Archive for the ‘میڈیا سینٹرکی خبریں’ Category

حلقہ این اے 48میں انتخابات کا عمل پر امن اور بہترین انداز میں مکمل

اسلام آباد : ملک بھر میں انتخابات میں اس بار ایک بہت بڑی اور مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ۔اس بار خواتین ووٹر ز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا جبکہ پچھلے بار اس کے بر عکس تھا۔دارلحکو مت اسلام آباد میں پولنگ اسٹیشن برائے خواتین سیکٹر ایف الیون تھری جو نصف کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔جہاں ووٹنگ کا سلسلہ 8:00 بجے شروع ہو اور 5:00 بجے تک جاری رہا ۔پولنگ کا عمل بہترین اور پرسکون انداز میں شروع ہو ا۔
پولنگ ڈیوٹی پر 10سے 12خواتین عملہ ما مور تھا ۔پولنگ ا سٹیشن میں تین پولنگ بوتھ تھے مر د اور خواتین کے لئے الگ الگ پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے تھے اورخواتین ڈیوٹی افسران اپنی زمہ داری اچھے طریقے سے انجام دے رہی تھیں۔پولنگ سٹیشن کے اندر خواتین کا کافی ہجوم تھا لائنوں میں کھڑی خواتین جو تعداد کے اعتبار سے 200 تھی مگر بہترین انتظامات کے باعث ایسا کوئی عمل دیکھنے میں نہیں آیا جس سے منفی تاثر قائم ہو ۔تاہم وہاں پر انتخابی امیدوار وں کے حامی ڈیوٹی پر مامور خواتین افسران کی طرف سے ووٹرز پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں تھا ۔خواتین کی ایک بڑی تعداد جس میں جوان ،معمر اور درمیانے عمر نے ووٹ استعمال کیا ۔ایسی خواتین نے بھی ووٹ کاسٹ کیا جو ویل چئیر کے زریعے پولنگ اسٹیشنز آئیں۔
پولنگ اسٹیشنزمیں خواتین افسر ان نے ووٹرزکے حوالے سے کہا کہ انہیں اس بار انتخابات بہت منظم اور مہذب انداز میں عمل دیکھنے کو ملا۔پولنگ ا سٹیشن پر سیکیورٹی کے لئے پولیس بھی تعینات تھی۔پولنگ ا سٹیشن میں ووٹرز کے لئے موبائل فونز کے اندر لے جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔پولنگ اسٹیشن کے باہر بھی ووٹرز کے لئے امن اور تحفظ پا یا جاتا تھا ۔
ڈبلیو ایم سی کے خصوی نمائندے نے جب نوجوان خواتین سے پولنگ ا سٹیشن پر آنے اور ان کے قومی فریضے کی ادائیگی کے بارے میں جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں شہریوں کے تحفظ ،امن ،خوشحالی اور معیشت کی بہتری کے لئے اس بار ووٹ دینے کے لئے آئی ہیں۔جبکہ انہیں جوان خواتین شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے تبدیلی کے لئے پہلی بار ووٹ کا استعمال کیا ۔معمر خواتین کا کہناتھا کہ ان کا بیماری کی حالت میں پولنگ اسٹینشنز کی طرف آنا اس بات کی ترجمانی ہے کہ اس بار صرف نوجوان یا درمیانی طبقہ ہی تبدیلی کے لئے آواز نہیں اٹھارہے بلکہ وہ اپنے نسل ،ملک اور مستقبل کے لئے ایماندار اورخودمختار قیادت کے چناؤ کے لئے آئیے ہیں۔دوسری اہم بات جو پولنگ سٹیشن میں دیکھنے کو ملی وہ یہ تھی کہ خواتین بہت پر جوش دکھائی دے رہی تھیں ۔ان کے بقول ملک کے مستقبل کے لئے صرف چند منٹ دینا ہی قومی فریضہ کی ادائیگی ہے اور وہ اس کو اپنے اوپر ایک بڑی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔
گزشتہ انتخابات کے حوالے سے 2008 کی ایک رپورٹ کے مطابق بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی نے قوم کی ہمدردیاں حاصل کی لیکن پھر بھی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سامنے آئیں۔اس بار الیکشن کمیشن نے دھاندلی سے بچنے کے لئے سخت انتظامات کیے تھے اور ووٹرز کی فہرستوں میں نام کے ساتھ تصویریں بھی تھیں جس نے دھاندلی اور دھوکے سے ووٹ کے استعمال کوناکام بنایا ۔
حکومت جس کی بھی ہو یہ بات طے ہے کہ انتخابی عمل اور اس کے لئے کئے جانے والے انتظامات کا سہرا الیکشن کمیشن کے سر جاتا ہے ،اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ کسی بھی ملک کو اپنی تقدیر کی تبدیلی کے لئے اپنی حالت بدلنا ضروری ہے۔

  (شاہدہ محمد ظریف  خصوصی نمائندہ ڈبلیو ایم سی برائے اسلام آباد )

خامیوں سے بھرپور الیکشن 2013

الیکشن مئی۲۰۱۳ء کو ملک کا تاریخی الیکشن تصورکیا جا رہا ہے ان انتخابات میں جہا ں بہت سی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں وہاں بہت کچھ پچھلے انتخابات جیسا ہی رہاملک بھر میں قومی اسمبلی کی 272 نشستوں کے لیے جبکہ سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں کے لیے انتخابات لڑے گئے۔انتخابات میں ٹرن آؤٹ  %60 سے کراس کر گیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے 1970ء کے انتخابات کے بعد ایسا ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔اتنا ٹرن آؤٹ ہو نے کے باوجود متوقع انقلاب تو نہ آسکانہ ہی چہرے بدلے لیکن کچھ جماعتوں کی تاریخ ضرور بدل گئی۔ ملک کی سب سے بڑی جماعت پی پی پی تیسرے نمبر پر جا پہنچی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں واضح اکژیت حاصل کر کے پہلے نمبر پر جگہ حا صل کر لی جبکہ ملک کی ابھرتی ہوئی جماعت پی ٹی آئی بڑی جماعتوں میں اپنی جگہ بنا تے ہوئے دوسرے نمبر پر آگئی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں بہت سی خامیاں دیکھی گئیں اوران کی جانب سے کیئے گئے شفاف انتخابات کے دعوے دھرے رہ گئے۔
ویمن میڈیا سینٹر کی الیکشن مانیٹرنگ ٹیم کو کراچی کے بہت سے حلقوں میں انتخابی انتظامات کی ناقص صورتحال اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بنائے گئے قوانین کی پامالی نظر آئی۔ ہر پولنگ اسٹیشن میں مو بائل فون کا استعمال جاری رہا جبکہ ای سی پی کے احکامات کے بر عکس کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر cctv کیمرے نصب نہیں دکھا ئی دیے۔ پولیس کی واضح نفری پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر نظر آئی لیکن رینجرز کی تعداد کم اور فوج صرف فلیگ مارچ کی حد تک ہی نظر آئی۔
NA-249 حلقہ
ان حلقوں میں انتظامات کی ناقص صورتحال دیکھنے میں آئی۔ NA-249 کے پولنگ اسٹیشن شہید بے نظیر بھٹو لیاری میں ووٹرز کی بڑی تعدادہونے کے باوجود پولنگ کا عمل2گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ۔پولنگ اسٹاف نے تاخیر کا سبب انتخابی سامان کی دیر سے فراہمی بتایاجبکہ وہاں موجود لیاری کے سینئر نائب صدر الطاف حسین میمن نے wmc کی نیوز ٹیم کو بتایا کہ انہیں ووٹ ڈالنے کی حق سے محروم کیا جا رہا ہے انتخابی عمل دیر سے شروع کیا گیا اور زیادہ تر ووٹرز کا اندراج ہی غلط کیا گیا ہے۔انھوں نے احتجاج کیا کہ کھلے عام دھاندلی کی جا رہی ہے کھلی ہوئی سیل والے بیلٹ باکسز دیئے گئے ہیں ۔انھوں نے ایم کیو ایم پر الزام لگایا کہ اس نے انتخا بی عمل ہائجیک کر لیا ہے اور بیوروکریسی ٹیکنیکل کھیل کھیل رہی ہے۔
NA-249 اور PS – 110, 111 :
لیاری کے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گرلزپرائمری اینڈسیکنڈری اسکول سینگولین میں بھی یہی صورتحال نظرآئی۔ نیوز ٹیم کے اندر داخل ہوتے ہی وہاں ہلچل پھیل گئی کیونکہ وہاں دھاندلی سے ووٹنگ کا عمل جا ری تھا۔مرد ،خواتین اور نوجوان ووٹرز کافی تعداد میں موجود تھے جبکہ اس علا قے میں خواتین ووٹرز کو گاڑیوں میں پولنگ اسٹیشنز تک لے جا تے ہوئے بھی دیکھا گیا جو کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
NA-250 حلقہ
NA-250 کا حلقہ سب سے زیادہ اہم حلقہ تھا جس میں ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت ، پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی اور جماعتِ اسلامی کے نعمت اللہ خان کا مقابلہ تھا۔ اس علاقے میں سٹی کورٹ کے باہر ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ہمراہ خوش بخت شجاعت ا حتجاج کر رہی تھیں۔ ان کے حامیوں کی جا نب سے یہ نعرے لگائے جا رہے تھے کہ پی ٹی آئی اور جماعتِ اسلامی مل کر انتخابات میں دھاندلی کر رہی ہیں اور ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عارف علوی پر الزام لگایا گیا کہ وہ سٹی کورٹ سے بیلیٹ باکسز اور بیلیٹ پیپرز لے گئے ہیں ۔بعد ازخوش بخت شجاعت کو اندر جانے دیا گیا جبکہ میڈیا اور کچھ لوگوں کو اندر جانے سے روک دیا گیا۔
عبداللہ شاہ غازی کلفٹن میں واقع NA-250 اور PS-112 کے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گرلز پرائمری اینڈسیکنڈری اسکول میں بھی صورتحال کچھ الگ نہ تھی۔ووٹرز کی لمبی قطاریں صبح ۸ بجے سے سخت دھوپ میں ووٹ ڈالنے کے لیے لگی ہوئی تھیں جبکہ پولنگ عملہ بہت سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پایا گیا۔ لائن میں کھڑے ایک ووٹر عمر خان نے WMC نیوز ٹیم کو بتایا کہ پولنگ کا عمل صبح 9:30 بجے شروع کیا گیا ہے جبکہ عملہ بھی پورا موجود نہیں۔اس نے بتایا کہ وہ ملک کے حالات سے تنگ آکر ووٹ ڈالنے کے لیے نکلا ہے اور تبدیلی کا خواہاں ہے۔
PS 128,NA-255 حلقہ
NA-255 کے ایک پوش علا قے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے پولنگ اسٹیشن نیلم ہائی اسکول میں کافی تعداد میں ووٹرز لائنوں میں موجود تھے جن میں واضح اکژیت نوجوانوں کی تھی۔ ایک خاتون ووٹر نے نیوزٹیم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں ڈھائی گھنٹے کی تاخیر سے پولنگ کا عمل شروع ہوا ہے۔ اس پولنگ اسٹیشن میں بھی موجود نوجوانوں غرض کہ ہر فرد کو ہی موبائل فون استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ایک فرق یہ دیکھنے میں آیا کہ وہاں صرف مرد و خواتین کے ہی پولنگ بوتھ الگ نہیں تھے بلکہ امیر اور غریب کے بھی پولنگ بوتھ علیحدہ بنائے گئے تھے۔ PS-128 کے پریزائڈنگ آفیسر اللہ وڈایو چنّا سے اس تفریق کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ انھیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے الگ الگ بوتھ بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
11مئی ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں جہاں ووٹرزکا واضح ٹرن آؤٹ دیکھنے میںآیا وہیں دھاندلی کے بھی سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ مجموئی طور پر امن و امان کی صورتحال کسی حد تک بہتر تھی۔ صبح کے وقت زیادہ تر میڈیکل اسٹورز کھلے ہوئے نظر آئے اور کچھ دکانیں، بیکریز اور پیٹرول پمپز بھی کھلے ہوئے دکھائی دیئے۔ لیکن پو لنگ ا سٹیشنز میں پولنگ کے ناقص انتظامات، عملے کی عدم موجودگی ، قابلِ اعتراض رویّے اور دھاندلی کی وجہ سے کراچی کے انتخابات پربرا ثر پڑا جس کا سب سے زیادہ اثر کراچی کے حلقے NA-250 پر ہوا۔ سب سے نمایاں بات یہ دیکھنے میں آئی کہ لوگ دہشتگردی سمیت ہر خوف کو پسِ پشت ڈال کر تبدیلی کی اْمید لیے ووٹ ڈالنے اپنے گھروں سے نکلے اور ان میں کافی جوش و خروش بھی پایا گیا۔

(فریال علی ، خصوصی نمائندہ ڈبلیو ایم سی برائے کراچی )

حلقوں کی نئی حدبندیاں آخر کرچی میں ہی اس کا الحاق کیوں؟

سپریم کورٹ نے کراچی کی مخصوص صورتحال کا حوالہ دیتے ہو ئے نسلی جھگڑوں اور زمین کے تنازعات کے سلسلے کو ختم کرنے کے لیے انتظامی یونٹ کی حدود اور دوسری کمیونٹیز کی نئی حد بندیاں کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ” نو گو ایرئز”کو ختم کیا جاسکے۔ اس نئی حلقہ بندیوں سے علاقوں سے سیاسی اجارہ داری ختم کرنے ،آبادی کو یک رنگ بنانے اور علاقوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرانے میں مدد ملے گی ۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہو ئے ملک کے معاشی حب کراچی میں حلقہ بندیوں کے لیے ووٹر لسٹوں کی از سر نو تصدیق کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔کراچی میں ووٹر لسٹوں کی از سر نو تصدیق اور حلقوں کی نئی حد بندیوں کا عمل شروع ہو تے ہی شر پسند عناصر سر گرم ہو گئے ہیں ۔کراچی میں کچھ سیاسی عناصر نے لوگو ں سے شناختی کارڈ لینا شروع کر دئیے ہیں ۔رہائشیوں نے الیکشن کمیشن کو شکایت کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے برعکس عملے کے ساتھ سیکورٹی اہلکار ساتھ نہیں ہیں ۔الیکشن کمیشن نے ایک اعلانیہ کے ذریعے، کراچی میں لوگو ں سے شناختی کارڈ وصول کرنے کا سختی سے نوٹس لیا ہے ۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کراچی کے شہریوں سے غیر قانونی طورپر شناختی کارڈ لیے جارہے ہیں ۔ ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شہری متعلقہ حکام کے علاوہ شناختی کارڈکسی کے حوالے نہ کریں اور تصدیقی عملے کے ساتھ تعاون کریں الیکشن کمیشن کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ تصدیقی عملے کو شناختی کارڈ اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہے ۔
ووٹر فہرستوں کی تصدیقی عمل دس جنوری سے شروع ہوا ہے جو یکم فروری تک جاری رہے گا ۔سندھ کے الیکشن کمیشنر محبوب انور نے میڈیا کو بتایا تھا کہ کراچی میں خانہ شماری کا مکمل کام چودہ جنوری تک مکمل ہو جائے گا اور اس کے بعد پندرہ جنوری سے کراچی میں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اور نئے ووٹر ز کا اندراج کا کام شروع کیا جائے گا جو یکم فروری تک جاری رہے گا ۔ الیکشن کمیشن کا عملہ ووٹر کے گھر تین بار رابطہ کریگا اور اگر اس دوران بھی تصدیق کا عمل مکمل نہیں ہو پایا تو ووٹ کا لعدم قرار دیا جائے گا ۔نو جنوری کو پریس کانفرنس کے دوران صوبائی الیکشن کمیشنر محبوب انور نے بتا یا تھا کہ تصدیق کے عمل میں متحدہ قومی مومنٹ سمیت تمام جماعتیں تعاون کریں گی۔انہو ں نے تمام اسٹیک ہولڈرز ، کراچی کے شہریوں اور سول سو سائٹی سے اپیل کی کہ الیکشن کمیشن کے عملے کے ساتھ تعاون کیا جائے کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر مقررہ وقت تک یہ کام ممکن نہیں۔
وزرات دفاع نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر کراچی میں ہونے والے ووٹر ز کی تصدیقی عمل میں الیکشن کمیشن کے عملے کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے فو ج تعنیات کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کے لیے عملے کے ساتھ فوج کے علاوہ فرنٹےئر کور اور رینجرز کے اہلکار بھی سیکیورٹی کی غرض سے عملے کے ہمراہ ہو نگے ،تاہم فوجی جوان گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق نہیں کریں گے ۔
سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا حکومت نے کراچی میں ہو نے والی تصدیقی عمل کا سو دہ کر لیا ہے ؟ اس بات کا خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا جارہا تھا کہ فوج کو ووٹروں کی تصدیق و اندراج کے عمل سے دور رکھنے کے حکم سے نہ صرف شفاف ووٹر فہرستوں کی تیاری کے امکانات ختم ہونگے بلکہ از سر نو ووٹر لسٹوں کی تیاری کا عمل سیاسی اثر و رسوخ کی پھینٹ چڑھنے اور فائدے ضائع ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے ۔اس فیصلے سے ازسر نو تیار کی جانے والی فہرستیں ایک بار پھر مشکوک ہو جائیں گی۔
دنیا بھر میں باقی جمہوریتی ممالک میں ہر دس سال بعد یہ عمل دہرایا جاتا ہے ۔ملک میں آخری مردم شماری 1998ء میں ہوئی تھی اور نئی گزشتہ پانچ برس سے ملتوی ہو رہی ہے ۔ ۔محکمہ مردم شماری سینس ڈپارٹمنٹ نے کراچی میں انتخابی حلقوں کی ازسر نو حد بندی کے لیے تمام نقشے اور تفصیلات الیکشن کمیشن کے حوالے کر دی تھیں تاہم آئندہ انتخابات سے قبل مردم شماری کرانے سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ احکام کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہو ئے عام انتخابات سے قبل کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کرنا قابل عمل ہے ۔ یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں سے قبل ملک بھر میں مردم شماری کا مطالبہ کیا تھا۔
متحدہ قومی موومنٹ نے سپریم کو رٹ کے فیصلے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے حکم کے خلاف کورٹ میں اپیل بھی دائر کی تھی۔عدالت عظمیٰ کی پانچ رکنی لارجر بینج نے کراچی امن و امان کیس کی سماعت کے دوران کراچی میں نئی انتخابی حلقہ بندیاں کرنے کا حکم دیا تھا ۔ایم کیو ایم کے موقف کو بیان کرتے ہو ئے بیریسٹر فراغ نسیم نے بیان دیا تھا کہ پارٹی کو کورٹ کے حکم پر کو ئی اعتراضات نہیں ہے لیکن قانون کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کا نفاذمردم شماری کے بغیر عمل میں نہیں لایا جاسکتا ۔ایم کیو ایم نے اپنا موقف واضح کرتے ہو ئے کہا تھا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ کراچی میں امن و امن کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے حلقوں کی نئی حد بندیاں کرنا ضروری ہے۔
سپریم کوٹ کے پانچ رکنی پینج نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیاں مشترکہ آبادی پر مشتمل ہو نا چاہیے تا کہ سیاسی پولرائزشن سے بچا جا سکے ۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کراچی میں ووٹر لسٹوں کی از سر نو تصدیق کی جائے ۔سیاسی جماعتوں نے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے لیے کچھ تجاویز بھی پیش کی تھیں جن میں کچھ حلقوں کو کم کرنے کچھ کو بڑھانے کی تجاویز دی تھی ۔سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں موجودہ حد بندیاں منصفانہ طریقے سے نہیں کی گئی ہیں کچھ علاقوں کو جو اس سے ملحقہ نہیں تھے انھیں صرف مخصوص سیاسی جماعت یا گروپ کے فائدے کے لیے ملایا گیا ہے ۔
آرٹیکل 222الیکٹورل لاء میں درج ہے کہ” ا لیکشن سے پہلے الیکشن کمیشن کی طرف سے حلقوں کی حد بندی کی جائے گی۔کمیشن کسی بھی وقت ترامیم تبدیل کرنے کی تجویزاور حلقوں کی حدو د بندیوں کو تبدیل کرسکتا ہے جہاں یہ ضروری سمجھے وہاں ۔1974کے “the delimtation of constituencies act”کے مطابق حد بندیاں آخری مردم شماری کی بنیاد پر کی جائیں گی ۔
باکس آئیٹم
بلا شبہ سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے عدالتی فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ شفاف الیکشن کی خواہ ہے ۔لیکن سپریم کورٹ نے صرف کراچی میں دھاندلی اور سیاسی پولرائزشن روکنے کے لیے متحرک کیو ں دکھائی د ے رہی ہے بلاشبہ ووٹروں کی از سر نو تصدیق اور نئی حلقہ بندیاں قابل تعریف اقدامات ہیں لیکن ان کا نفاذ پو رے ملک میں کیو ں نہیں کیا گیا خانہ شماری کا عمل صرف کراچی تک ہی کیو ں محدو د رکھا گیا ہے اور جو جماعتیں کراچی میں حلقہ بندیوں کی از سر نو تصدیق کی خواہش مند ہیں وہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں اس کا نفاذ کیو ں نہیں چاہتی جب کے عوام پورے پاکستان میں غیر جانبداررنہ اور شفاف الیکشن کے خواہ ہیںKarachi4

سیاسی بے یقینی کی دھند کے آگے کیا ہے؟

موسم سرما عروج پر ہے۔ شاہراہیں تودھند کی لپیٹ میں ہیں لیکن ملک کے سیاسی موسم پر بھی انجانی سیاسی دھند چھارہی ہے۔بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے اور ایک انجانا سا احساس ذہنوں میں پیدا ہو رہا ہے کہ کچھ تو ہونے والا ہے جسے کوئی بتانے والا نہیں یا بتانے کو تیار نہیں یا بتانے میں پہل کرنے کو تیار نہیں۔ سال دو ہزار تیرہ عام انتخابات کا سال ہے۔ اگر چہ ابھی الیکشن شیڈول کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا ہے لیکن نہ جانے کیوں سیاسی حلقے برملا اس بات کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ عام انتخابات ملتوی کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں یا جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کے بارے میں کہیں پلان بن رہا ہے۔ یہ باتیں گلی کوچوں میں نہیں ہو رہیں بلکہ ملک کی مقتدر شخصیات اور سیاست دان ان خدشات کا کھلے عام اظہار کر رہے ہیں۔ اور ایسی کسی صورتحال میں مزاحمت کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔ اپوزیشن حکومت پر شک کر رہی ہے کہ وہ انتخابات کا التواء چاہتی ہے اور حکومت نہ جانے کس پر اپنے شکوک کا اظہار کر رہی ہے لیکن حسب دستور کوئی پاکستانی عوام کو بتانے کی زحمت نہیں کر رہا کہ ان سیاست دانوں کی دانست میں جمہوری نظام لپیٹنے کی سازشیں آخر کہاں تیار ہو رہی ہے اور کون کر رہا ہے۔ آخر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کیوں یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہونگے، ایک دن کی تاخیر بھی نہیں ہوگی اگر” کسی“ کے دل میں خام خیالی ہے کہ وہ جمہوریت کو پٹری سے اتار دے گا یا جمہوری نظام کیخلاف کسی سازش میں کامیاب ہوجائے گا تو میں واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ جمہوری نظام کو ڈی ریل نہیں کرسکے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آئندہ چند ماہ بہت اہم ہیں کیونکہ جمہوری حکومت کی مدت پوری ہو رہی ہے اور آئندہ چند ماہ بعد عام انتخابات منعقد ہوں گے اور انتقال اقتدار کا مرحلہ آئیگا۔ چند دن پہلے صدر آصف زرداری نے محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی میں اپنے خطاب میں ان ہی خدشات کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ مصری ماڈل ملک میں نہیں آنے دیا جائے گا۔ مصری ماڈل کون چاہتا ہے اور کون لانا چاہتا ہے اور کیسے لانا چاہتا ہے کسی نے ان سے ابھی تک نہیں پوچھا۔ سیاسی جماعتیں یا تو سیاسی بے یقینی کا شکار ہو رہی ہیں یا وہ آنے والے متوقع حالات کو بھانپتے ہوئے نئی پیش بندیوں میں مصروف ہیں۔ دن بدن ملک میں نئی سیاسی صف بندیاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں اور آگے آگے نہ جانے کیا کیا دیکھنے کو ملنے والا ہے۔ لبرل سیاست کرنے والی جماعتیں زور پکڑتے مذہبی اتحادوں سے پینگیں بڑھا رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک مذہبی اتحاد سے انتخابی اتحاد کی کوشش کررہی ہے اور حیرت انگیز طور پر ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سے دور اور طاہر القادری سے قریب ہو رہی ہے ۔ ایم کیو ایم طاہر القادری کے انقلابی لانگ مارچ میں بھی شامل ہو رہی ہے ۔تئیس دسمبر کو مینار پاکستان پر کودنے والے طاہر القادری کہہ رہے ہیں کہ ہماری بقاء 14جنوری کے عوامی لانگ مارچ پر ہے اوراللہ تعالیٰ کی طاقت کے سوا اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ الطاف حسین قائد اعظم کے لبرل پاکستان کی باتیں کرتے کرتے اچانک ملک میں خلافت راشدہ جیسا نظام رائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ مروجہ انتخابی طریقہ کار سے تو ایسا نظام قائم نہیں ہو سکتا تو وہ آخر کیا چاہ رہے ہیں؟ اور پارلیمنٹ سے باہر سیاسی عمل سے دور طاہر القادری کی جماعت یا کسی اور مذہبی گروپ سے انہیں سیاسی طور پر کیا حاصل ہونے والا ہے؟ اس لانگ مارچ کے پیچھے کون ہو گا؟ کیا کہیں سے کوئی پکا اشارہ ملا ہے؟ طاہر القادری اور ایم کیو ایم ملک میں جن اصلاحات کی باتیں کرتے ہیں اور جن برائیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں وہ یا تو پالیمنٹ کی مدد سے ہو سکتی ہیں یا کسی سخت گیر ڈکٹیٹر کے کہنے سے۔۔ مروجہ سیاسی نظام میں تو ایسی پارلیمنٹ کا آنا ممکن نہیں جو یہ سب کر سکے تو کیا لانگ مارچ کا مقصد وہی تو نہیں جس کا اظہار سب سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں؟ کیا دانستہ لبرل سیاسی جماعتوں کو کمزور اور فرقہ ورانہ مذہبی اتحاووں کی سر پرستی کی جا رہی ہے؟ کیا سیاسی جماعتیں شدت پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک رہی ہیں؟ کیا اسلام آباد میں کوئی التحریر اسکوائر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے؟ پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام میں مصری ماڈل کا خیال کہاں سے آیا؟ کیا چالیس لاکھ کی عوامی پارلیمنٹ کے نام پر کسی مخصوص شخص کو بطور نگراں وزیر اعظم مسلط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟ ملک معاشی تباہی کے دہانے پر ہے، ہر طرف سے بد ترین دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ دہشت گردوں کو روکنے والا کوئی نہیں۔ افواج پاکستان کے سپہ سالار کہتے ہیں کہ ملک کو ایسے دشمن کا سامنا ہے جس کے خدوخال واضح نہیں۔ یعنی ملک کے دفاع کے لئے انہیں اس غیر روایتی دشمن کی واضح پہچان نہیں جس سے انہیں لڑنا ہے۔ ملالہ پر حملے اور بشیر بلور کی شہادت کے موقع پر پوری قوم اپنے دشمنوں کو پہچانتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کے لئے متحد تھی لیکن اگر رکھوالوں کو اس دشمن کی ابھی تک پہچان نہیں ہو رہی تو اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی۔ سیاسی مایوسی کی اس دھند کے آگے جو انتہا پسندی کی گہری کھائی ہے لگتا ہے قوم اس میں اجتماعی خودکشی کرنے جا رہی ہ

قومی منظر-شیخ اسلام سے قومی رہنما تک کا سفر علامہ طاہرالقادری کے ہاتھوں اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال برپا

طاہر القادری انیس فروری 1951میں پاکستان کے تاریخی شہرجھنگ میں پیدا ہو ئے وہ اپنے وقت کے مشہور روحانی اور دانشمند شخصیت شیخ ڈاکٹر فرید الدین القادری کے بیٹے ہیں ۔بارہ سال کی عمرسے اپنی ابتدائی علوم اسلامیہ کی تعلیم انھوں نے مدینہ سے حاصل کی ۔1970ء میں انھوں نے پنجاب یو نیورسٹی سے آنرز کی ڈگری حاصل کی ۔1972 ء میں انھوں نے پنجاب یو نیورسٹی سے ہی اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اورگولڈمیڈ ل حاصل کیا ۔1974ء میں انھوں نے لاء کی ڈگری حاصل کی ۔1978ء میں انھوں نے پنجاب یو نی ورسٹی میں بطور لاء لیکچرارکے فرائض سر انجام دینا شروع کیے اور ساتھ ساتھ اسلامک لاء میں اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی اس کے علاوہ وہ پنجاب یو نیورسٹی کے سینیٹ اور اکیڈمک کونسل آف پنجاب کے ممبر بھی رہے ۔بہت مختصر عرصے کے دوران وہ ایک بہت مشہور اسلامک فقہہ اسکالر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ۔شیخ السلام نے 1981ء میں مہناج القران کی سنگ بنیاد رکھی اور اس کا ہیڈ کواٹر لاہو ر میں قائم کیا تیس سال کے قلیل عرصے میں مہناج القران کی شاخیں دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں اور نوے سے زائد ممالک میں موجو ہیں ۔یہ دنیا بھر میں ایک غیر سرکاری طور پر سب سے بڑی آرگنائزیشن ہے۔طاہرالقادری کو پہلاعروج 80ء کی دہائی میں ایک مذہبی اسکالر اور مقرر کے طور پر نصیب ہو ا ۔مذہب کی طرف مائل مسلمانوں کے لیے طاہر القادری مدرسوں سے تعلیم و تربیت یافتہ سخت گیر علماء کی نسبت ایک متوازن مسلم اسکا لر کے روپ میں سامنے آئے ۔ ابتداء میں طاہر القادری کو میاں محمد نواز شریف کی تعمیر کردہ مساجد میں خطبات کے لیے مدعو یا کیا جاتا تھا ۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب میاں نواز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو میاں نواز شریف نے منہاج القران کے مرکز کی تعمیر کے لیے لاہو ر میں معمولی قیمت پر زمین کا ایک وسیع حصہ مختص کیا اور عطیات بھی دیے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ شریف خاندان مذہبی طبقے کے ووٹوں کو یقینی بنانے کے لیے ان کی شخصیت کو استعمال کرناچاہتا تھا اور طاہر القادری کی علیحدگی کی یہ ہی وجہ تھی کیو نکہ طاہر القادری کے اپنے سیاسی عزائم تھے ۔اور اس ہی مقصد کے تحت طاہر القادری نے 1989ء میں پا کستان عوامی تحریک کے نام سے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دیتے ہو ئے سیاست کے میدان میں عملا قدم رکھا لیکن وہ اپنا سیاسی کیرےئر مضبوط بنانے میں ناکام رہے ۔ طاہر القادری اس وقت دوبارہ فعال ہو ئے جب 1998ء میں پرویز مشرف نے اقتدارسنبھالا۔طاہر القادری صاحب نے ابتدائی طور پر جنرل مشرف کی حمایت کی ۔2002ء کے عام انتخابات میں انھوں نے قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتی اور 2004 میں انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفی دے دیا ۔کہا جاتا ہے کہ انھیں وزیر مذہبی امور بنانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی جسے انھوں نے مسترد کر دیا تھا ۔2005میں انھیں کینیڈا کی شہریت مل گئی ۔اس عرصے کے دوران طاہر القادری نے اسلام اور سماجی موضوعات پر خطبات دینے اور کتابوں کی تصنیف سے اپنی بین الاقوامی امیج بنایا ۔انھیں تما م دنیا میں ایک سچے مذہبی رہنما کے طور پر سراہا گیا ۔ مغربی دنیا میں رہنے والے مسلمان او ر موڈریٹ ڈاکٹر طاہر القادری کا زیادہ احترام کرتے ہیں کیوں کہ انھوں نے اپنی پہچان شیعہ سنی کی تفریق سے بلند ہو کر بنائی ان کی بین الاقوامی شہرت کا ایک سبب اسلامی شدد پسندوں کے خلاف فتوی دینا ہے انھوں نے دہشت گردی کی پر زور مذمت کی جس کی وجہ سے مغربی میڈیا میں انکے خیالات کو بے پنا ہ پزیرائی ملی ۔ اپنی اس پہچان کے ساتھ انھوں نے پاکستانی سیاست میں دوبار ہ قدم رکھا