Archive for the ‘خواتین میڈیا سینٹراشاعت’ Category

الیکشن گائیڈ بک

پاکستان کی نصف سے زائد آبادہی خواتین پر مشتمل ہے

ویمن میڈیا سینٹر کے زیرِ اہتمام ’’ آئینی اصلاحات کا عمل ‘‘ کے موضوع پر دس روزہ تربیتی ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا۔جس میں خواتین صحافیوں سمیت شعبہء ابلاغِ عامہ کی طالبات نے بھی شرکت کی۔اِس دس روزہ تربیتی ورک شاپ کا مقصد صحافت میں قدم رکھنے والی طالبات کی عملی تربیت کرنا اور اِن کی صلاحیتوں کو ابھارناتھا۔اِس ورک شاپ کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔پہلے حصے میں آئینی ماہرین نے طالبات کو آئین کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے آئینی اصلاحات کے عمل کو واضح کیا۔اِس موقع پر نامور قانون دان اور سندھ کے سابق ایڈووکیٹ جنرل عبدالحفیظ لاکھو نے ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے آئینی ترمیم کے عمل پر روشنی ڈالی۔اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر عدلیہ اورپارلیمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کا اندیشہ ہے۔بعد ازاں انھوں نے طالبات کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دئے۔ورک شاپ کے دوسرے حصے میں طالبات کو اسکرپٹ رائٹنگ اور پسِ پردہ آواز کی تربیت دی گئی۔جبکہ تیسرے حصے میں کیمرہ ورک اور تدوین کی تربیت دی گئی۔جس کے بعد طالبات نے آخری مرحلے میں طالبات کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور تینوں گروپوں کو علحیدہٰ علحٰدہٰ موضوعات دئے گئے۔جن میں جوڈیشل میشن ، صوبائی خودمختاری اور اختیارت کی منتقلی کے مو ضوعات شامل تھے۔اِن موضوعات پر ہر گروپ نے نیوز پیکیجز بنائے اور صلاحیتوں کا بھر پور اظہا کیا۔
تربیتی ورک شاپ مکمل ہونے کے بعد مقامی ہوٹل میںایک تقریب منعقد کی گئی۔تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیرِاعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی تھیں۔جبکہ دیگر مہمانوں میں ڈاننیوز کے وسعت اللہ خان اور آج نیوز کے عامر سہروردی شامل تھے۔تقریب میں طالبات کے بنائے گئے نیوز پیکیجز بھی دکھائے گئے۔جس پر شرکاء نے طالبات کی کاوشوں کو سراہااور اپنی ماہرانہ رائے کا اظہار کیا۔مہمانِ خصوصی شرمیلا فاروقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہی ہیں۔صحافت میں بھی خواتین کو اپنا کرادر ادا کرنا چاہئے۔
پاکستان کی نصف سے زائد آبادہی خواتین پر مشتمل ہے۔اگر خواتین باشعور اور تعلیم یافتہ ہوں گی تو ملکی استحکام میں مدد ملے گی۔ساتھ ہی انھوں نے ویمن میڈیا سینٹر کے کر دار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ خواتین صحافیوں کے لئے بہترین تربیت گاہ کا کام انجام دے رہا ہے۔وسعت اللہ خان نے کہا کہ دس روز کی قلیل مدت میں طالبات نے نہایت عمدگی اور محنت سے کام کیا ہے۔عامر سہروردی کا کہنا تھا یہ نیوز پیکیجز دیکھ کہ اندازہ ہورہا ہے کہ اِن طالبات میں آگے بڑھنے اور اپنے شعبے میں بہترین کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ویمن میڈیا سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فوزیہ شاہین نے ادارے کی پانچ سالہ خدمات پر روشنی ڈالی اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔تربیتی ورک شاپ میں شریک طالبات نے اِس دس روزہ ورک شاپ کے انعقاد پر ویمن میڈیا سینٹر کا شکریہ ادا کیا۔اور اس دس روزہ ورک شاپ کو عملی تربیت کا ذریعہ قرار دیا۔آخر میں مہمانِ خصوصی نے تربیتی ورک شاپ مکمل کرنے والی طالبات میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے۔

کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت ،معاشی بحران اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے

کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت ،معاشی بحران اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے’’کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت ،معاشی بحران اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرپشن ایک اچھی حکومت قائم کرنے میں نہ صرف رکا وٹ پیدا کرتی ہے بلکہ ملک کے معاشی نظام ،خواندگی کی شرح اور قاعدے قانون پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے ‘‘یہ بات گزشتہ دنوں ویمن میڈیا سینٹر اور کامن ویلتھ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقد ہونے والے سیمینار’’کرپشن:ترقی کی راہ میں رکاوٹ ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئیجرمنی ادارے کے فریڈرک نومن سٹفٹنگ فائونڈیشن کے نمائندے کیلر ہاف نے اپنی پریزینٹیشن کے دوران صحافیوں سے کہی۔۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی کرپشن ہو رہی ہے لیکن اس کا خاتمہ صاف اور شفاف نظام اپنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ افراد انفرادی طور پر کرپشن کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے مزیدکہا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس موقع پر پی ٹی وی کے اینکر آغا مسعود نے کرپشن کے حوالے سے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا کرپشن کے خاتمے کیلئے اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے اور عوام کو مختلف سطحوں پرہونے والی کرپشن کے بارے میںمکمل آگاہی دے رہا ہے۔
کیلر ہاف نے ویمن میڈیا سینٹر کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویمن میڈیا سینٹر لوگوں میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہاہے۔سیمینار میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔پروگرام کے اختتام میں ویمن میڈیا سینٹر کی پروکرام کوآرڈینیٹر نزیحہ خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر فوزیہ شاہین نے مہمان خصوصی اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

سندھی ، بلوچی، پنجابی کے فرق کو مٹا کر متحد ہو کر پاکستان کوایک اپنا ملک اور اپنا قوم کی حیثیت سے منوانہ ہے

سینٹر فار سوک ایجوکیشن اور فورم آف فیڈریشنز کے تعاون سے ویمن میڈیا سینٹر نے ’’وفاق کو سمجھنے کی

فوزیہ شاھین شرکاءسے اظہار کرتے ہوہے

کوششیں‘‘ کے موضوع پر ایک سمینار کا انعقاد کیا ۔ اس سیمینار میں صحافت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے شرکت کی ۔ شیر محمد کھیاڑو، ذوالفقار روہوچو، عظمیٰ بلوچ وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ سینئر صحافی جی این مغل نے اس تقریب کے مہمان خصوصی کے فرائض انجام دیئے۔ سینئر صحافی نذیر لغاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی نظام پر یاست کی اولیں ضرورت ہے اور یہ وفاق کا نظام اس رہاست کی ضرورت کے مطابق طے کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کا وجود 14 اگست 1947 کو دنیاکے نقشے میں مختلف قومی وحدتوں کو ملا کر اُبھارا گیا تھا۔ اس وقت نے اب تک سول اور ملٹری بیوروکریسی نے مل کر ملک کے نظام کو عوام دوست بنانے کے بجائے بیرونی قوتوں کے مفادات کا محافظ بنا دیا ہے جس کی وجہ سے اب تک پاکستان کی عوام کے مسائل حل نہیں ہو پاتے ہیں۔ یہاں آنے والے ہر حکمراں نے وفاقی نظام کو جبر کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے ‘‘۔
انہوںنے کہا کہ ’’پاکستان میں صوبوں ، ان کے اختیارات زبانوں کافی تنازعات ہیں ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے پاس وسائل اور سوسائٹی کو لے کر کوئلے اور گیس جیسے قدرتی وسائل ہیں پاکستان کے صوبوں کے درمیان ان کو اکائیوں کے درمیان اگر ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو پاکستان کے بیشتر مسائل حل کئے جا سکتے ہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں سندھی ، بلوچی، پنجابی کے فرق کو مٹا کر متحد ہو کر پاکستان کوایک اپنا ملک اور اپنا قوم کی حیثیت سے منوانہ ہے اور یہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب صوبوں کے درمیان امتیازات کو طلائے طاق رکھ کر فرائض اور اختیارات کی تقسیم منصفانہ انداز میں کی جائے‘‘
آخر میں فوزیہ شاھین نے تمام شرکاء کو اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور موضوع سے متعلق سوال و جواب کا سلسلے کی دعوت دی۔ جس میں تمام صحافیوں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ تقریب کے اختتام پر فوزیہ شاھین نے مہمان خصوصی اور صحافیوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔

دہشت گردی کا پاکستان ساختہ حل…گریبان

برادر عزیز حامد میر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ”پاکستان ساختہ“ حل پیش کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا

دہشت گردی کا پاکستان ساختہ حل...گریبان

دہشت گردی کا پاکستان ساختہ حل...گریبان

ہے کہ وطن عزیز میں مذہبی انتہاپسندی کے مقابلے میں لبرل انتہاپسندی میدان عمل میں آتی دکھائی دیتی ہے اور یہ دونوں ایک جیسی خرابیاں ہیں ۔ بلاشبہ انتہاپسندی دائیں بازو کی ہو یا بائیں بازو کی مذہبی ہو یا لبرل انتہاپسندی ہی ہوتی ہے اور انتہاپسندی میں توازن، جواز، دلیل، برداشت اور انصاف کی گنجائش نہیں ہوتی مگرحامد میر نے اپنے تجزیئے میں دہشت پسندی کے خلاف جنگ کا جو ”پاکستان ساختہ“ حل پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہ ہماری ناقص سمجھ میں نہیں آسکا یا اسے تلاش کرنے میں مشکل پیش آئی ہے۔ صرف یہ اندازہ ہوسکا کہ بانی ٴ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات پر عمل کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو مولانا فضل الرحمن کا طرز ِ عمل اپنانا چاہئے اور آزادی ٴ اظہار اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کے تمام فرائض انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے کردینے چاہئیں۔ یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ”پاکستان ساختہ “ حل وہی ہے جو پہلے جنرل ضیاء الحق اور پھر جنرل پرویز مشرف نے اپنایا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کی بجائے دہشت گردی کو حل کیا جائے جیسے چائے اور دودھ میں چینی حل کی جاتی ہے اور یوں انتہاپسندی سے خوگر ہونے کے بعدانتہاپسندی خودبخود غائب ہو جاتی ہے جیسے شاعر نے کہا تھا:
رنج سے خوگر ہو گر انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مگر بہت سے لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو لاہور ہائی کورٹ میں احمد رضا قصوری کے والد صاحب کے قتل کی سازش قبول کرلیتے تو مولوی مشتاق انہیں باعزت طور پر بری کردیتے بلکہ یہ بھی قرین قیاس نہیں ہے کہ اس طریقے سے پاکستان کی قومی تاریخ لیاقت علی خان سے بینظیر بھٹو تک کے خون سے لہولہان ہونے سے بچ گئی ہوتی۔ اسی طرح ہمارے پیارے دوست پروفیسر وارث میر اگر عورت کی آدھی گواہی کے خلاف احتجاج صرف عاصمہ جہانگیر کے حوالے کرکے خاموشی اختیارکرتے تو مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے ان کے بچوں کی جان کے دشمن نہ بن گئے ہوتے۔
دہشت گردی اور بنیاد پرستی کوختم کرنے کے لئے دہشت گردوں اور بنیاد پرستوں کے ساتھ حل ہو جانے کی پالیسی اگر ہمارے پڑوسی ممالک بھی اپنا لیتے تو ماؤزے تنگ اور چو این لائی کا کوئی وجود نہ ہوتا اور ہندوستان صرف ارون دھتی رائے سے ہی نہیں موہن داس کرم چند گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو اور سبھاش چندر بوس سے بھی محروم رہتا۔ یہ پالیسی شاید قیام پاکستان کی وجہ بھی نہیں بن سکتی تھی اور 1947 کے فسادات میں لاکھوں انسانی زندگیاں ضائع ہونے سے بچ سکتی تھیں۔
ایک اورخبرکے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ فی زمانہ مذکورہ بالا سیاست ”گندی سیاست“ کہلانے لگی ہے اور گندی سیاست کا زمانہ گزر چکا ہے۔ یہ صاف ستھری، شفاف اور آرپار دکھائی دینے والی سیاست کا زمانہ ہے اور صاف ستھری سیاست میں یہ طے پایا ہے کہ عام انتخابات کے ذریعے حکمران منتخب ہونے والوں کاایجنڈا اپوزیشن والے تیار کرکے دیں گے جس کو قبول کرنا حکمرانوں کا فرض اولین ہوگا۔ اس کے عوض اگر اپوزیشن کو ”دوستانہ اپوزیشن“ کہا جائے گا تو وہ اسے ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں قبول کرلے گی۔
یہی پالیسی گر دہشت گردوں اورانتہاپسندوں کے خلاف جنگ کے ”پاکستان سٹائل“ میں استعمال کی جائے گی تو مذہبی انتہاپسندوں کا یہ کام ہوگا کہ وہ لبرل انتہاپسندوں کے لئے دس یا گیارہ نکات پرمشتمل ایجنڈا تیار کریں اور اس پر عملدرآمد کے لئے چالیس پچاس دنوں کا الٹی میٹم دیں اور لبرل انتہاپسندوں کو ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں ان نکات کو قبول کرنا پڑے گا جس کے بعد دائیں اور بائیں، مذہبی اورلبرل انتہاپسندی کی تفریق ختم ہوجائے گی بلکہ دہشت گردی بھی دہشت گردی نہیں رہے گی۔ اُسامہ بن لادن بارک اوبامہ ہوجائیں گے اور بارک اوبامہ اُسامہ بن لادن ہو جائیں گے۔
حیرت ہوتی ہے کہ اپنی قومی زندگی کے 63 سالوں میں ”بنیادی جمہوریت“ سے ”لبرل روشن خیالی“ تک بے شمار تجاویز کو برداشت کرنے والے پاکستان میں یہ تجویز پہلے کسی ذہن میں کیوں نہیں آئی۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ سوچا ہو مگراس کو بیان کرنا مناسب اور موزوں نہ سمجھا ہو کیونکہ بعض شاندار تجاویز کو منظر عام پر لانے کے لئے بھی ہمت اور جرأت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کی عدم موجودگی میں ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں بہت ساری تجاویز اپنی موت آپ ہی مرجاتی ہیں۔ اگر یہ تجویز پہلے سامنے آگئی ہوتی تو بہت سارا خون ناحق رزق خاک بننے سے بچ جاتا اورپوپ بینڈکٹ کو بھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔