قومی منظر-شیخ اسلام سے قومی رہنما تک کا سفر علامہ طاہرالقادری کے ہاتھوں اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال برپا

طاہر القادری انیس فروری 1951میں پاکستان کے تاریخی شہرجھنگ میں پیدا ہو ئے وہ اپنے وقت کے مشہور روحانی اور دانشمند شخصیت شیخ ڈاکٹر فرید الدین القادری کے بیٹے ہیں ۔بارہ سال کی عمرسے اپنی ابتدائی علوم اسلامیہ کی تعلیم انھوں نے مدینہ سے حاصل کی ۔1970ء میں انھوں نے پنجاب یو نیورسٹی سے آنرز کی ڈگری حاصل کی ۔1972 ء میں انھوں نے پنجاب یو نیورسٹی سے ہی اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اورگولڈمیڈ ل حاصل کیا ۔1974ء میں انھوں نے لاء کی ڈگری حاصل کی ۔1978ء میں انھوں نے پنجاب یو نی ورسٹی میں بطور لاء لیکچرارکے فرائض سر انجام دینا شروع کیے اور ساتھ ساتھ اسلامک لاء میں اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی اس کے علاوہ وہ پنجاب یو نیورسٹی کے سینیٹ اور اکیڈمک کونسل آف پنجاب کے ممبر بھی رہے ۔بہت مختصر عرصے کے دوران وہ ایک بہت مشہور اسلامک فقہہ اسکالر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ۔شیخ السلام نے 1981ء میں مہناج القران کی سنگ بنیاد رکھی اور اس کا ہیڈ کواٹر لاہو ر میں قائم کیا تیس سال کے قلیل عرصے میں مہناج القران کی شاخیں دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں اور نوے سے زائد ممالک میں موجو ہیں ۔یہ دنیا بھر میں ایک غیر سرکاری طور پر سب سے بڑی آرگنائزیشن ہے۔طاہرالقادری کو پہلاعروج 80ء کی دہائی میں ایک مذہبی اسکالر اور مقرر کے طور پر نصیب ہو ا ۔مذہب کی طرف مائل مسلمانوں کے لیے طاہر القادری مدرسوں سے تعلیم و تربیت یافتہ سخت گیر علماء کی نسبت ایک متوازن مسلم اسکا لر کے روپ میں سامنے آئے ۔ ابتداء میں طاہر القادری کو میاں محمد نواز شریف کی تعمیر کردہ مساجد میں خطبات کے لیے مدعو یا کیا جاتا تھا ۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب میاں نواز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو میاں نواز شریف نے منہاج القران کے مرکز کی تعمیر کے لیے لاہو ر میں معمولی قیمت پر زمین کا ایک وسیع حصہ مختص کیا اور عطیات بھی دیے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ شریف خاندان مذہبی طبقے کے ووٹوں کو یقینی بنانے کے لیے ان کی شخصیت کو استعمال کرناچاہتا تھا اور طاہر القادری کی علیحدگی کی یہ ہی وجہ تھی کیو نکہ طاہر القادری کے اپنے سیاسی عزائم تھے ۔اور اس ہی مقصد کے تحت طاہر القادری نے 1989ء میں پا کستان عوامی تحریک کے نام سے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دیتے ہو ئے سیاست کے میدان میں عملا قدم رکھا لیکن وہ اپنا سیاسی کیرےئر مضبوط بنانے میں ناکام رہے ۔ طاہر القادری اس وقت دوبارہ فعال ہو ئے جب 1998ء میں پرویز مشرف نے اقتدارسنبھالا۔طاہر القادری صاحب نے ابتدائی طور پر جنرل مشرف کی حمایت کی ۔2002ء کے عام انتخابات میں انھوں نے قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتی اور 2004 میں انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفی دے دیا ۔کہا جاتا ہے کہ انھیں وزیر مذہبی امور بنانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی جسے انھوں نے مسترد کر دیا تھا ۔2005میں انھیں کینیڈا کی شہریت مل گئی ۔اس عرصے کے دوران طاہر القادری نے اسلام اور سماجی موضوعات پر خطبات دینے اور کتابوں کی تصنیف سے اپنی بین الاقوامی امیج بنایا ۔انھیں تما م دنیا میں ایک سچے مذہبی رہنما کے طور پر سراہا گیا ۔ مغربی دنیا میں رہنے والے مسلمان او ر موڈریٹ ڈاکٹر طاہر القادری کا زیادہ احترام کرتے ہیں کیوں کہ انھوں نے اپنی پہچان شیعہ سنی کی تفریق سے بلند ہو کر بنائی ان کی بین الاقوامی شہرت کا ایک سبب اسلامی شدد پسندوں کے خلاف فتوی دینا ہے انھوں نے دہشت گردی کی پر زور مذمت کی جس کی وجہ سے مغربی میڈیا میں انکے خیالات کو بے پنا ہ پزیرائی ملی ۔ اپنی اس پہچان کے ساتھ انھوں نے پاکستانی سیاست میں دوبار ہ قدم رکھا

About wmc