہت غوروخوض اور بحث کی جو ہمیں افریقہ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بہتری کے لیئے مدد دے گا۔دوئم یہ کہ ہماری تحقیقات کے آئینے میںوفاقیت کے ڈیزائن کی بہتری کے لیئے مدد دے گا اور ہم کوشش کریں گے اُن نئے علاقوں کی شناخت کریں جہاں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارایہ پروگرام عالمی بحث و مباحثے سے بھرپوررہا اوراس کے ذریعے ہمارے سامنے نئی جہتیں آئیں۔ مثال کے طور پراس کانفرنس میں قدرتی وسائل پر بات کی گئی جیسا کہ پانی کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ کئی نئے معاملات کو بھی اُٹھایا گیا مثال کے طور پر صنفی تفریق، اسی طرح کئی ایشوز جن پر پہلے ہم نے کبھی کام نہیں کیا اس لحاظ سے یہ کانفرنس بہت اہم ہے۔
gمیں نے خواتین کے مسائل پر سب سے سوال کیا، میرا مطلب ہے کہ اب تک منعقد کی جانے والی کانفرنسوں میںپہلی دفعہ ان مسائل پر بات کی گئی ہے جو ایک اچھی بات ہے اور اگلی دفعہ اس موضوع پر مزید گفتگو ہونی چاہیئے؟
٭بالکل ! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔
gبہت بہت شکریہ ۔ آپ کچھ اور کہنا چاہیں گے ؟
٭نہیں۔ میں بہت پُرخلوص اُمید رکھتا ہوں کہ پاکستان جلد فورم آف فیڈریشن کے پارٹنر ممالک میں شامل ہو جائے گا یہ باعثِ خوشی ہو گا۔ میں بھارت سے آیا ہوں اور ذاتی طور پر پاکستان سے تعلقات کو بہت اہم سمجھتا ہوں کیونکہ ہم پڑوسی ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہیئے۔
پاکستان میں وفاقی اور صوبائی اداروں کا مستحکم ہونا ضروری ہے
ورنر تھٹ یکم اگست 2008ء سے فورم آف فیڈریشنز سے منسلک ہیں اور بحیثیت نائب صدراپنی خدمات سرنجام دے رہے ہیں۔سوئز وفاقی شعبہ برائے خارجہ تعلقات میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ سوئز ایجنسی برائے ترقی و تعاون میں علاقائی ڈائریکٹر، سربراہ ڈویلپمنٹ پالیسی، سربراہ پلاننگ ڈویژن برائے سوئز وفاقی کابینہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ انہوں نے ’’برن یونیورسٹی‘‘ سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور نیپال پر تحقیقی مْقالہ لکھا۔تھٹ جرمن، انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں پرعبور رکھتے ہیں۔
g وفاقی نظام کس طرح لسانی ، نسلی اورمذہبی اقلیتوں کی بقاء اور سلامتی کے لیے کام کر سکتا ہے ؟
٭٭۔یہ بحث وفاقیت کے مسئلے کی طرح ہی کافی پرانی ہے ۔ کئی مصنفین نے اس موضوع کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے ۔ Professor Ron Watts کی کتاب”Comparing Federal System” اس کی بہترین مثال ہے ۔ میرے اپنے ذاتی خیالات سے ہٹ کر وفاق کے بارے میں سوالات کے جوابات کی بنیاد کم و بیش وہی ہے جو اس مصنف نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ۔ وفاقوں میں اکثر وبیشتر مختلف قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں جوپورے وفاق میں پھیل جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے کسی ایک خطے کی حکومت کے لیے ان کے مفادات کے لیے کام کرنا انتہائی ناگزیر ہوجاتا ہے ۔ اس کی بہترین مثال امریکہ میں افریقی امریکیوں کی ملتی ہے ۔ ان کی تقریباً 80 فیصد آبادی کیوبیک میں فرنچ کینیڈین (French Canadian) کے ساتھ کچھ اس طرح رچ بس گئی ہے کہ اب ان کے زیادہ تر مسائل ومفادات کیوبیک کی صوبائی حکومت کی ذمہ داری بن گئی ہے ۔ تمام گروہ چاہے وہ کسی ایک خطے میں ہوں یا مختلف علاقوں میں بٹے ہوں ان کے ساتھ مساوات و برابری انتہائی اہم ہے ۔ پہلے یہ گروہ اپنے مفادات اور مسائل کے حل کے لیئے کبھی بھی صوبائی حکومت پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ وفاق میں ایسے گروہوں کے مفادات کا بہترین حل یہ ہے کہ آئین میں ’’بنیادی مساوی حقوق‘‘ کی فہرست مرتب کر کے اس قانون / شق کا اطلاق پورے ملک میں کیا جائے ان جگہوں پر بھی جہاںوفاقی حکومت کو مثبت کاروائی کی ضرورت محسوس ہو ۔ کینیڈا میں 1982 میں ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیئے میثاق آزادی تشکیل دیاگیا تھا ۔ کچھ ممالک میں وفاقی سطح پر ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیئے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے یا کچھ ابھی تشکیل دے رہے ہیں اس کمیشن میں تمام صوبائی حکومتوں کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے ۔ وفاق میں خواتین کے حقوق کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے ۔ خاص طور پر جب وہ آبادی اور وفاق کے نصف حصے پر چھائی ہوئی ہیں ۔ چونکہ خواتین وفاق کی تمام اکائیوں میں مساوی طور پر پائی جاتی ہیںاس وجہ سے عبوری طور پر انہیں خطّوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ وفاقی سطح پر عبوری آئین اور قانون سازی کے ذریعے ان کے بنیادی حقوق ملنے چاہیئے۔ خواتین ملک اور معاشرے کا اہم حصہ ہیں اس وجہ سے ان کے حقوق کا تحفظ صوبائی سطح پر ناممکن ہے ۔ تقریباً تمام وفاقی ممالک (سوائے آسٹریلیا ) کے وفاقی آئین میں ایسے جغرافیائی لحاظ سے پھیلے ہوئے تمام گروہوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنیادی آئین کی فہرست مرتب کی گئی ہے ۔ اس فہرست میں خواتین کے مساوی حقوق کے علاوہ پرانے خیالات رکھنے والے گروہوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے جو معاشرے میں ترقی کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں موجودہ اصلاحات اور بحث و مباحثے کے بعد اب صوبوں کو اختیارات تفویض کئے جارہے ہیں۔ علاقائی اکائیاں اپنے اختیارات کے معاملے میںگہری سوچ و بچار میں مبتلا ہیں کہ وہ وفاقیت کے اہم ،یعنی مرکزی اداروں میںجو ملک میں موجود تمام چھوٹے بڑے گروہوں کی نمائندگی کرتے ہیں ان کو فراموش کر چکی ہیں۔ علاقائی اکائیوں کے ساتھ ساتھ مرکزی اداروں کا مستحکم ہونا لازمی امر ہے ۔ وفاقیت کی اقسام سے قطع نظر چاہے وہ پارلیمانی طرز کی ہو یا صدارتی طرز حکومت وفاق میں اقلیتوں سمیت تمام گروہوں کی نمائندگی ایک لازمی امر ہے ۔
g ۔وفاقی نظام میں کس طرح کا طرز حکومت بہتر نتائج دے سکتا ہے ؟ پارلیمانی نظام ، صدارتی نظام ، آ مریت یا وفاقی ڈھانچے کو کون سا نظام واضح کرتا ہے؟
٭٭۔وفاق میں مرکزی حکومت کی وسیع اقسام پائی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی نظام مثالی نہیں ہے۔ کچھ وفاقی ممالک میں صدارتی طرز حکومت ہے جہاں چیف ایگزیکٹیوکا انتخاب مقررہ مدت کے لیے ووٹرز کرتے ہیں۔ اس طرز حکومت میں صدر اور مرکزی حکومت کے اختیارات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال امریکہ کا وفاق اور لاطینی امریکی ممالک میں قائم مختلف وفاق ہیں ۔ لاطینی امریکہ کے ممالک میں صدارتی اورکانگریس ماڈل کو اپنایا گیا ہے۔ بہت سے وفاقی ممالک نے پارلیمانی طرز حکومت اپنایا ہوا ہے جہاں صدریا بادشاہ صرف رسمی سربراہ ہوتا ہے جبکہ وزیر اعظم مہتم اعلیٰ ہوتا ہے اور اپنی کابینہ میں مجلس قانون ساز کے منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر اپنے فرائض کی انجام دہی کرتا ہے ۔ جب تک انھیں ایوان میں اکثریتی حمایت حاصل رہتی ہے تب تک یہ اپنا کردار بخوبی نبھاتے رہتے ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک اور سابق برطانوی کالونیوں میں پارلیمانی نظام حکومت برسوں سے رائج ہے مثلاً آسٹریا، بیلجیئم ، جرمنی، اسپین، کینیڈا، آسٹریلیا ، ملائیشیا ، انڈیا وغیرہ ۔ وفاقی طرز حکومت کی تیسری مثال پارلیمانی اور صدارتی دونوں طرز کا ملا جلا نظامِ حکومت ہے۔ اس میں صدر کے پاس عاملہ کے اختیارات ہوتے ہیں جبکہ وزیر اعظم اور کابینہ مجلس قانون ساز کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں ۔ پاکستان، روس اور غیروفاقی ملک فرانس اس طرز حکومت کی واضح مثال ہے ۔
صدارتی نظام کے استحکام کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ صدر کا انتخاب مخصوص مدت کیلئے ہوتا ہے جبکہ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اختیارات کا منبع صرف صدر ہی ہوتا ہے یا کبھی اختیارات کی تقسیم صدرارتی یا کانگریسی نظام میں صدر اور کانگریس کے درمیان ڈیڈلاک کی صورتحال بھی پیدا کر دیتی ہے۔ پارلیمانی وفاق کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں تمام گروہوں کی مناسب نمائندگی ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر کینیڈا جہاں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے گروہوں کی پارلیمانی وفاق میں نمائندگی ہے۔ اس کی کابینہ میںتمام صوبوں اور نسلی گروہوںکی نمائندگی ہے۔ اس طرز حکومت میں سیاسی اتحاد اور اشتراک کی شدید ضرورت ہوتی ہے ۔
اس نظام کو سمجھنے کے لئے سوئس حکومت کی وفاقی کونسل کی مثال دلچسپ ہے کیونکہ یہ مخصوص مدت کیلئے ہوتی ہے لیکن اس پر عمل کرنا ہر وفاق کے لیے ضروری نہیں ہے ۔ بنیادی طور پر وفاقی ممالک کو چاہیئے کہ وہ اپنے نظام پر ایک دفعہ نظر ثانی کریں۔ سوئٹزرلینڈ میں ایگزیکٹو کونسل کا انتخاب مقررہ مدت کے لیئے پارلیمنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے اور عاملہ کے ممبران کو باری باری صدارت کے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے ۔ اس طرح تمام اقلیتی نمائندوں ، جماعتوں ، مردوں، عورتوں وغیرہ سب کو ان سات لوگوں کی کونسل میں شامل ہونے کا مساوی موقع ملتا ہے ۔ لہٰذا سوئس ماڈل میں دونوں نظاموں کے فوائد ہیں اور اسے ملک کی ضروریات کے مطابق بڑی عاملہ کے ساتھ اپنایا جا سکتا ہے اور یہ ماڈل سوئٹزرلینڈ کی منفرد سیاسی ثقافت میں ہی کام کر سکتا ہے۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرز کے ماڈل کو دوسرے ممالک پر لاگو نہیں کیا جاسکتا اور اسے صرف سوئٹزرلینڈ کے مخصوص اور منفرد کلچر میں ہی کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے۔جہاں تک آمریت کا تعلق ہے مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں پارلیمانی اور صدارتی نظام کی صورتوں کو وفاقی نظام کی حدود پر رکھنا چاہیئے ۔ لیکن آمریت میں مستحکم حکومت صرف کچھ وقت تک کے لیے ہی قائم ہو سکتی ہے کیونکہ آمریت میں وفاقی نظام کے بنیادی عناصر کی کمی ہوتی ہے۔ ان عناصر میں جمہوریت کے بنیادی رہنما اصول اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام سرفہرست ہیں۔
g۔متحدہ عرب امارات کا وفاقی نظام ایک کمزور وفاقی نظام ہے کیونکہ وہاں پر بادشاہت کا نظام رائج ہے لیکن اسکے باوجود وہاں کی وفاقی اکائیوں میں مثبت اقدامات ہو رہے ہیں ؟ ہر ریاست اپنے فیصلوں میں آزاد ہے اوریہاں مختلف ریاستوںکو مدغم کر کے ایک ریاست کی شکل دی گئی ہے ۔ ایسی ریاستوں میں کرپشن ، بدعنوانی کے مسائل واضح نظر نہیں آتے تو اس طرح کے وفاق میں جہاں کے حکمران انتخابات کے بغیر حکمرانی کر رہے ہوںاس نظام کوآپ کیسے دیکھتے ہیں ؟
٭٭۔متحدہ عرب امارات (UAE) کی بہت ہی دلچسپ صورتحال ہے ۔ وفاق کے وسیع اشتراک کے باوجود بہرحال یہ ایک مثالی وفاق نہیں ہے اور نہ ہی اسے وفاقی ملک کہا جا سکتا ہے ۔ متحدہ عرب امارات کا 1996 میں بنایاجانے والا آئین اسے ایک وفاقی ملک قرار دیتا ہے جبکہ یہ نیم وفاقی ریاست کا کردار اداکر رہی ہے ۔ اس کی بڑے وجہ وفاق کے اہم بنیادی نکات کی عدم موجودگی ہے۔ یہاں Supereme Council of Rulers کے صدر اور نائب صدر کے چنائو کے لئے انتخابات نہیں ہوتے اور Unicameral federal legistlation مشاورتی ادارے کا کام انجام دیتا ہے ۔ وفاقی سطح پر مقننہ اور عاملہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم نہیں ہوتی اور بنیادی مسائل پر فیصلوں کے لیئے ساتوں ریاستوں کے حکمرانوں خاص طور پر ابوظہبی اور دبئی کی رضامندی ضرور درکار ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ متحدہ عرب امارات میں کنفیڈریشن (Confederation) کا نظام ہے یا یہ کہہ لیجئے یہ کمزور وفاقی نظام ہے جوکہ امراء خاص طور پر کسی ایک امیر کے دیئے گئے عطیات پر انحصار کرتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں ایسے مسائل مثلاً کرپشن، مالیاتی مسائل وغیرہ کے معاملات پر نظر رکھنا اوران سے نمٹنا ریاستی سطح پر اکائیوں کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
g۔ترقی کے لیے مساوات اور تنوع میںاتحاد کے موضوع پر ادیس ابابامیں وفاقی نظام پر ہونے والی پانچویں ، بین الاقوامی کانفرنس دوسرے وفاقی نظاموں کو سمجھنے اور پرکھنے کا بہترین موقع تھا لیکن بحیثیت منتظم آپ اس کے نتائج اور اس کی کارکردگی کے بارے میںکیا کہیں گے ؟ کیا اس کانفرنس کے نتائج وہ ہی ہیں جوآپ چاہتے ہیں؟
٭٭۔حقیقتاً فورم آف فیڈریشنز نے اس کانفرنس کی تمام ذمہ داری اٹھائی تھی۔ اس کانفرنس کے نتائج سے میں کافی حد تک مطمئن ہوں اور ہمیں اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ اس کانفرنس کی کامیابی میں ہمارا کردار اہم ترین ہے۔ یہ کانفرنس تمام شرکاء کے لیئے سیکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تجربے بانٹنے کا بہترین موقع تھا۔ ایتھوپیا اور تمام افریقی ممالک کے لیئے بھی خوش آئند بات ہے۔ ایتھو پیا میں کانفرنس کا انعقاد کرنے سے اس ملک کو اپنے وفاقی نظام کے نظریے کو افریقی ممالک اور بین الاقوامی سطح پر واضح کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس کانفرنس میں ہونے والی بحث کے ذریعے ایتھوپیا کے نظام کی خوبیوں ، خامیوں ، کمزوریوں ، قوت اور چیلنجوں کوپرکھنے اور جاننے کا موقع ملا ہے ۔ اس سب کے برعکس ایتھوپیا کی کارکردگی بہت متاثرکن تھی ۔
اگر اس کانفرنس کے معیار کی بات کی جائے تو میں اس میں اس سے کہیںزیادہ مطمئن ہوں۔ تقریباً 282 بین الاقوامی افراد \ شرکاء کی جانب سے دستاویزات پیش کی گئیں۔ بہرحال یہ کامیاب کانفرنس تھی ۔ یہ کانفرنس موضوع کے اعتبار سے تجربات کے تبادلے میں معاون رہی۔ کانفرنس کے دوران افریقی شرکاء کی جانب سے کھلے اور دوستانہ انداز میں اپنے نظام کی کامیابیوں ، غلطیوں ،اطاعت ، فرمانبرداری کی کمی اور ناکامیوں پر بحث و مباحثہ کرنا میرے لئے دلچسپ امر تھا۔
مباحثے سے یہ بات سامنے آئی کہ وفاقیت ترقی پذیر ممالک میں اپنے مسائل حل کرنے کے لیئے اکسیر نہیں ہے اور سیاسی طور پر یہ نظام تیکنیکی وسعت ، سیاسی ہم آہنگی / موافقت کے ساتھ ساتھ ممتاز افراد کی سوچ میں پختگی اور شہریت کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ اس کانفرنس کے ذریعے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ وفاقیت مسائل کے حل کاطریقہ نہیں ہے ۔ اس کے بجائے یہ جمہوری حکومت کے مختلف اصولوںکے جاری رہنے کی مستقل جدوجہد ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹوں سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ وفاقیت امن، استحکام معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے وعدے کو پورا صرف اس وقت کرتی ہے جب جمہوریت اور جمہوری اقرار کا خیال رکھا جائے۔ سیاست میں باہمی احترام ، معاشی سطح پر مساوی سلوک یہ کانفرنس کا سب سے مضبوط اور اہم مقصد تھا۔
g۔آپ نے کئی بار پاکستان کا دورہ کیا ہے ۔کیا پاکستان صحیح معنوں میں وفاقی ریاست کی جانب قدم بڑھا رہا ہے ؟ آپ کا اس سلسلے میں کیا تجزیہ ہے ؟
٭٭۔بین الاقوامی تجزیہ نگاراس چیز کو واضح طور پر محسوس کر رہے ہیںکہ ستمبر 2008 نے پاکستان کے وفاقی نظام کو ایک دفعہ پھر درست سمت پر گامزن کر دیاہے جیسا کہ 1973 کے آئین میں تحریرکیا گیا تھا ۔ میرے خیال میں زیادہ تر تجزیہ نگار اٹھارویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈز ، بلوچستان پیکج اور گلگت/ بلتستان اصلاحات کو صحیح سمت کی جانب اہم اقدمات قرار دیتے ہیں ۔ لیکن کیا یہ سیاسی صورتحال موجودہ حالات میں یا مستقبل میں معاشی حالات پر اثرپذیر ہونگے ؟حالیہ اصلاحات نے صوبوں کو استحکام بخشا ہے ۔ بین الاقوامی تجربات سے سیکھنا بہت اہم رجحان ہے کیونکہ ادارہ جاتی استحکام، ثقافتی اور تہذیبی اختلافات میں اتحاد اور عوامی حکومت مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ بین الاقوامی تجربے سے دراصل یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف گروپوں میں علاقائی سطح پر خودمختاری دینے سے وفاق کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتا ہے خصوصاً ان معاملات میں جو اقلیتی گروہوں پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں یا جو صریحاً ان کی پہچان سے متعلق ہوں۔ مرکزی اداروں مثلاً سینٹ، افواج پاکستان ، سرکاری ملازمتوں وغیرہ میں علاقائی یا خطّوں کی نمائندگی کم ہے،میں نے محسوس کیا ہے کہ بعض وجوہات کی بناء پر حکومتی ایجنڈا میں تقسیم شدہ اختیارات کے بجائے خود مختار اختیارات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ تاہم مرکزی سطح پر اصلاحات ہونی چاہئیں اور عدم مرکزیت کا خاتمہ کیا جائے ، مالیاتی اختیارات کو اوپر سے نچلی سطح تک مساوی طور پر تقسیم کیا جائے ۔ صوبوں اور ا قلیتی گروہوں کو اختیارات تقویض کرنے سے وفاقیت کی نوعیت پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیئے دوسرے وفاقی نظاموں سے بھی کچھ سیکھا جا سکتاہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک دلچسپ اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان متنازع امور سے نمٹنے کیلئے سیاسی عمل ہی بہترین راستہ ہے۔ دیگر ظہور پذیراور نسبتاً نئے وفاقی ممالک کی نسبت پاکستان میں ایسے تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جو 1973 کے آئین کے مطابق پاکستان کو وفاقی ملک کی شکل میں ڈھالنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
g۔ آپ کے خیال میںاطلاقی عمل کے دوران پاکستان کو کیا مشکلات درپیش آسکتی ہیں؟
٭٭۔مندرجہ بالا بیان کئے گئے حقائق شایدپاکستان کے تناظر میں یوںبالکل صحیح بیٹھتے ہوں۔ مستحکم وفاقی نظام کے دو بنیادی عناصر ہیں۔ اوّل یہ کہ متوازی آئینی خاکے ، یعنی مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان مشترک اور مئوثر لائحہ عمل اور علاقائی سطح پر اختیارات کی مساویانہ تقسیم ۔ دوسرا عنصر معاون رجحان ہے جہاں وفاقی اقدار کو عوامی پذیرائی حاصل ہو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آئین کی تشکیل کتنی اچھی کی گئی ہے جب تک عوام وفاقیت کی اصل روح یعنی قانون کی حکمرانی ، مفاہمت، ہم آہنگی، اقلیتوں کا احترام اوربرداشت کو تسلیم نہیں کریں گے تب تک وفاق قائم نہیں ہو سکتا۔
پاکستان میں دوسری وفاقی ریاستوں کی طرح ادارہ جاتی نظام مختلف اقلیتی گروہوںکو اوّلین اہمیت دیتا ہے معاشی ومعاشرتی طبقوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کسی حد تک صحیح ہے خصوصاً معاشی بحرانوںکے حل کیلئے کوششیں کی جائیں جیسے بجلی کی قیمتیں یا ٹیکس کے مسائل وغیرہ کے ساتھ ادارہ جاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے بھی کوششیں ہونی چاہئے۔
میرا خیال یہ ہے کہ معاشی بحران کے بوجھ کے ساتھ ساتھ ملکی دولت کی بھی مساوی تقسیم اچھے مستقبل کے عناصر تصور کئے جاتے ہیں۔ ٹیکس جیسے بنیادی اہم معاملات پر روایتی بالائی اور متوسط طبقے کے درمیان مفاہمت ہونی چاہئے۔ اس کے لیئے مضبوط سیاسی نمائندگی کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کا آپس میں مسائل کے حل کے لیئے ہم آہنگی پیدا کرنا بھی بے حد ضروری ہے ۔ 2011 کی ابتداء میںحکومت کی سب سے بڑی اہم اتحادی جماعت کی جانب سے علیحدگی کے اعلان کے بعد اب اس بات کی زیادہ شدّت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔
مزید براں میں اس بات سے متفق ہوں کہ بین الاقوامی عناصر مضبوط وفاق تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی امداد و تعاون یا عدم تعاون دونوں ملکی تعمیر و ترقی کے لیئے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں ۔اس کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ پاکستان میں اتحادی حکومت قائم رہتی ہے یا نہیں اورپاکستان بین الاقوامی معیار اور توقعات پر پورا اترتابھی ہے یا نہیں۔ یہ براہِ راست یا بلواسطہ طور پرپاکستان کے وفاقی نظام پر اپنے اثرات مرتب کرے گاکہ وہ وفاقیت کی جانب اس طرح گامزن رہے گا۔ دوسرے وفاقی نظاموں اور وفاقی معاملات پر مسلسل مباحث نہ صرف معلومات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ یہ وفاقیت کے لیے بہتر حل بھی پیش کرتے ہیں اس طرح کی مدد سے پاکستان میں عوامی حکمرانی کے قائم رکھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
تیونس کے بعد مصر کے التحریر اسکوائر پر عوامی انقلاب کی لہر جب تخت اچھالے جائیں گے
گذشتہ ڈیڑہ ماہ سے عرب دنیا کی عوام سر جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔آمرانہ طریقہ حکومت سے عوام تنگ آگئے ہیں۔ایک ہی شخص کئی دہائیوں سے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں کہ بھائی حسنی مبارک صاحب 1981 سے اب تک تیس سال سے آپ بیٹھے ہوئے ہیں، کیوں؟ انتخابات کے ڈھونگ میں تیونس سے لیکر مصر تک کے لوگوں کے ساتھ دھوکے کئے گئے ہیں؟ پھر تو نیلسن منڈیلا پاگل تھا جس نے اپنی قوم کوراہ نجات دکھائی اور کچھ ہی عرصے کے بعد اپنے عہدے سے علحیدہ بھی ہوگئے اوردوسروں کے لئے راستے کھولے۔ زبان سے جمہوریت کا نام لینے والوں کا ادر اصل آئیڈیل بادشاہت ہی ہوتی ہے۔جس میں کوئی بادشاہ سے پوچھنے کی جرات نہ کر سکے۔
تیونیس کے بعد اب مصر میں لاکھوں لوگوں کا سمندر شہر کے وسط میں امنڈا ہوا ہے اور لوگ کہ رہے ہیں کہ حسنی مبارک چلے جاؤلیکن تیس سال کے بعد بھی وہ مزید اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔اقتدار آسانی سے کون چھوڑتا ہے۔پھر فروری 2011ء کو حسنی مبارک نے بھی وہ ہی نسخہ آزمایا جوجنرل پرویز مشرف نے 12 مئی 2007ء کو کراچی میں آزمایا تھا۔یعنی کہ اپنے لوگوں کو اپنے مخالفین کے خلاف میدان میں اتارا تھا۔اس روز قاہرہ کی سڑکوں پرحسنی مبارک کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان ٹکراؤ جاری رہا ۔ اس میں البتہ ایک فرق پھر بھی ہے کہ جنرل مشرف کے حمایتیوں نے کراچی میں پچاس سے زائد لوگوں کو قتل کردیا تھا لیکن قاہرہ میں تین افراد قتل ہوئے اور بڑی تعداد میںزخمی بھی ہوئے۔
عرب دنیا میں اٹھنے والے عوامی طوفانوں نے ساری دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔فی الحال افغانستان سمیت دیگر اشوز لوگوں کے ذہن پر نہیںلیکن ایک طرف قاہرہ میں عوامی قوت سڑکوں پر تھی تو دوسری جانب پاکستان میں انتہا پسند دہشتگرد بھی خاموش ہو کر نہیں بیٹھے تھے۔جنوری کے آخر اور فروری 2011 کی ابتداء میں دہماکوں کی ایک سیریز شروع کررکھی تھی۔وہ دنیا کی توجہ اپنے پر سے ہٹنے نہیں دینا چاہتے تھے۔
قاہرہ کا التحریر چوک کئی دنوں سے لاکھوں لوگوں سے اٹا ہوا ہے۔احتجاج کرنے والے کوئی پر تشدد کارروائی کرنے سے گریز کر تے رہے ۔انہوں نے احتجاج میں شامل ہونے والوں کی شفٹیں بنا لیں تھی تاکہ چوبیس گھنٹے احتجاجی دھرنہ جاری رہ سکے۔جو لوگ صبح کو بیٹھ رہے تھے وہ شام کو گھروں کو واپس جاتے اور پھر تازہ دم افراد رات بھر کے احتجاج کے لئے پہنچ جاتے۔ احتجاج کرنے والوں کی جانب سے ایمرجنسی اسپتال بھی قائم کر لئے گئے تھے۔حسنی مبارک کے حامی ، حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ملک کا غدار تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حسنی مبارک جدید مصر کے معمار ہیں اس کے ان کے خلاف اتنا بڑ احتجاج بیرونی طاقتوں کے اشارے پر ہو رہا ہے۔لیکن التحریر اسکوائر میں کئی دنوں سے موجود لوگ حسنی مبارک کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے وہ اب اسے مصر پر بوجھ تصور کرتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ مصر میں حکومت کی تبدیلی سے شاید مذہبی شدت پسندحکومت پر قابض ہو جائیں لیکن مصر کے مفتی اعلیٰ علی جومع نے حسنی مبارک کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے حسنی مبارک کے مخالف مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ لیکن ملک کے مذہبی رہنما تو ،حسنی مبارک کے حمایتی نظر آتے ہیں۔مصر کے مفتی اعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو سعودی عرب کی جانب سے بڑی مالی مدد حاصل ہوتی رہتی ہے۔
دوسری جانب مصر کی فوج نے مظاہرین پر براہ راست گولی چلانے سے تو انکار کردیا تاہم ہوائی فائرنگ کرتے رہے ۔وہ فقط آہنی ماسک پہنے التحریر اسکوائر پر مظاہرین کے گرد موجود رہے ۔فوج نے مظاہرین کو اپنے گھروں کو چلے جانے کا مشورہ دیا لیکن اپوزیشن نے یہ مشورہ ماننے سے انکار کردیا ۔ التحریر چوک سے صدراتی محل تک کے راستے کوکنکریٹ کے لمبے بلاکس رکھ کر بند کردیا گیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے بدھ دوفروری 2، 2011ء کو التحریر چوک پر احتجاج کرنے والوں پر تشدد کی سخت مذمت کی گئی اور یورپی یونین نے حسنی مبارک کو اقتدار منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔حسنی مبارک سے مصر میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے حکمراں پارٹی کی قیادت سے استعفی بھی دے دیا ہے کیا ہے۔لیکن احتجاج کرنے والے اس سے مطمئن نہیں۔مصر میں حزب مخالف کے ایک اہم
رہنما البرادی نے فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ مصر کے شہریوں کے تحفظ کے لئے مداخلت کریںلیکن کہا جاتا ہے کہ مصر کی آرمی اپنے خطے میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے بہت محتاط ہے کہ ایرانی انقلاب کے وقت جب ایرانی جنرلوں نے شاہ کا ساتھ دیا تھا توانقلاب کے بعد ان کے ساتھ کیا حشر ہوااور ترکی میں طیب اردگان کا ساتھ دینے میں آرمی جنرلز کے ساتھ کیا ہوا؟ لہٰذا کہا جاتا ہے کہ مصر کی فوج اپنے عوام کے خلاف کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کر رہی ہے۔
بات محض تیونس اور مصر کی نہیں،اب کہا جاتا ہے کہ عرب دنیا میں تبدیلوں کی ایک زوردار لہر خطے میں سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دے گی۔یہ آگ شاید سعودی شہزادوں کو بھی لپیٹ میں لے لے اس لئے سنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں پہلے سے بندوبست کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ سنا ہے کہ اب لیبیا سمیت اس خطے کی دیگر ممالک کی باری ہے۔جہاں ہر حکمران کئی دہائیوں سے اقتدار پر قابض ہیں۔جہاں عوام کے وسائل کو لوٹا گیا ہے۔